بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بٹ کوائن سے منسلک اسپاٹ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) سے 15 تا 28 مئی لگاتار 9 کاروباری سیشنز میں تقریباً 2.8 ارب ڈالر کا سرمایہ نکالا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
جنوری 2024 میں ان فنڈز کے آغاز کے بعد سے یہ سرمایے کے انخلا کا سب سے طویل تسلسل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ریکارڈ اتنا سرمایہ نکل جانا دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی کم ہوتی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فنڈز نے نجی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے
لیے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی تھی، جو اب بٹ کوائن کی طلب کو جانچنے کا ایک کلیدی پیمانہ بن چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جمعہ کی صبح لندن میں بٹ کوائن کی قیمت 73,650 ڈالر کے قریب ٹریڈ ہوتی دکھائی دی، جو اکتوبر میں قائم ہونے والی بلند ترین سطح سے 40 فیصد سے زائد نیچے ہے۔
یاد رہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں شدید گراوٹ کے بعد سے بٹ کوائن اپنی رفتار بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فنڈز میں ہونے والے نقصانات عالمی اسٹاک مارکیٹوں کے رجحان کے برعکس ہیں۔
ایک طرف امریکہ میں ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس نے ریکارڈ سطحیں عبور کی ہیں، وہیں دوسری طرف جنوبی کوریا کا کوسپی اور جاپان کا ٹوپکس انڈیکس بھی نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔
آئی جی آسٹریلیا کے تجزیہ کار ٹونی سیکنمور کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن اب ہائی رسک اثاثوں میں جاری تیزی کے رجحان سے علیحدہ ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی 60 روزہ توسیع کی اطلاعات نے دیگر پُرخطر اثاثوں کو تو سہارا دیا ہے، لیکن بٹ کوائن کو اس سے کوئی خاص تقویت نہیں ملی۔
سیکنمور کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کرپٹوکرنسیوں کی حمایت میں کی گئیں حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس بھی مارکیٹ کو کوئی ٹھوس سپورٹ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔