اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

ماحولیاتی تباہی: سوڈان میں ’سائنائیڈ تالاب‘ نے بھیڑوں کا ریوڑ نگل لیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سوڈان سائنائیڈ تالاب ماحولیات اور ہلاک ہونے والے مویشیوں کی علامتی تصویر
سونے کی صفائی کے لیے بنائے گئے کیمیکل سے بھرے کھلے تالاب موت کے کنویں بن گئے (فوٹو: اسکرین گریب)

سودان کی شمالی ریاست نہر النیل میں روایتی اور غیر قانونی کان کنی کے مہلک اثرات ایک بار پھر بڑے خطرے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق سونے کی صفائی کے کیمیکل سے بھرے کھلے تالاب موت کے کنویں بن گئے ہیں، جہاں ایک ہولناک واقعے میں بھیڑوں کا پورا ریوڑ پانی پینے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کھلے تالابوں میں سونا نکالنے کے روایتی عمل کے دوران انتہائی زہریلے کیمیکلز سائنائیڈ اور تھیوریا کا استعمال 

کیا گیا تھا جو مویشیوں کے لیے فوری طور پر جان لیوا ثابت ہوئے۔

مٹی کے ان تالابوں کے کناروں پر مردہ بھیڑوں کے ڈھیر کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جس نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ 

اس واقعے نے سوڈان میں برسوں سے جاری روایتی کان کنی کے شعبے پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں اور کمزور حکومتی نگرانی و غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں ماحولیات اور انسانی صحت کو پہنچنے والے شدید نقصانات کو واضح کر دیا ہے۔

Youtube video

سونا اگلنے والی ان زمینوں پر بنے کیمیکل کے تالاب اب مقامی آبادی کے لیے محض کان کنی کا حصہ نہیں رہے بلکہ یہ انسانوں، جانوروں اور پینے کے پانی کے ذخائر کے لیے ایک مستقل اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔

مائننگ کے علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے مویشیوں نے ان کھلے تالابوں سے پانی پی لیا تھا جو سونے کو چٹانوں سے الگ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ 

یہ تالاب انسانوں،
جانوروں اور پینے
کے پانی کے ذخائر
کے لیے ایک مستقل
بڑھتا ہوا خطرہ
بن چکے ہیں

ان تالابوں میں پتھروں کے چورے کو انتہائی زہریلے کیمیکل کے محلول میں ملایا جاتا ہے اور پھر ان گہرے گڑھوں کو بغیر کسی حفاظتی باڑ یا رکاوٹ کے کھلے آسمان تلے کئی دنوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
متاثرہ علاقے کے ایک رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ خشک سالی اور پانی کی کمی کی وجہ سے جانور ان تالابوں کو پانی کا عام ذریعہ سمجھ کر یہاں چلے جاتے ہیں۔
مقامی لوگ گزشتہ کئی برس سے حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان خطرناک گڑھوں کو مٹی سے بھر دیا جائے یا ان کے گرد مضبوط باڑ لگائی جائے تاکہ انسانوں اور مویشیوں کو بچایا جا سکے۔

ماحولیاتی کارکنوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے تاہم اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کی بیک وقت ہلاکت اور اس کے خوفناک مناظر نے اس بار عوام کو شدید ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس سنگین معاملے پر پہلے باضابطہ ردعمل میں سوڈان کی منرل ریسورسز کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے علاقے میں پیش آیا جہاں غیر قانونی طور پر کان کنی کی جا رہی تھی۔

حکام کے مطابق وہاں منظور شدہ ماحولیاتی اور تکنیکی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمیکلز استعمال کیے جا رہے تھے۔ 

سرکاری کمپنی نے واضح کیا کہ انہوں نے ایک تکنیکی ٹیم کو جائے وقوع پر روانہ کر دیا ہے تاکہ واقعے کی تفتیش کی جا سکے اور ماحولیات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

دوسری جانب اس سنگین لاپروائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور جامع تحقیقات کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ 

سوڈان سائنائیڈ تالاب ماحولیات اور ہلاک ہونے والے مویشیوں کی علامتی تصویر
سنگین لاپروائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے ملک میں ماحولیاتی نگرانی کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جو زر مبادلہ کے حصول کے لیے تیزی سے سونے کی پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔

ماحولیاتی امور کے نامور ماہر ڈاکٹر بشیر عمر بشیر عبد الرحیم نے صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سائنائیڈ کا استعمال عالمی سطح پر سونے کی مائننگ میں اس کی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔

یہ چٹانوں سے 60 سے 90 فیصد تک سونا نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پارے یعنی مرکری کی کارکردگی اس سے آدھی ہوتی ہے۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ سائنسی اصولوں اور سخت حفاظتی تدابیر کے بغیر روایتی اور غیر منظم کان کنی میں اس کیمیکل کا استعمال پورے علاقے کو خطرناک ترین آلودگی کے گڑھ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ سائنائیڈ کے کھلے تالابوں کو چھونے یا ان سے نکلنے والی گیسوں کو سانس کے ذریعے جسم میں لے جانے سے فوری موت واقع ہو سکتی ہے اور حفاظتی سامان کی عدم دستیابی کے باعث مقامی مزدور اور بچے اس کا سب سے پہلا شکار بنتے ہیں۔ 

انہوں نے مزید واضح کیا کہ جب یہ زہر پانی میں شامل ہوتا ہے تو بہت ہی کم مقدار میں ہونے کے باوجود آبی اور حیاتاتی زندگی کو فوراً تباہ کر دیتا ہے۔

سوڈان سائنائیڈ تالاب ماحولیات اور ہلاک ہونے والے مویشیوں کی علامتی تصویر
مٹی اور زیر زمین پانی کی آلودگی کی وجہ سے مختلف خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ زہر جسمانی خلیات کو آکسیجن جذب کرنے سے روکتا ہے اور براہ راست دماغ و دل پر حملہ کرتا ہے۔

اس نئی تباہی کے بعد دیہاتوں اور چراگاہوں کے قریب واقع ان کیمیکل تالابوں کے خلاف عوامی احتجاج اور ماحولیاتی کارکنوں کی مہم تیز ہو گئی ہے۔ 

کان کنی کے علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے خدشات صرف مویشیوں کی ہلاکت تک محدود نہیں رہے بلکہ مقامی آبادی کی صحت بھی شدید خطرے میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ  مٹی اور زیر زمین پانی کی آلودگی کی وجہ سے مختلف خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ 

ماحولیاتی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ روایتی کان کنی کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، سائنائیڈ اور تھیوریا کے استعمال پر کڑی نگرانی رکھے اور کان کنوں کو بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات پر عمل کرنے کا پابند بنائے۔ 

کارکنوں نے ان تمام کھلے تالابوں کو فوری طور پر بند کرنے اور مٹی سے بھرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ سوڈان کے سب سے اہم مائننگ ریجن میں انسانوں، جانوروں اور قدرتی وسائل کو نگل جانے والی ایک خاموش ماحولیاتی قیامت کا سبب بن جائے گی۔