آسٹریلیا میں ہونے والی نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال سے 82 مختلف پیشے متاثر ہو سکتے ہیں۔
انتظامی، دفتری، خدماتی اور بعض پیشہ ورانہ شعبے سب سے زیادہ تبدیلی کی زد میں ہیں، جبکہ تخلیقی صلاحیت، تجزیاتی سوچ اور انسانی رابطے پر مبنی ملازمتوں کی طلب برقرار رہنے کا امکان ہے۔
آسٹریلوی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے 82 مختلف پیشے متاثر ہو سکتے ہیں، خصوصاً انتظامی، پیشہ ورانہ اور خدماتی شعبوں میں، جہاں یہ ٹیکنالوجی کام کی نوعیت کو نئی شکل دے رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ ملازمتیں جو زیادہ تر معمول کے اور دہرائے جانے والے کاموں پر مشتمل ہیں، تبدیلی کے خطرے سے زیادہ دوچار ہیں جبکہ تخلیقی صلاحیت، تجزیاتی سوچ اور انسانی مہارتوں پر مبنی پیشوں کی طلب برقرار رہنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب ماہرِ معاشیات ڈیوڈ رومبنز نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت کا بنیادی کردار ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت اور آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔
ان کے مطابق تیزی سے بدلتی ہوئی لیبر مارکیٹ میں کامیابی کے لیے انسانی مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج ناگزیر ہے۔
مصنوعی ذہانت کی وجہ سے بہت سی ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔
زیادہ متاثر ہونے والی ملازمتیں
- انتظامی معاون (Administrative Assistants)
- ڈیٹا انٹری آپریٹرز
- سیکرٹریز اور آفس کلرک
- کال سینٹر اور کسٹمر سروس نمائندے
- بک کیپرز اور اکاؤنٹنگ کلرک
- بینکنگ اور انشورنس پروسیسنگ اسٹاف
- ٹریول ایجنٹس
- مارکیٹنگ اور سیلز سپورٹ اسٹاف
- پیرالیگل اور قانونی معاونین
- ابتدائی سطح کے رپورٹرز اور مواد نویس (Content Writers)
- انسانی وسائل (HR) کے بعض انتظامی عہدے
- مترجمین کے بعض روایتی شعبے
- ٹیلی مارکیٹنگ اسٹاف
درمیانے درجے تک متاثر ہونے والی ملازمتیں
- صحافی
- اساتذہ
- سافٹ ویئر ڈویلپرز
- مالیاتی تجزیہ کار
- گرافک ڈیزائنرز
- مارکیٹنگ ماہرین
- وکلا
- ڈاکٹرز اور طبی ماہرین
ان شعبوں میں AI معاون کردار ادا کرے گا، لیکن انسانی نگرانی، فیصلہ سازی اور مہارت کی ضرورت برقرار رہے گی۔
کم متاثر ہونے والی ملازمتیں
وہ پیشے جن میں انسانی رابطہ، جذباتی ذہانت، تخلیقی صلاحیت یا جسمانی مہارت درکار ہوتی ہے:
- ڈاکٹر اور نرسیں
- ماہرِ نفسیات
- سماجی کارکن
- اساتذہ (خصوصاً ابتدائی تعلیم)
- الیکٹریشن
- پلمبر
- مکینک
- تعمیراتی کارکن
- ہیئر ڈریسر اور بیوٹیشن
- نگہداشت اور بزرگوں کی دیکھ بھال سے وابستہ عملہ
پاکستانی ملازمین کے لیے اہم شعبے
سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے درج ذیل شعبے نسبتاً محفوظ اور مستقبل میں زیادہ طلب والے سمجھے جا رہے ہیں:
- مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس
- سائبر سکیورٹی
- کلاؤڈ کمپیوٹنگ
- ہیلتھ کیئر
- انجینئرنگ
- پروجیکٹ مینجمنٹ
- ڈیجیٹل مارکیٹنگ
- تعلیم و تربیت
- قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy)
- روبوٹکس اور آٹومیشن
مستقبل کا رجحان
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ 5 سے 10 برسوں میں AI انسانوں کی جگہ نہیں لے گا، بلکہ AI استعمال کرنے والے افراد اُن لوگوں کی جگہ لے سکتے ہیں جو AI استعمال نہیں کرتے۔
اسی لیے نئی مہارتیں سیکھنا، خاص طور پر AI ٹولز، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، ملازمت کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔