امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی ریڈار اور ڈرون مراکز پر فضائی حملوں کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے اور آئندہ کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں فریق جنگ بندی کے باوجود جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثوں سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری بالواسطہ مذاکرات کے باوجود میدانِ عمل میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں امریکا نے ایرانی فوجی اہداف پر نئے فضائی حملوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے آج پیر کے روز بتایا ہے کہ امریکی افواج نے ہفتے اور اتوار کو ایران کے دو جزیروں میں واقع ریڈار تنصیبات اور ڈرونز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر انتہائی درست فضائی حملے کیے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایران کی دشمنانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی، جن میں بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو-1 ڈرون کو مار گرانا بھی شامل ہے۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 1, 2026
سینٹکام نے واضح کیا کہ ان حملوں کے دوران کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ ایرانی فضائیہ نے ایک ایسے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جو ان کے بقول جزیرہ سیریک میں مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، تاہم اس اڈے کے مقام کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پہلے ہی امریکا پر 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر چکا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں حملے کیے، جہاں قشم، کیش اور ہرمز جیسے اہم جزائر اور بندر عباس کی بندرگاہ واقع ہیں۔
ایران نے اس موقع پر اپنے حقِ دفاع پر زور دیا، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ ملک پر کسی بھی نئے حملے کا جواب ماضی سے بالکل مختلف اور زیادہ سخت ہوگا۔
U.S. Strikes Iranian Drone and Radar Sites
CENTCOM says the strikes targeted air-defense, radar and drone command facilities on two Iranian islands after the downing of a U.S. MQ-1 drone.
Precision Strikes
U.S. forces hit radar and drone command-and-control sites.
MQ-1 Trigger
Washington says the operation followed Iran’s downing of a U.S. MQ-1 drone.
No U.S. Casualties
CENTCOM reported no injuries among American forces.
What Did the U.S. Target?
Used for monitoring and air-defense operations.
Ground-control stations for UAV operations.
Facilities linked to unmanned aerial threats.
Targets were described as threats to shipping.
Iran’s Counterclaim
Iran’s Revolutionary Guard said its air force struck an airbase allegedly used in a U.S. attack on a communications tower on Sirik Island. Tehran did not disclose the location of the base or provide further operational details.
Diplomacy Under Pressure
- Indirect negotiations continue through mediators.
- Trump reportedly introduced tougher terms into the draft deal.
- Iran says it will not accept an agreement that fails to protect its rights.
- Key disputes include uranium, Hormuz, sanctions and frozen assets.
Escalation Risk Indicators
Military retaliation risk
Hormuz shipping disruption
Diplomatic delay
Full-scale war risk
Why This Matters
The Gulf and Hormuz remain critical to world trade.
Oil and gas supplies face renewed uncertainty.
The current ceasefire is under growing pressure.
New U.S. terms could prolong negotiations.
ادھر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے، جن میں فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشن اور حملہ آور ڈرونز شامل تھے۔
فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے کے مسودے میں مزید سخت ترامیم شامل کی ہیں، جس سے کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت نہ دے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی مذاکرات کار امریکا کے وعدوں پر اعتماد نہیں کرتے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب تک مذاکرات کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچتے، اس وقت تک سامنے آنے والی بیشتر اطلاعات محض قیاس آرائیاں ہیں۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سب سے بڑے اختلافی نکات جوہری پروگرام، اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم، آبنائے ہرمز اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے ہیں۔
یہ جنگ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، اور اس کے اثرات اب بھی عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔