یکم جون 2026 کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے قلعہ شقیف کے کھنڈرات پر گولانی بریگیڈ کا پرچم لہرا دیا۔
مزید پڑھیں
اس علامتی اقدام کو اسرائیلی حکومت نے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا، لیکن درحقیقت یہ تل ابیب کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں جاری شدید تزویراتی بحران کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
پراسرار انخلا اور عسکری حقیقت
معارف کے عسکری تجزیہ کار آوی اشکنازی کے مطابق قلعہ شقیف پر قبضے کا دعویٰ زمینی حقائق کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے پیش قدمی دیکھ کر وہاں سے انخلا کر لیا تھا، جس کا مقصد اسرائیلی فوج کو ایک مشکل جغرافیائی علاقے میں الجھا کر وہاں کے دشوار گزار راستوں میں پھنسانا تھا۔
رسد کی ناکامی اور لاجسٹک بحران
کنا نیوز کی سیاسی نامہ نگار جیلی کوہن نے انکشاف کیا کہ دریائے لیطانی پار کرنے کے بعد اسرائیلی فوج کو شدید لاجسٹک مشکلات کا سامنا ہے۔
زمینی راستے بند ہونے کے باعث فضائیہ کو پیراشوٹ کے ذریعے پانی اور ایندھن پہنچانا پڑا، جو فوج کی زمینی پیش قدمی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایران پر ناکامی چھپانے کی کوشش
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے یہ کارروائی ایران کے خلاف اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ایرانی جوہری تنصیبات اور توانائی مراکز پر حملے کرنے سے روک دیا تھا، جس کے بعد نیتن یاہو نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے لبنان کا رخ کیا۔
عسکری کمزوری اور جنگی صورتحال
یدیعوت احرونوت کے عسکری تجزیہ کار رون بن یشائے کے مطابق اسرائیلی فوج کے پاس ڈرونز اور جدید توپ خانے کا کوئی مؤثر جواب نہیں ہے۔
فوج شدید افرادی قلت کا شکار ہے، جس کے باعث 146 ویں ڈویژن کو میدان سے واپس بلانا پڑا اور اب صرف 91 واں ڈویژن وہاں موجود ہے جو کہ کافی نہیں ہے۔
شمالی اسرائیل میں نئی لہر
قلعہ شقیف پر قبضے کے باوجود اسرائیلی شمالی بستیوں میں حالات بہتر نہیں ہوئے، جہاں حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے صفد، کریات شمونہ اور ناہاریہ سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اسی طرح اسپتالوں کے شعبے زیرِ زمین منتقل کر دیے گئے ہیں اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے شمالی اسرائیل ایک مستقل عدم تحفظ کی زد میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام ایک خطرناک سیاسی اور عسکری خلا میں پھنس چکے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کی صورت میں اسرائیلی فوج کو شدید دباؤ میں انخلا کرنا پڑے گا، جو ان کی شکست کے مترادف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ قلعہ شقیف پر لہرایا گیا پرچم فتح نہیں بلکہ اس دلدل کا حصہ ہے جس میں اسرائیل ایک بار پھر مکمل طور پر دھنس رہا ہے۔