اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

رمی جمرات کے بعد بیشتر حاجی آج منی سے رخصت ہوں گے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
حج 1447 رمی جمرات

حجاج کرام کی بڑی تعداد آج تینوں جمرات کو رمی کرنے کے بعد غروبِ آفتاب سے قبل منیٰ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوجائیں گے۔
جدید انتظامات، توسیع شدہ جمرات، مؤثر سکیورٹی، طبی سہولیات اور ٹریفک کنٹرول کے باعث پورا نظام کامیابی سے جاری ہے۔
وزارتِ داخلہ اور صحت کے حکام کے مطابق کسی وبائی مرض یا بڑے حادثے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ حج موسم انتہائی کامیاب رہا۔

آج بھی حجاج کرام وہی اعمال انجام دیں گے جو گزشتہ روز ادا کیے گئے تھے۔ 

تینوں جمرات کو مقررہ ترتیب کے مطابق کنکریاں ماری جائیں گی۔ 

اگر کوئی حاجی آج ہی منیٰ سے روانہ ہوکر مکہ مکرمہ واپس جانا چاہتا ہے تو اسے غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ کی حدود سے نکلنا ہوگا۔ 

تاہم اگر کسی وجہ سے سورج غروب ہونے تک روانگی ممکن نہ ہوسکے تو پھر اگلے دن زوال کے بعد دوبارہ رمی کرکے منیٰ سے نکلنا ہوگا۔

اگر کوئی حاجی بس یا دیگر سواری میں سوار ہوچکا ہو لیکن ٹریفک یا دیگر وجوہ کی بنا پر غروبِ آفتاب تک منیٰ سے باہر نہ نکل سکے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں

منیٰ سے واپسی کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنی ضروریات اور خریدوفروخت سے فارغ ہوں گے، پھر طوافِ وداع ادا کریں گے۔ 

حیض اور نفاس والی خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں۔ 

طوافِ وداع کے بعد مکہ مکرمہ میں مزید قیام یا تجارت کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ 

اگر کوئی شخص طوافِ وداع سے پہلے جدہ، طائف یا دیگر مقامات چلا 

89745

جائے لیکن ابھی میقات سے باہر نہ نکلا ہو، تو اسے واپس آکر طواف ادا کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر دم لازم آئے گا۔

ادھر منی میں لاکھوں حجاج کرام کی طرف سے دوسرے دن کی رمی انتہائی نظم و ضبط اور پرامن ماحول میں جاری ہے۔ 

حکام کے مطابق اس دوران کسی ہنگامی صورتحال یا بڑے حادثے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ جمرات کی توسیع اور جدید انتظامات کے باعث حجاج کو نمایاں سہولت حاصل ہوئی، جبکہ مختلف ممالک سے آنے والے عازمین کو گروپس اور اوقات کے مطابق تقسیم کرکے رمی کا عمل منظم انداز میں مکمل کرایا گیا۔

اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں غیر معمولی ازدحام دیکھنے میں نہیں آیا اور حجاج بآسانی رمی کرکے اپنے خیموں کی طرف واپس لوٹتے رہے۔ 

ChatGPT Image 28 مايو 2026، 09 04 17 م

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں جمرات کے اطراف موجود ہیں۔ 

اہلکار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آنے اور جانے کے راستے الگ رہیں تاکہ ہجوم کے ٹکراؤ یا بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ 

ہلالِ احمر، شہری دفاع اور دیگر امدادی اداروں کے اہلکار بھی مسلسل موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔

جامع منصوبہ بندی اور سخت نگرانی کے باعث ٹریفک کی روانی پورے موسمِ حج کے دوران برقرار رہی۔ 

شاہراہوں اور داخلی راستوں پر قائم چیک پوسٹوں کے ذریعے بغیر اجازت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دسیوں افراد کو واپس کردیا گیا۔

ChatGPT Image 28 مايو 2026، 08 52 18 م

دریں اثنا وزارتِ داخلہ حجاج کرام کی فلاح و بہبود اور ان کے آرام و سکون کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔ 

سعودی حکومت ہر سال حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے کیلئے جدید حکمتِ عملی اپناتی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں حجاج اپنے مناسک مکمل اطمینان، سلامتی اور روحانی سکون کے ساتھ ادا کرسکیں۔