اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

واشنگٹن کی سخت شرطیں برقرار، ایران معاہدے سے اب بھی دور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکا نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ صرف امریکی شرائط کی مکمل تکمیل پر ہوگا، جبکہ واشنگٹن نے ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت کا بھی اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔

امریکا نے ایران کے حوالے سے اپنا سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے زور دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے ساتھ اسی صورت میں کسی معاہدے پر دستخط کریں گے جب ایران تمام امریکی شرائط پوری کرے گا۔

یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تنازع شروع ہوئے تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں، جس نے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا کیا اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا۔

مزید پڑھیں

وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل عندیہ دیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں، تاہم پاکستانی ثالثی میں جاری مذاکرات کے حوالے سے متضاد اطلاعات اور بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ جمعہ کو وائٹ ہاؤس کی سچویشن روم میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اہم اجلاس کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ صدر ٹرمپ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جو امریکی مفادات سے مطابقت نہ رکھتا ہو یا ان کی مقرر کردہ سرخ لکیر وں سے متجاوز ہو۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا واشنگٹن کی بنیادی شرط ہے۔

ChatGPT Image 30 مايو 2026، 11 58 23 ص

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ 

سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس جدید اور روایتی دونوں نوعیت کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج خطے میں پوری طرح موجود، متحرک اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ مستقل بنیادوں پر یہ یقین دہانی کرائے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔ 

انہوں نے آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے بلا رکاوٹ اور بلا فیس فوری طور پر کھولنے اور سمندری بارودی سرنگوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

ٹرمپ ایران معاہدہ
ایران نے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری واپسی کو مذاکرات کی اہم شرط قرار دیا

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں رکی ہوئی بحری آمدورفت دوبارہ بحال ہو سکے گی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے افزودہ جوہری مواد کے معاملے کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تعاون سے حل کیا جائے گا، جبکہ مالی معاملات پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔

تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ٹرمپ کے بیانات ’سچ اور جھوٹ کا امتزاج‘ ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا گیا۔

ChatGPT Image 22 مايو 2026، 09 53 57 م
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فائرنگ کے تبادلے نے امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا

ذرائع کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پہلے مرحلے میں 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر جاری کیے جائیں، بصورت دیگر تہران مزید مذاکراتی مراحل میں داخل نہیں ہوگا۔

ایرانی ذرائع نے یہ بھی تردید کی کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز پر عائد فیس ختم کرنے یا ایرانی جوہری مواد کو تباہ کرنے سے متعلق کوئی شق شامل ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تہران کی اولین ترجیح جنگ کا خاتمہ ہے، نہ کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات۔

دریں اثنا، جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو اس ہفتے ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جسے 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سب سے خطرناک کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ 

اس پیش رفت نے کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کی امیدوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔