اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

زہران ممدانی کا بڑا فیصلہ، اسرائیل پریڈ کا بائیکاٹ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
زہران ممدانی

نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے روایتی اسرائیل ڈے پریڈ میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے فلسطینی حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا، جس پر یہودی حلقوں اور سیاسی مخالفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

تاریخی طور پر اسرائیل کے حق میں منعقد ہونے والی سالانہ ریلی میں شرکت نہ کرکے نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے ایک ایسا سیاسی قدم اٹھایا ہے جس نے امریکہ میں اسرائیل اور فلسطین سے متعلق جاری بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

میئر ممدانی اتوار کو نیویارک میں منعقد ہونے والی سالانہ ’اسرائیل ڈے پریڈ‘ میں شریک نہیں ہوئے، حالانکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ تقریب شہر کے میئرز، گورنرز اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے لیے تقریباً لازمی سمجھی جاتی رہی ہے۔ 

یہ ریلی عام طور پر اسرائیل کے قیام 1948 کی سالگرہ کے موقع پر نکالی جاتی ہے اور اس میں ہزاروں افراد اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے شرکت کرتے ہیں۔

ChatGPT Image 1 يونيو 2026، 01 35 19 م

تاہم ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ 

دو ہفتے قبل ان کے دفتر نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں فلسطینیوں کی ’نکبہ‘ کی یاد منائی گئی تھی۔ 

گزشتہ جمعرات ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی حکومت سے متعلق اپنے مؤقف کو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں البتہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پریڈ کے پرامن انعقاد کے لیے مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

دوسری جانب نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹِش نے، جو یہودی برادری سے تعلق رکھتی ہیں، پریڈ میں شرکت کی۔ 

انہوں نے کہا کہ میئر کا عدم شرکت ان کا ذاتی فیصلہ ہے جبکہ وہ خود فخر کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہو رہی ہیں۔

ChatGPT Image 1 يونيو 2026، 01 49 34 م

مخالفین کی تنقید

ممدانی کی عدم شرکت پر ان کے ناقدین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ 

ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت پر ان کی تنقید بعض اوقات یہود دشمنی کے تاثر کو جنم دیتی ہے۔

لونگ آئی لینڈ کے معروف ربی مارک شناير نے پریڈ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو ’نیویارک کے تمام یہودیوں کے منہ پر طمانچہ‘ قرار دیا۔ 

انہوں نے ممدانی کی جانب سے نکبہ پر جاری کردہ ویڈیو کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ’پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔

نکبہ کی یاد اور فلسطینی مؤقف

ممدانی کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ایک فلسطینی خاتون کی کہانی بیان کی گئی تھی جو 9 برس کی عمر میں اپنے گھر سے بے دخل ہو گئی تھیں۔ 

ویڈیو میں خاتون نے فلسطین سے اپنی جذباتی وابستگی اور وطن کی یاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی پہاڑیاں آج بھی ان کے دل پر نقش ہیں۔

اس ویڈیو نے اسرائیل کے حامی حلقوں میں غصے کو جنم دیا۔ 

ناقدین کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں مسلم اکثریتی ممالک سے یہودیوں کی ہجرت اور ہولوکاسٹ کے تاریخی پس منظر کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ChatGPT Image 1 يونيو 2026، 01 44 33 م

بدلتا ہوا امریکی مؤقف

نیویارک، جو امریکہ میں سب سے بڑی یہودی آبادی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، ماضی میں اسرائیل کے مضبوط ترین حامی سیاسی رہنماؤں کا شہر رہا ہے۔ 

شہر کے بیشتر میئرز اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے رہے ہیں اور متعدد بار اسرائیل کے دورے بھی کرتے رہے ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں امریکی عوام کے ایک حصے میں اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے، خصوصاً غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد یہ رجحان مزید نمایاں ہوا ہے۔

ChatGPT Image 1 يونيو 2026، 01 38 18 م

فلسطینی کاز کی حمایت برقرار

نیویارک کے پہلے مسلمان میئر زہران ممدانی فلسطینی کاز کی حمایت پر مسلسل قائم ہیں۔ 

وہ اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ اسرائیل کو وجود کا حق حاصل ہے، لیکن ان کے مطابق ریاستی نظام ایسا نہیں ہونا چاہیے جو کسی ایک مذہبی یا نسلی گروہ کو دوسروں پر فوقیت دے۔

ساتھ ہی انہوں نے نیویارک میں یہودی برادری کے تحفظ کا بھی عہد کیا ہے اور شہر میں یہود دشمنی کے خلاف کام کرنے والے اداروں اور اقدامات کی حمایت جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔