اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

مذاکرات بھی جاری، حملے اور جوابی کارروائی بھی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران کشیدگی

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی ریڈار اور ڈرون مراکز پر فضائی حملوں کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے اور آئندہ کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں فریق جنگ بندی کے باوجود جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثوں سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری بالواسطہ مذاکرات کے باوجود میدانِ عمل میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں امریکا نے ایرانی فوجی اہداف پر نئے فضائی حملوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے آج پیر کے روز بتایا ہے کہ امریکی افواج نے ہفتے اور اتوار کو ایران کے دو جزیروں میں واقع ریڈار تنصیبات اور ڈرونز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر انتہائی درست فضائی حملے کیے۔ 

امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایران کی دشمنانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی، جن میں بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو-1 ڈرون کو مار گرانا بھی شامل ہے۔

سینٹکام نے واضح کیا کہ ان حملوں کے دوران کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ ایرانی فضائیہ نے ایک ایسے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جو ان کے بقول جزیرہ سیریک میں مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، تاہم اس اڈے کے مقام کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پہلے ہی امریکا پر 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر چکا ہے۔ 

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں حملے کیے، جہاں قشم، کیش اور ہرمز جیسے اہم جزائر اور بندر عباس کی بندرگاہ واقع ہیں۔

ایران نے اس موقع پر اپنے حقِ دفاع پر زور دیا، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ ملک پر کسی بھی نئے حملے کا جواب ماضی سے بالکل مختلف اور زیادہ سخت ہوگا۔

U.S.–IRAN MILITARY ESCALATION

U.S. Strikes Iranian Drone and Radar Sites

CENTCOM says the strikes targeted air-defense, radar and drone command facilities on two Iranian islands after the downing of a U.S. MQ-1 drone.

🎯

Precision Strikes

U.S. forces hit radar and drone command-and-control sites.

🛩️

MQ-1 Trigger

Washington says the operation followed Iran’s downing of a U.S. MQ-1 drone.

🛡️

No U.S. Casualties

CENTCOM reported no injuries among American forces.

What Did the U.S. Target?

📡
Radar Sites

Used for monitoring and air-defense operations.

🛰️
Drone Control

Ground-control stations for UAV operations.

🚁
Attack Drones

Facilities linked to unmanned aerial threats.

🌊
Gulf Security

Targets were described as threats to shipping.

Iran’s Counterclaim

Iran’s Revolutionary Guard said its air force struck an airbase allegedly used in a U.S. attack on a communications tower on Sirik Island. Tehran did not disclose the location of the base or provide further operational details.

Diplomacy Under Pressure

  • Indirect negotiations continue through mediators.
  • Trump reportedly introduced tougher terms into the draft deal.
  • Iran says it will not accept an agreement that fails to protect its rights.
  • Key disputes include uranium, Hormuz, sanctions and frozen assets.

Escalation Risk Indicators

Military retaliation risk

Hormuz shipping disruption

Diplomatic delay

Full-scale war risk

Why This Matters

🚢
Global Shipping

The Gulf and Hormuz remain critical to world trade.

🛢️
Energy Markets

Oil and gas supplies face renewed uncertainty.

⚔️
Ceasefire Stress

The current ceasefire is under growing pressure.

🤝
Deal Uncertainty

New U.S. terms could prolong negotiations.

overseaspost.net

ادھر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے، جن میں فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشن اور حملہ آور ڈرونز شامل تھے۔

فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے کے مسودے میں مزید سخت ترامیم شامل کی ہیں، جس سے کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت نہ دے۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی مذاکرات کار امریکا کے وعدوں پر اعتماد نہیں کرتے۔

ChatGPT Image 1 يونيو 2026، 12 16 04 م

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب تک مذاکرات کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچتے، اس وقت تک سامنے آنے والی بیشتر اطلاعات محض قیاس آرائیاں ہیں۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سب سے بڑے اختلافی نکات جوہری پروگرام، اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم، آبنائے ہرمز اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے ہیں۔ 

یہ جنگ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، اور اس کے اثرات اب بھی عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔