جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے علاقے گینگ ڈونگ میں دنیا کا پہلا منفرد تفریحی مرکز ’گلیکسی روبوٹ پارک‘ کھول دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
ٹیکنالوجی کمپنی گلیکسی کارپوریشن کے زیر انتظام اس پارک میں جدید ترین ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس کے پاپ موسیقی پر رقص کے شاندار مظاہرے پیش کیے جاتے ہیں۔
ساڑھے 16 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلے اس پارک میں انسانی شکل کے روبوٹس نہ صرف رقص کرتے ہیں بلکہ باکسنگ کے مقابلے، پورٹریٹ سازی اور بطور ویٹر خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔
یہاں آنے والے سیاحوں کو ٹیکنالوجی اور تفریح کا ایک انوکھا اور جدید امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
افتتاحی تقریب میں بچوں کے قد کے برابر روبوٹس نے وگ اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر مشہور اسٹار جی ڈریگن کے گانوں پر رقص کیا۔
اس دوران روبوٹس نے ’ہوم سویٹ ہوم‘ اور ’ایڈوائس‘ جیسے گانوں پر انتہائی مہارت کے ساتھ جسمانی حرکات کا متاثر کن مظاہرہ کیا۔
تقریب کے دوران ایک روبوٹ میں فنی خرابی پیدا ہوئی جسے فوری طور پر اسٹیج سے ہٹا دیا گیا تھا۔
پارک میں داخلی راستے پر روبوٹک ویٹرز اور کھلے مقامات پر مشینی کتے بھی موجود ہیں جو زائرین کے ساتھ کھیل کر انہیں ٹیکنالوجی کا ایک نیا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
پارک میں ایک مشینی راہب مندر میں عبادت کرتا نظر آتا ہے جبکہ ایک روبوٹک بازو زائرین کی تصاویر بناتا ہے۔
پہاڑی کی چوٹی پر قائم باکسنگ رنگ میں زائرین سیمولیشن سسٹم کے ذریعے انسانی شکل کے فائٹر روبوٹس کو خود کنٹرول کر کے ایک دوسرے سے لڑا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گلیکسی کارپوریشن سالانہ ایک ہزار سے زائد روبوٹک کنسرٹس منعقد کرنے اور عالمی دورے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی کا مقصد ان روبوٹس کو جنگ زدہ علاقوں تک پہنچانا ہے جہاں انسانی فنکاروں کا جانا مشکل ہوتا ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کو سستی تفریح فراہم کی جا سکے۔
کمپنی مستقبل میں دنیا کا پہلا روبوٹک فیشن شو منعقد کرنے اور روبوٹس کے لیے ملبوسات کا برانڈ متعارف کروانے پر کام کر رہی ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایک روبوٹ کو سکھائی گئی پرفارمنس فوری طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کے دیگر روبوٹس میں منتقل کی جا سکے گی۔
یاد رہے کہ کے پاپ انڈسٹری پہلے ہی ڈیجیٹل کرداروں اور ورچوئل بینڈز کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی فنکاروں کی جگہ مکمل طور پر دھات اور پلاسٹک کے روبوٹس کو قبول کرنا موسیقی کے مداحوں کے لیے ایک بڑا اور مشکل چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
موسیقی کے نقاد چا وو جن کے مطابق روبوٹک ٹورز ایک معاشی تجربہ ہیں کیونکہ ان میں ہوٹل اور قیام و طعام کے اخراجات نہیں ہوتے۔ کے پاپ کی بصری نوعیت کی وجہ سے روبوٹس کا استعمال دیگر موسیقی کے مقابلے میں یہاں زیادہ موزوں اور آسان محسوس ہوتا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار صرف ٹیکنالوجی یا جی ڈریگن کی نقل اتارنے پر نہیں بلکہ عوام کے ساتھ جذباتی تعلق پر ہے۔
تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کیا یہ روبوٹک پارک ایک مستقل ثقافتی تبدیلی لائے گا یا محض ایک عارضی رجحان ثابت ہوگا۔