بچوں کی شخصیت میں شفقت اور نرمی کا عنصر فطری ہو سکتا ہے، تاہم بیشتر بچے اسے تجربات اور والدین کی رہنمائی سے سیکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ویب سائٹ ’یور ٹینگو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق والدین کا کردار بچوں کی جینیاتی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں چھوٹی عمر سے ہی دوسروں کے ساتھ حسن سلوک سکھانے میں انتہائی اہم ہے۔
ذاتی ہمدردی کی اہمیت
شفقت کا آغاز خود سے ہوتا ہے۔ والدین اگر اپنی ذات کے ساتھ نرمی برتیں گے تو بچے بھی اسے اپنائیں گے۔
لیڈرشپ کوچ کویتا میلانی کے مطابق اپنی خامیوں کو انسانی فطرت مان کر دوستوں کی طرح خود سے مخاطب ہونا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہی دراصل خود سے ہمدردی ہے۔
مثبت اقدار کی عملی مشق
والدین بچوں کو چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ یعنی جب بچے کسی کو تحفہ دیں یا کسی کی تعریف کریں، تو اس عمل پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ عملی طور پر دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار بچوں کو یہ رویہ اپنانے میں مدد دیتا ہے۔
جذباتی ہمدردی کا فروغ
ماہرین کا مشورہ ہے کہ بچوں کو دوسروں کے دکھ سکھ کا احساس دلایا جائے۔ انہیں یہ سمجھائیں کہ کسی کو نیچا دکھانا یا تعصب برتنا غیر انسانی ہے۔
اس کے بجائے بچوں کو اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں اور بڑی عمر کے افراد کے ساتھ احترام اور محبت سے پیش آنے کا عادی بنائیں۔
جذبات پر قابو پانا
غصہ، حسد یا مایوسی انسانی جذبات ہیں، لیکن ان کا اظہار ہمیشہ مناسب نہیں ہوتا۔
والدین بچوں کو سکھائیں کہ جذباتی کیفیت میں گہری سانسیں لیں، 10 تک گنتی گنیں یا کچھ دیر کے لیے جگہ بدل لیں تاکہ ٹھنڈے دماغ سے دوبارہ خوش اخلاقی کے ساتھ بات چیت کر سکیں۔
مثبت سوچ اور حوصلہ افزائی
بچوں کو غلطیوں پر شرمندہ کرنے کے بجائے اچھے رویے پر سراہنا زیادہ مؤثر ہے۔
نفسیات کے ماہرین کے مطابق بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ اپنی توجہ کامیابی، خوشی اور پرسکون سوچ پر مرکوز رکھیں، جس سے ان کی ذہنی نشوونما مثبت سمت میں ہوتی ہے اور وہ خود اعتمادی حاصل کرتے ہیں۔
مستقبل میں کامیابی کی ضمانت
شفقت محض اخلاق نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے جو مضبوط سماجی تعلقات کا باعث بنتا ہے۔
آج کل کے ڈیجیٹل دور اور بڑھتے ہوئے سائبر بلنگ کے رجحانات میں یہ ضروری ہے کہ بچوں کو انتقامی رویوں سے بچا کر محبت اور احترام کا درس دیا جائے، کیونکہ ایک مسکراہٹ کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔
شفقت کا انتخاب ایک شعوری فیصلہ ہے جو بچوں کو معاشرے کا ایک ذمہ دار اور ہمدرد فرد بناتا ہے۔
والدین کی جانب سے فراہم کردہ یہ تربیت نہ صرف ان کے ذاتی تعلقات کو مستحکم کرتی ہے بلکہ انہیں ذہنی سکون اور باہمی احترام پر مبنی ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے کے قابل بناتی ہے۔