عالمی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی دوڑ میں امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت اب ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں
اس جنگ کے درمیان بیجنگ نے اپنے ٹیکنالوجی شعبے پر گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اہم اور اسٹریٹجک حیثیت کے حامل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماہرین کو بیرون ملک سفر کرنے سے قبل سرکاری اجازت لینا لازمی ہوگا۔
اسٹریٹجک اثاثے اور نئی سفری پابندیاں
خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق چینی حکام اب اے آئی کے شعبے
میں کام کرنے والے مخصوص (منتخب) ماہرین کو محض ملازم نہیں بلکہ ملک کے ’اسٹریٹجک اثاثے‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ان نئی پابندیوں کا اطلاق علی بابا ہولڈنگ (Alibaba Holding) اور ڈیپ سیک (DeepSeek) جیسی معروف کمپنیوں سمیت دیگر اہم ٹیکنالوجی اداروں کے ماہرین پر ہوگا۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق ان ماہرین کو بیرون ملک سفر کرنے سے پہلے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ پابندیاں صرف اعلیٰ عہدیداروں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان میں اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے بانی، محققین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹرز بھی شامل ہیں۔
حکام نے ان افراد کا انتخاب ان کی ملازمت کے درجے کے بجائے اس بنیاد پر کیا ہے کہ ان کی مہارت چین کی قومی ٹیکنالوجی پالیسی کے لیے کتنی ناگزیر ہے۔
سرکاری کنٹرول نجی کمپنیوں تک وسیع
ماضی میں چین کی جانب سے جوہری سائنسدانوں، یونیورسٹیوں کے محققین اور سرکاری اداروں کے افسران پر سفری پابندیاں عائد کرنا ایک معمول کی بات تھی۔
تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے ان پابندیوں کا دائرہ نجی شعبے کی کمپنیوں تک وسیع کر دیا ہے۔
ماضی میں سرکاری کمپنیوں کے ایگزیکٹوز اور کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام کے پاسپورٹ عموماً سرکاری تحویل میں رکھے جاتے تھے، لیکن اب نجی ٹیکنالوجی فرموں کے ماہرین کو بھی اسی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا۔
ٹیکنالوجی سیکٹر پر ممکنہ اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ سخت قدم چین کی اے آئی صنعت کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک طرف بیجنگ اپنی ٹیکنالوجیکل برتری کو محفوظ بنانا چاہتا ہے، تو دوسری طرف ان پابندیوں سے کمپنیوں کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کمپنیاں اپنی بہترین صلاحیتوں کو آزادانہ ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہیں، تو ان کے لیے عالمی سطح پر باصلاحیت افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور انہیں طویل عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چینی ٹیک سیکٹر پہلے ہی سرکاری ضابطوں اور بین الاقوامی دباؤ کے اثرات سے نبردآزما ہے، جس کی ایک مثال میٹا پلیٹ فارمز (Meta Platforms) کی جانب سے مانوس (Manus) کے حصول پر بیجنگ کا اعتراض تھا۔
قومی مفاد بمقابلہ عالمی مسابقت
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو اپنی قومی سلامتی اور اقتصادی مستقبل کا کلیدی حصہ سمجھتا ہے۔
خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کے بعد چین نے اپنی مقامی ٹیکنالوجی کو عالمی معیار تک پہنچانے کے لیے جو محنت کی ہے، اسے وہ ہر قیمت پر محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
نجی شعبے کی آزادی پر یہ قدغن ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے کہ کیا یہ اقدام چین کو واقعی ایک ٹیکنالوجی پاور ہاؤس کے طور پر مستحکم رکھے گا، یا پھر یہ عالمی تعاون اور باصلاحیت افراد کے تبادلے کو محدود کر کے اس کی ترقی کی رفتار کو سست کر دے گا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ بیجنگ کا یہ ’اسٹریٹجک حفاظتی حصار‘ چین کی اے آئی ترقی کے لیے کتنا سود مند ثابت ہوتا ہے۔