یہ ٹیکنالوجی روایتی بیٹریوں کا بہترین اور ماحول دوست متبادل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونے والے تمام اجزاء غیر زہریلے ہیں۔
اس طریقہ کار سے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے الیکٹرانک فضلے کو کم کرنے اور پائیدار توانائی کے حصول میں مدد ملے گی۔
سائنس دانوں کے مطابق جب نمک اور جیلیٹن کا محلول خشک ہوتا ہے تو یہ خود بخود 3 تہوں پر مشتمل ایک خاص ڈھانچہ بناتا ہے۔
ہوا یا انسانی جلد کی نمی کے رابطے میں آتے ہی یہ ڈھانچہ مادے کے اندر آئنز کی حرکت شروع کر دیتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔
مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر دیمیتریوس باباجورجیو کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد الیکٹرانک مواد کی ڈیزائننگ اور تیاری کے روایتی انداز کو بدلنا تھا۔
انہوں نے ثابت کیا کہ سستے اور ماحول دوست اجزاء سے بھی اعلیٰ کارکردگی کے حامل برقی آلات بنانا ممکن ہے۔
کوئین میری یونیورسٹی کے ڈاکٹر مینغ دونگ نے بتایا کہ عام طور پر ہائی وولٹیج کے لیے پیچیدہ مینوفیکچرنگ یا نایاب مواد درکار ہوتا ہے، تاہم اس تحقیق نے واضح کر دیا کہ سادہ اور پائیدار اجزاء کے استعمال سے بھی بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ مادہ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی جلد کے لیے موزوں سینسر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔
اس کی برقی آؤٹ پٹ نمی میں معمولی تبدیلی پر ردعمل دیتی ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانی جسم کے فزیولوجیکل سگنلز کو مانیٹر کر سکتا ہے۔