ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کا حالیہ بیان کہ ’یورپ کو ترکی کی جتنی ضرورت ہے، اس سے کہیں زیادہ ترکی کو یورپ کی ضرورت نہیں ہے‘ محض سیاسی بیان بازی نہیں، بلکہ ایک نئی جغرافیائی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انقرہ اب یورپ کے ساتھ تعلقات کو نئے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
باہمی انحصار کی بدلتی ضروریات
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائیوں کے برعکس سیکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ترکی کی اہمیت یورپی سیکیورٹی ڈھانچے میں بڑھ گئی ہے۔
یوکرین جنگ کے بعد یورپی ممالک اپنی دفاعی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ نیٹو (NATO) میں ترکی کی عسکری حیثیت اسے کسی بھی یورپی سییکورٹی حساب کتاب کا لازمی حصہ بناتی ہے۔
بروکسل اور انقرہ کے درمیان بڑھتی خلیج
مئی 2025 میں یورپی یونین نے 162 ارب ڈالر (150 ارب یورو) کے دفاعی پروگرام ’سیف‘ (SAFE) سے ترکیہ کو دُور رکھا۔
بعد ازاں ’ہورائزن یورپ‘ ریسرچ پروگرام میں بھی ترکیہ کی شرکت کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ اقدامات یورپی سیکیورٹی میں ترکی کی شمولیت پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
قبرص تنازع اور دفاعی خودمختاری
1974 میں قبرص میں ترک مداخلت کے بعد مغربی ہتھیاروں کی پابندیوں نے ترکی کو دفاعی خود انحصاری کی طرف دھکیلا۔
انقرہ اب اپنے دفاعی فیصلوں کو کسی بیرونی دباؤ کا تابع نہیں رکھنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ نے اپنے مقامی دفاعی صنعتی نیٹ ورک کو وسعت دی ہے۔
ترکیہ کی دفاعی صنعت: ایک ابھرتی طاقت
ترکیہ کی دفاعی برآمدات 2025 تک 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ترک ساختہ ڈرون اور جنگی جہازوں نے لیبیا سے لے کر یوکرین تک اپنی افادیت ثابت کی ہے۔
یہ پیشرفت ترکیہ کو ایک صارف کے بجائے ایک فعال دفاعی پارٹنر اور برآمد کنندہ کی حیثیت دیتی ہے۔
یورپ کا سیکیورٹی بحران اور تنہائی
یورپ طویل عرصے سے امریکی سیکیورٹی کی چھتری تلے تھا، لیکن اب وہ خودمختار دفاعی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی تگ و دو میں ہے۔
تاہم یورپی ممالک کے مابین ترجیحات کا فرق اور مشترکہ لائحہ عمل کا فقدان ان کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرتا ہے، جس سے ترکیہ کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔
سیاسی اور سیکیورٹی پہلوؤں کا تصادم
ترکیہ اور یورپ کے درمیان اختلافِ رائے کا بنیادی مرکز خودمختاری کا تصور ہے۔
ترکیہ اپنی قومی خودمختاری کو اولین ترجیح دیتا ہے، جبکہ یورپ سیکیورٹی کو ایک اجتماعی ادارے کے تابع رکھنا چاہتا ہے۔ یہ دو مختلف نظریات ترکیہ اور یورپی یونین کے تعلقات میں تعطل کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ: غیر یقینی شراکت داری
یورپ ترکیہ کو سیکیورٹی اور امیگریشن کے معاملات میں نظر انداز نہیں کر سکتا، جبکہ ترکیہ اپنی معاشی اور ٹیکنالوجیکل ضروریات کے لیے یورپی منڈی کا محتاج ہے۔
یہ باہمی انحصار ہی ان کے مستقبل کے تعلقات کو ایک غیر یقینی کیفیت میں رکھے گا، جہاں تعاون اور مسابقت ساتھ ساتھ چلیں گے۔
موجودہ حالات میں نہ تو ترکیہ یورپ سے مکمل لاتعلقی کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی یورپ ترکیہ کے بغیر اپنے دفاعی و علاقائی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔