اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

مسجدِ خیف: انبیاء کی سجدہ گاہ اور مشاعرِ مقدسہ کا روحانی مرکز

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
مسجد الخیف کو ’خیفِ بنی کنانہ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مکہ مکرمہ سے قریب، منیٰ کی وادی میں، دو پہاڑوں کی آغوش میں ایک ایسی مسجد واقع ہے جو صرف ایک عبادت گاہ نہیں، بلکہ ہزاروں سال کی تاریخ، لاتعداد انبیاء کے قدموں کی نشانی اور عقیدت کے لازوال سوتوں کا سنگم ہے۔

مزید پڑھیں

یہ مسجدالخیف ہے۔ وہ مقدس مقام جہاں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک 70 سے زائد انبیائے کرام نے سربسجود ہو کر اپنے رب کو پکارا۔

’الخیف‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے وہ زمین جو دو پہاڑوں کے درمیان، نالے سے اونچی اور پہاڑ کی ڈھلوان پر واقع ہو۔ 

یہ نام اس مسجد کے جغرافیائی محلِ وقوع کی عین ترجمانی کرتا ہے۔

منیٰ کے جنوبی حصے میں، جمراتِ صغریٰ کے قریب، الذیبہ پہاڑ کی بنیاد پر واقع یہ مسجد مشاعرِ مقدسہ کی 5 اہم مساجد میں سے ایک ہے، جن میں مسجدالمشعرالحرام، مسجدنمرہ، مسجدالبیعہ اور مسجدالصخرات شامل ہیں۔

منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
یہاں ایک ایسے عظیم دور کے نقوش محفوظ ہیں جب اسلام کا پیغام ابھی اپنی ابتدائی منازل طے کر رہا تھا (فوٹو: انٹرنیٹ)

مسجد کے نام کا پس منظر

مسجد الخیف کو ’خیفِ بنی کنانہ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تاریخی روایات میں اس جگہ کو یادگاری اہمیت حاصل ہے، اس لیے کہ یہاں ایک ایسے عظیم دور کے نقوش محفوظ ہیں جب اسلام کا پیغام ابھی اپنی ابتدائی منازل طے کر رہا تھا۔

انبیاء کا روحانی تعلق

مسجدالخیف کو جو چیز دیگر مساجد سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کا انبیاء علیہم السلام سے گہرا روحانی رشتہ ہے۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’مسجد الخیف میں 70 انبیاء نے نماز پڑھی ہے اور وہ سب اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے تھے۔‘‘  یہ حدیثِ مبارک المعجم الکبیر میں مروی ہے۔

تابعی مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی منقول ہے کہ پچھتر (۷۵) انبیاء نے حج کی سعادت حاصل کی، ان سب نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور منیٰ کی مسجد میں نماز ادا فرمائی۔ 

منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
مسجد الخیف کو جو چیز دیگر تمام مساجد سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کا انبیاء علیہم السلام سے گہرا روحانی رشتہ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مشہور تابعی عطاء بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’اگر میں مکہ مکرمہ کا باشندہ ہوتا تو ہر ہفتے منیٰ کی مسجد کی زیارت کیا کرتا۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بھی ارشاد فرمایا تھا: ’ان شا اللہ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچیں گے تو خیف میں اتریں گے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو منیٰ تشریف لا کر اپنا قیام اسی مقام پر فرمایا تھا جہاں آج مسجد الخیف قائم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ایک خطبہ بھی ارشاد فرمایا تھا جو اسلامی تاریخ میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔

نبی کریم ﷺ کی نمازگاہ کا مقام

تاریخی روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ خالد بن مضرز نے انصار کے بزرگوں کو دیکھا کہ وہ منارے کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخصوص نمازگاہ تلاش کر رہے تھے۔

روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے منارے کے سامنے واقع احجار (پتھروں) کے قریب نماز ادا فرمائی تھی۔ 

یہاں منارے سے وہ چھوٹا منارہ مراد ہے جو عقبہ کبیرہ کی دیوار سے ملحق مسجد کے درمیانی حصے میں واقع ہے، نہ کہ دیوار پر موجود اذان کا مینارہ۔

ابن ظہیرہ اور امام ازرقی نے تحریر کیا ہے کہ عقبہ میں موجود محراب ہی وہ بابرکت جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی تھی۔

منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ایک خطبہ بھی ارشاد فرمایا تھا جو اسلامی تاریخ میں خاص اہمیت کا حامل ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

حج کے دوران مسجد کا کردار

مسجد الخیف حج کے ان مخصوص ایام میں زائرین کے لیے کھولی جاتی ہے: یومِ ترویہ (۸ ذوالحجہ)، عید الاضحیٰ (۱۰ ذوالحجہ) اور ایامِ تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ)۔

یہ مسجد جمراتِ صغریٰ کے قریب واقع ہے، اس لیے رمیِ جمرات ادا کرنے والے حجاج کرام کے لیے یہ نماز کا سب سے موزوں اور قریبی مقام ہے۔

حج سیزن میں وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد یہاں اپنا مرکزی دعوتی کردار ادا کرتی ہے، جس میں عربی کے علاوہ اردو، انگریزی اور دنیا کی دیگر اہم زبانوں میں مسلسل دروس اور علمی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 

حجاج کرام کی دینی رہنمائی کے لیے فتویٰ کیبن قائم کیے جاتے ہیں جہاں مستند علماء سے 24 گھنٹے ساتوں دن رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔  اسی طرح حج لٹریچر، دینی کتابیں اور کتابچے بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ 

مسجد میں ہر سال شاہ فہد کمپلیکس برائے اشاعتِ قرآن کے چھاپے ہوئے قرآنِ پاک کے ہزاروں نسخے حاجیوں کے لیے رکھے جاتے ہیں۔

منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
مسجد الخیف حج کے مخصوص ایام میں زائرین کے لیے کھولی جاتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مسجد کی تاریخی تعمیرات: صدی بہ صدی

امام الازرقی کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی ہجری کے وسط میں مسجد الخیف اس طرح تھی کہ مسجد میں ایک کشادہ اور کھلا صحن تھا، جس کے چاروں اطراف 4 دالان بنے ہوئے تھے۔

سب سے گہرا دالان قبلے کی طرف تھا جو  3 سائبانوں پر مشتمل تھا، جبکہ باقی تینوں دالان برابر سائز کے تھے اور ہر ایک پر ایک سائبان پڑا ہوا تھا۔ 

یہ تمام سائبان 168 ستونوں پر قائم تھے جن میں سے 78 ستون قبلے کی سمت میں تھے۔ مسجد کے وسط میں ایک چوکور مینارہ تھا جو 24 ہاتھ بلند تھا اور اس میں 8 مختلف مقامات پر چھجے بنے ہوئے تھے۔ 

اس دور میں مسجد میں 50 بازو لمبی ایک سبیل بھی موجود تھی جو 9 میٹر گہری، 5 میٹر چوڑی اور 2 دروازوں والی تھی۔ مسجد کے 20 دروازے تھے ۔ حج کے موسم میں 171 قندیلوں سے روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا۔

256 ہجری : معتمد العباسی کا دور

خلیفہ معتمد بن المتوکل العباسی کے عہد میں 256 ہجری میں مسجد کی پہلی باقاعدہ تعمیرِ نو ہوئی۔ بعد ازاں وزیر الجواد الاصفہانی نے بھی اسے از سرِ نو تعمیر کرایا۔

چھٹی صدی ہجری:ابنِ جبیر کی گواہی

چھٹی صدی ہجری کے مشہور سیاح ابنِ جبیر نے اپنے سفرنامے میں لکھا:’ یہ کشادہ مسجد ہے، عظیم جامع مساجد جیسی شکل کی حامل ہے اور اس کا مینارہ مسجد کے وسط میں واقع ہے۔‘

674 ہجری: عباسی اور یمنی حکمرانوں کا تعاون

خلیفہ الناصر العباسی اور صاحبِ یمن نے 674 ہجری میں مسجد کی از سرِ نو تعمیر کرائی۔

منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
یہ مسجد جمراتِ صغریٰ کے قریب واقع ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

نویں صدی ہجری: مملوکی عہد

مملوکی دور کے آغاز میں مسجد الخیف کھلے صحن پر مشتمل تھی جس کے اطراف 4 دالان تھے۔ سب سے بڑا دالان قبلہ رخ تھا جس میں 5 محرابیں تھیں۔

شمالی دالان بنا چھت کے تھا اور اس کی دیواریں گچ سے تیار کی گئی تھیں۔ (یہ بیان مشہور مورخ الفاسی کا ہے۔)

سلطان اشرف قایتبائی کا دورِ تعمیر

القطبی نے اپنی کتاب ’الاعلام‘ میں لکھا: ’سلطان قایتبائی نے مسجد کو از سرِ نو تعمیر کرایا، اذان کے منارے کے برابر میں ایک گنبد کا اضافہ کرایا اور سبیل بھی وہیں پہلی جگہ تعمیر کرائی۔‘

البتانونی کا بیان

مشہور مصنف البتانونی نے اپنی کتاب ’الرحلہ الحجازیہ‘ میں لکھا: ’مسجد الخیف بڑی مسجد ہے، اس کے اطراف احاطہ ہے اور مغربی حصے میں ایک دالان ہے جس کی چھت ستونوں پر قائم ہے۔ ‘

’مسجد کے وسط میں کھلا صحن، شمالی دروازے کی طرف بڑا گنبد اور اس کے پہلو میں اذان کا چھوٹا مینارہ ہے۔‘

1393 ہجری: سعودی دور کی پہلی توسیع

سعودی عہد میں 1393 ہجری کے دوران مسجد الخیف کی پہلی باقاعدہ توسیع عمل میں آئی۔

اس توسیع میں بازو والے دالانوں کو بڑھایا گیا، وسطی دالانوں میں اضافہ کیا گیا، قبلے کی دالان میں 2 گنبد بنائے گئے اور مسجد میں متعدد مینارے اور کھلے صحن تیار کرائے گئے۔

منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
1987ء کی توسیع کے بعد مسجد کا مجموعی رقبہ تقریباً 34 ہزار مربع میٹر ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

1407 ہجری (1987ء) کی جدید توسیع

شاہ فہد بن عبدالعزیز کے عہد میں 1407 ہجری بمطابق 1987ء میں مسجد الخیف کی سب سے بڑی اور جدید توسیع عمل میں آئی۔

اس منصوبے پر تقریباً 90 ملین سعودی ریال کی لاگت آئی۔ اس توسیع کے نتیجے میں مسجد نے ایک نئی جدید شکل اختیار کر لی اور مشاعرِ مقدسہ کی مساجد میں اپنا مرکزی مقام مزید مستحکم کر لیا۔

جدید مسجد کا رقبہ اور تعمیراتی خصوصیات

1987ء کی توسیع کے بعد مسجد کا مجموعی رقبہ تقریباً 34 ہزار مربع میٹر ہے، جبکہ وزارتِ اسلامی امور کے مطابق تعمیراتی رقبہ 23 ہزار 500 مربع میٹر ہے۔

مسجد میں بچھائے گئے قالینوں کا کل رقبہ 27 ہزار مربع میٹر سے زائد ہے۔ مسجد کی چاروں اطراف میں 4 خوبصورت مینارے بلند ہیں جو جدید اسلامی عرب طرزِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں۔

نمازیوں کی گنجائش

مسجد کی موجودہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گنجائش 25 ہزار نمازیوں کی ہے، تاہم مختلف ذرائع میں 35 ہزار تک کی تعداد بھی بیان کی جاتی ہے جو صحنوں اور گیلریوں کو شامل کرنے پر ممکن ہے۔

اصل تعمیراتی رقبے اور ملحقہ صحنوں کے مجموعے کو مدنظر رکھا جائے تو عمومی تخمینہ 25 ہزار سے 35 ہزار کے درمیان قرار پاتا ہے۔

جدید اپ گریڈیشن

مسجد الخیف میں جہاں پہلے 410 ایئر کنڈیشنرز نصب تھے، وہیں حالیہ برسوں میں مسجد میں ہوا کے نظام کو جدید خطوط پر ڈھالا گیا ہے۔

جون 2024ء میں وزارتِ اسلامی امور نے 1446ہجری کے حج سیزن کے لیے مسجد الخیف میں 780 نئے ایئر کنڈیشنر اور 73 جدید ایئر پیوریفیکیشن یونٹس نصب کیے۔ 

یہ جدید نظام باہر سے 100 فیصد تازہ ہوا مسجد کے اندر پمپ کرتا ہے اور اندرونی درجۂ حرارت 20 ڈگری سیلسیس پر برقرار رکھتا ہے۔

سال 1447ہجری (2025-26ء) کے حج سیزن کی تیاریوں میں اسمارٹ کنٹرول سسٹم سے لیس 410 سے زائد ایئر کنڈیشننگ یونٹس کی باقاعدہ دیکھ بھال اور نگرانی کا اہتمام کیا گیا ہے۔

منیٰ میں واقع تاریخی مسجد الخیف کا خوبصورت منظر
سعودی عہد میں 1393 ہجری کے دوران مسجد الخیف کی پہلی باقاعدہ توسیع عمل میں آئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

پانی کا نظام اور واش روم سہولیات

مسجد کے مجموعی طہارت خانوں کی تعداد 1700 سے زائد ہے جو مرد و خواتین دونوں کے لیے الگ الگ ہیں۔

یہاں وضو کے لیے 3 ہزار سے زائد ٹونٹیاں (ابلیوشن اسٹیشنز) نصب ہیں۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے زیرِ زمین ٹنکیاں بنائی گئی ہیں جن میں 10 ہزار مکعب میٹر پانی جمع کیا جا سکتا ہے، جبکہ بالائی ٹنکیوں میں 2500 مکعب میٹر اضافی ذخیرہ ممکن ہے۔

حالیہ ترقیاتی منصوبوں کے تحت حجاج کرام کو ٹھنڈے پانی کی فراہمی کے لیے 54 واٹر ڈسپنسر نصب کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 500 لیٹر فی گھنٹہ ہے۔ 

اس طرح فی گھنٹہ 81 ہزار سے زائد حجاج کرام کو ٹھنڈے پانی کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔

واٹر مسٹ پنکھے اور درجۂ حرارت میں کمی

حال ہی میں مسجد کے گردونواح اور واش روم حصوں میں ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے 57 واٹر مسٹ پنکھے نصب کیے گئے ہیں۔

یہ پنکھے صحنوں، راہداریوں اور گیلریوں میں نصب ہیں تاکہ گرمی کی شدت کو کم کرتے ہوئے حجاج کرام کو ہیٹ اسٹروک سے بچایا جا سکے اور آرام دہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل اسکرینیں، سیکیورٹی اور اسمارٹ نظام

حجاج کرام کی رہنمائی اور تنظیم کے لیے مسجد الخیف میں 79 ڈیجیٹل اسکرینیں نصب کی گئی ہیں جن پر مختلف زبانوں میں معلوماتی پیغامات نشر کیے جاتے ہیں۔

سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 50 سے زائد جدید نگرانی کے کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ 

مسجد الخیف اور مسجد نمرہ دونوں میں ایئر کنڈیشننگ، وینٹی لیشن، بجلی اور بیک اپ جنریٹرز کی نگرانی کے لیے مربوط اسمارٹ سسٹم نافذ کیا گیا ہے تاکہ آپریشنل کارکردگی بہترین رہے اور کسی بھی تکنیکی خرابی کا فوری سدباب ہو سکے۔

مسجد کے 9 مرکزی داخلی راستے اور ہنگامی نکاسی کے 6 راستے بنائے گئے ہیں۔ موبائل فون چارجنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ حجاج کرام ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حج سیزن کے دوران باہمی رابطے میں رہ سکیں۔

منیٰ جدید شہر

نظامِ صوت اور روشنی

مسجد کا جدید ترین صوتی نظام اس طرح ترتیب ہے کہ خطبے اور دروس کی آواز ایک ایک گوشے تک پہنچ سکے۔

روشنی کے لیے بھی سیکڑوں سرچ لائٹیں نصب کی گئی ہیں جو مسجد کو دور تک جگمگاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

عملہ اور ملازمین

حج سیزن کے دوران مسجد الخیف میں آپریشنل، مینٹی نینس، صفائی ستھرائی اور معلوماتی خدمات کی دیکھ بھال کے لیے 500 سے زائد ملازمین، ٹیکنیشنز اور ورکرز 24 گھنٹے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

یہاں فیلڈ سپروائزرز مسلسل نگرانی کرتے ہیں اور فوری رپورٹس متعلقہ محکموں کو بھجوائی جاتی ہیں۔

تاریخی وقار اور حال کی روشن تصویر

مسجد الخیف محض ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ اور فعال روحانی مرکز ہے۔

جب دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں حاجی منیٰ میں ڈیرے ڈالتے ہیں تو یہ مسجد اسلامی اتحاد کے عظیم ترین مناظر میں سے ایک کا روحانی منظر پیش کرتی ہے۔

وہ لوگ جو رمیِ جمرات کے لیے چلتے ہیں، جن کے قدم ذوالحجہ میں گرم پتھروں پر پڑتے ہیں، وہ اس راستے میں مسجد الخیف کا دیدار کر کے اپنے دلوں کو سکون دیتے ہیں اور یہاں نمازیں ادا کر کے انبیاء کرام کی پیروی کی لذت سے مالامال ہو جاتے ہیں۔

1447 ہجری (2026ء): حج سیزن کی تازہ ترین تیاریاں

سعودی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے 1447ہجری کے حج سیزن میں یومِ ترویہ کے موقع پر اللہ کے مہمانوں کے استقبال کے لیے مسجد الخیف میں اپنے تمام آپریشنل اور سروسز انتظامات بروقت مکمل کیے ہیں۔

ان اقدامات کا مقصد فنی اور آپریشنل مربوط نظام کے تحت حجاج کرام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے مناسکِ حج مکمل اطمینان اور آسانی سے ادا کر سکیں۔ 

وزارت نے صفائی، قالین بچھانے، ہوا اور ٹھنڈک، روشنی اور واش رومز کی دیکھ بھال جیسے تمام امور کی ہر لحاظ سے تیاری مکمل کی اور علماء  کو اسلامی بیداری کاؤنٹرز پر تعینات کیا ہے۔

حوالہ جات (References):

1۔ سعودی پریس ایجنسی (SPA)
2۔ وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد (SPA)
3۔ سعودی پیڈیا ’مسجد الخیف‘
4۔ سعودی پیڈیا،’ہولی سائٹ آف منیٰ‘
5۔ Hajj and Umrah Planner
6۔ Welcome Saudi
7۔ The Pilgrim
8۔ صحیفہ منبر (عربی)
9۔ الشمال (عربی)