ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی میٹا نے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے لیے پیڈ سبسکرپشنز کے اعلان کے ساتھ ایک انتہائی متنازع فیچر متعارف کرایا ہے۔
مزید پڑھیں
رپورٹس کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت اب صارفین دوسروں کی انسٹاگرام اسٹوریز، اُن کی فہرست میں ظاہر ہوئے بغیر مکمل طور پر خفیہ طور پر دیکھ سکیں گے۔
یہ سہولت کمپنی کے نئے ’انسٹاگرام پلس‘ نامی پیڈ سبسکرپشن پیکیج کا حصہ ہوگی، جس کا مقصد صارفین کو اضافی خصوصیات فراہم کرنا ہے۔
گے، جبکہ اس سے قبل یہ سہولت صرف ان آفیشل تھرڈ پارٹی ٹولز کے ذریعے دستیاب تھی۔
فلپائنی اخبار ’انکوائرر‘ کی ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق اس فیچر کی آزمائش رواں سال کے آغاز میں فلپائن، جاپان اور میکسیکو میں محدود سطح پر کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ انسٹاگرام اسٹوریز کو گمنام رہ کر دیکھنا کوئی بالکل نیا تصور نہیں ہے کیونکہ کئی سالوں سے مختلف براؤزر ایکسٹینشنز اور بیرونی ایپس یہ سہولت فراہم کر رہی تھیں۔
تاہم میٹا نے اب اسے ان آفیشل حل کے بجائے براہ راست اپنے پیڈ سسٹم میں ضم کر کے ایک باضابطہ شکل دے دی ہے۔
اس نئے فیچر پر انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بعض صارفین اسے پرائیویسی کے لیے ایک بہتر آپشن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس سے اسٹوریز کے ذریعے ہونے والے باہمی تعامل اور شفافیت کا بنیادی مقصد ختم ہو جائے گا۔
دوسری جانب پرائیویسی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ خفیہ طور پر اسٹوریز دیکھنے کی سہولت سے لوگوں کی ڈیجیٹل نگرانی، پیچھا کرنے یا ہراساں کرنے جیسے منفی واقعات کا سراغ لگانا اب پہلے سے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ اپنے سبسکرپشن پلانز میں مزید توسیع کرے گی۔
کمپنی مختلف خطوں میں مصنوعی ذہانت کے نئے لیولز اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے خصوصی فیچرز کی آزمائش بھی جاری رکھے گی تاکہ صارفین کو پلیٹ فارم پر مزید بہتر اور جدید تجربہ مل سکے۔