اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

نمک اور خوراک کے فضلے سے بجلی پیدا؛ بیٹریوں کی ضرورت ختم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نمک سے بجلی پیدا کرنے والے نئے ماحول دوست جنریٹر کا ماڈل
نمک اور جیلیٹن جیسے سادہ اجزاء سے ایک غیر روایتی برقی جنریٹر تیار کیا گیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

برطانوی ماہرین نے بجلی کی پیداوار اور اسے پائیدار طریقے سے ذخیرہ کرنے کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

مزید پڑھیں

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے پانی کے اندر نمک کو بجلی میں تبدیل کر کے توانائی کی فراہمی کے پیچیدہ مسائل کا مستقل اور آسان حل تلاش کر لیا ہے۔

اس اہم سائنسی تحقیق میں لندن کی کوئین میری یونیورسٹی، یونیورسٹی آف واروک، امپیریل کالج لندن، یونیورسٹی آف ميرکاٹوروم اور مير انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین شامل ہیں۔ 

ان اداروں نے مشترکہ طور پر نمک اور جیلیٹن جیسے سادہ اجزاء سے ایک غیر معمولی اور غیر روایتی برقی جنریٹر تیار کیا ہے، جو عام خوردنی نمک، جیلیٹن اور ایکٹیویٹڈ کاربن کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نظام ماحول میں موجود نمی اور انسانی جسم کی رطوبت کو جذب کر کے اسے براہ راست برقی توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

یہ نیا نظام
روایتی بیٹریوں کو
بار بار بدلنے کی
ضرورت مکمل ختم
کر دے گا۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق پہننے کے قابل سینسرز اور زرعی آلات کے لیے توانائی کے ایسے ذرائع کی ضرورت تھی جو نمی والے ماحول میں کام کر سکیں۔
یہ نیا نظام روایتی بیٹریوں کو بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت کو مکمل طور پر ختم کر دے گا۔تجربات کے دوران اس جنریٹر کے ایک یونٹ نے فضا سے نمی جذب کر کے مسلسل 30 دن تک ایک وولٹ بجلی پیدا کی ہے۔
ماہرین نے جب متعدد یونٹس کو آپس میں جوڑا تو 90 وولٹ اور 5.08 ملی ایمپیئر بجلی حاصل ہوئی جو 40 ایل ای ڈی روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی روایتی بیٹریوں کا بہترین اور ماحول دوست متبادل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونے والے تمام اجزاء غیر زہریلے ہیں۔

اس طریقہ کار سے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے الیکٹرانک فضلے کو کم کرنے اور پائیدار توانائی کے حصول میں مدد ملے گی۔

نمک سے بجلی پیدا کرنے والے نئے ماحول دوست جنریٹر کا ماڈل
یہ نیا نظام روایتی بیٹریوں کو بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت کو مکمل طور پر ختم کر دے گا (فوٹو: انٹرنیٹ)

سائنس دانوں کے مطابق جب نمک اور جیلیٹن کا محلول خشک ہوتا ہے تو یہ خود بخود 3 تہوں پر مشتمل ایک خاص ڈھانچہ بناتا ہے۔

ہوا یا انسانی جلد کی نمی کے رابطے میں آتے ہی یہ ڈھانچہ مادے کے اندر آئنز کی حرکت شروع کر دیتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔

مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر دیمیتریوس باباجورجیو کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد الیکٹرانک مواد کی ڈیزائننگ اور تیاری کے روایتی انداز کو بدلنا تھا۔ 

انہوں نے ثابت کیا کہ سستے اور ماحول دوست اجزاء سے بھی اعلیٰ کارکردگی کے حامل برقی آلات بنانا ممکن ہے۔

کوئین میری یونیورسٹی کے ڈاکٹر مینغ دونگ نے بتایا کہ عام طور پر ہائی وولٹیج کے لیے پیچیدہ مینوفیکچرنگ یا نایاب مواد درکار ہوتا ہے،  تاہم اس تحقیق نے واضح کر دیا کہ سادہ اور پائیدار اجزاء کے استعمال سے بھی بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ مادہ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی جلد کے لیے موزوں سینسر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ 

اس کی برقی آؤٹ پٹ نمی میں معمولی تبدیلی پر ردعمل دیتی ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانی جسم کے فزیولوجیکل سگنلز کو مانیٹر کر سکتا ہے۔