جائے لیکن ابھی میقات سے باہر نہ نکلا ہو، تو اسے واپس آکر طواف ادا کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر دم لازم آئے گا۔
ادھر منی میں لاکھوں حجاج کرام کی طرف سے دوسرے دن کی رمی انتہائی نظم و ضبط اور پرامن ماحول میں جاری ہے۔
حکام کے مطابق اس دوران کسی ہنگامی صورتحال یا بڑے حادثے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ جمرات کی توسیع اور جدید انتظامات کے باعث حجاج کو نمایاں سہولت حاصل ہوئی، جبکہ مختلف ممالک سے آنے والے عازمین کو گروپس اور اوقات کے مطابق تقسیم کرکے رمی کا عمل منظم انداز میں مکمل کرایا گیا۔
اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں غیر معمولی ازدحام دیکھنے میں نہیں آیا اور حجاج بآسانی رمی کرکے اپنے خیموں کی طرف واپس لوٹتے رہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں جمرات کے اطراف موجود ہیں۔
اہلکار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آنے اور جانے کے راستے الگ رہیں تاکہ ہجوم کے ٹکراؤ یا بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔
ہلالِ احمر، شہری دفاع اور دیگر امدادی اداروں کے اہلکار بھی مسلسل موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔
جامع منصوبہ بندی اور سخت نگرانی کے باعث ٹریفک کی روانی پورے موسمِ حج کے دوران برقرار رہی۔
شاہراہوں اور داخلی راستوں پر قائم چیک پوسٹوں کے ذریعے بغیر اجازت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دسیوں افراد کو واپس کردیا گیا۔
دریں اثنا وزارتِ داخلہ حجاج کرام کی فلاح و بہبود اور ان کے آرام و سکون کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔
سعودی حکومت ہر سال حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے کیلئے جدید حکمتِ عملی اپناتی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں حجاج اپنے مناسک مکمل اطمینان، سلامتی اور روحانی سکون کے ساتھ ادا کرسکیں۔