اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

اختلافی مسئلہ: منی میں قیام ترک کرنے پر دم ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
منیٰ میں قیام
منیٰ میں قیام کی شرعی حیثیت، ایامِ تشریق کی فضیلت، 12 ذی الحجہ کو واپسی کے احکام، رمیٔ جمرات اور ترکِ قیام پر دم کے مسئلے۔

ایامِ تشریق کے دوران منیٰ میں قیام، ذکرِ الٰہی، رمیٔ جمرات اور قصر نمازوں کی ادائیگی حج کے اہم اعمال میں شامل ہیں۔
نبی کریمﷺ نے تینوں دن منیٰ میں قیام فرمایا، تاہم قرآنِ کریم نے دو دن کی رمی کے بعد واپسی کی اجازت بھی دی ہے۔ فقہاء کے درمیان منیٰ میں قیام ترک کرنے اور اس پر دم کے وجوب کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں، جبکہ جمہور علماء کے نزدیک منیٰ میں قیام حج کے واجب اعمال میں شمار ہوتا ہے۔

طوافِ افاضہ اور صفا و مروہ کے درمیان سعی مکمل کرنے کے بعد حجاج کرام دوبارہ منیٰ واپس آتے ہیں، جہاں وہ ایامِ تشریق یعنی 11، 12 اور 13 ذی الحجہ کے شب و روز گزارتے ہیں۔ 

نبی کریمﷺ کی سنتِ مبارکہ بھی یہی ہے کہ آپﷺ نے طوافِ افاضہ کے بعد منیٰ واپسی اختیار فرمائی اور ایامِ تشریق کی راتیں وہیں قیام کیا۔

ایامِ منیٰ ذکرِ الٰہی، دعا اور عبادت کے خصوصی دن ہیں۔ 

ان دنوں میں حجاج کرام کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ وقت تلاوتِ قرآن، دعا، استغفار اور ذکرِ الٰہی میں گزاریں۔ 

اگر ممکن ہو تو منیٰ کی تاریخی مسجد خیف میں نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کریں، کیونکہ روایات میں مذکور ہے کہ متعدد انبیائے کرام علیہم السلام نے یہاں نماز ادا کی۔

ChatGPT Image 28 مايو 2026، 09 42 53 م 1

نبی کریمﷺ نے ایامِ تشریق کے تینوں دنوں میں تینوں جمرات پر رمی فرمائی، اس لیے افضل یہی ہے کہ حاجی 11، 12 اور 13 ذی الحجہ تینوں دن منیٰ میں قیام کرے اور تمام دنوں کی رمی ادا کرے۔

تاہم قرآنِ کریم نے سہولت دیتے ہوئے یہ اجازت بھی دی ہے کہ اگر کوئی شخص دو دن کی رمی کے بعد واپس جانا چاہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ 

سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:

جو شخص دو دن میں جلدی واپس لوٹ آئے، اس پر کوئی گناہ نہیں۔

12 ذی الحجہ کو واپسی کا حکم

جو حاجی 12 ذی الحجہ کو منیٰ سے روانہ ہونا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ کی حدود سے نکل جائے۔ 

اگر مغرب کا وقت منیٰ میں ہی ہوجائے تو جمہور علماء کے نزدیک اسے 13 ذی الحجہ تک قیام کرنا ہوگا اور اگلے دن رمی کرنے کے بعد ہی روانہ ہونا چاہیے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا قول ہے:

جسے منیٰ میں شام ہوجائے، وہ اگلے دن رمیٔ جمار کیے بغیر واپس نہ لوٹے۔

امام ابوحنیفہؒ، امام محمدؒ اور جمہور فقہاء بھی اسی رائے کو اختیار کرتے ہیں۔

89745 1

کیا منیٰ میں قیام واجب ہے؟

جمہور علماء کے نزدیک ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب مناسکِ حج میں شامل ہے۔ اس موقف کی بنیاد متعدد احادیث پر ہے جن میں نبی کریمﷺ نے صرف مخصوص ضرورت رکھنے والوں، مثلاً چرواہوں اور سقایۃ الحاج کی خدمت انجام دینے والوں کو منیٰ سے باہر رات گزارنے کی اجازت دی۔

علمائے کرام کا استدلال ہے کہ جب بعض لوگوں کو خصوصی اجازت دی گئی تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل حکم منیٰ میں قیام ہی ہے۔

ترکِ قیامِ منیٰ پر دم کا مسئلہ

اگر کوئی شخص بغیر شرعی عذر کے منیٰ میں قیام ترک کردے تو اس پر دم واجب ہوگا یا نہیں؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

  • مالکی فقہاء کے نزدیک ہر رات کے بدلے ایک دم لازم آتا ہے۔
  • بعض علماء کے نزدیک ہر رات کے بدلے صدقہ یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا کافی ہے۔
  • امام شافعیؒ اور ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ کے نزدیک تینوں راتوں کے بدلے ایک دم واجب ہوگا۔
  • جبکہ فقہ حنفی کے مطابق ترکِ قیامِ منیٰ پر کوئی فدیہ یا دم واجب نہیں۔
رمیِ جمرات

اسی اختلاف کی بنا پر یہ مسئلہ فقہی اجتہاد اور رائے کا موضوع ہے البتہ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ سنتِ نبویﷺ اور افضل عمل یہی ہے کہ حاجی ایامِ تشریق مکمل طور پر منیٰ میں گزارے، ذکر و عبادت میں مشغول رہے اور تینوں دن رمیٔ جمرات ادا کرے۔