سائنسدانوں نے جدید سائنسی تجربات کے ذریعے زمین کے اندر موجود شدید حرارت اور زمین کے مرکز کی ساخت کے بارے میں حیران کن معلومات حاصل کی ہیں۔
تحقیق کے مطابق زمین کے مرکز کا درجہ حرارت سورج کی سطح کے قریب پہنچ جاتا ہے، جبکہ یہی گرم مرکز زمین کے مقناطیسی میدان، زمینی سرگرمیوں اور زمین پر زندگی کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
زمین کے مرکز کا
درجہ حرارت
5 ہزار سے
5 ہزار 500 ڈگری
سیلسیئس تک
پہنچ سکتا ہے
ان تجربات میں انتہائی تیز رفتار اجسام یا طاقتور لیزر دھماکوں کے ذریعے لوہے کے نمونوں پر شدید دباؤ اور حرارت پیدا کی جاتی ہے، تاکہ زمین کی گہرائیوں جیسی صورتحال پیدا ہو سکے۔انتہائی تیز رفتار ایکس رے اور جدید تصویری نظاموں کی مدد سے سائنسدان لوہے کی ساخت، طبعی کیفیت اور دباؤ کے تحت اس میں آنے والی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔
ان تجربات نے صرف زمین کے مرکز کو سمجھنے میں مدد نہیں دی، بلکہ زمین کے مقناطیسی میدان کے بننے کے عمل اور مریخ و عطارد جیسے پتھریلے سیاروں کی اندرونی ساخت کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کی ہیں۔
زمین کے اندر موجود یہ شدید گرمی دراصل سیارے کی پیدائش کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً 4.5 ارب سال پہلے زمین پگھلے ہوئے مادوں اور دہکتی چٹانوں سے بنی تھی۔
اس دوران لوہے جیسے بھاری عناصر زمین کے مرکز کی طرف ڈوب گئے، جس سے کششِ ثقل کی توانائی شدید حرارت میں تبدیل ہو گئی۔
سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ زمین کی ابتدائی تاریخ میں مریخ کے حجم کے قریب ایک دیوہیکل جسم کے زمین سے ٹکرانے نے بھی زمین کے اندر بے پناہ حرارت پیدا کی۔
بعض ماہرین کے مطابق یورینیم، تھوریم اور پوٹاشیم جیسے تابکار عناصر آج بھی تابکار تحلیل Radioactive Decay کے ذریعے زمین کے اندر حرارت پیدا کر رہے ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سائنسی بحث اب بھی جاری ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین نے دوسرے پتھریلے سیاروں کے مقابلے میں اپنی ابتدائی حرارت کا بڑا حصہ محفوظ رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی زمین پر ارضیاتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
زمین کا گرم مرکز صرف ایک حیرت انگیز قدرتی مظہر نہیں بلکہ زمین پر زندگی کے وجود کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بھی ہے۔
زمین کا بیرونی مائع مرکز زمین کا مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے، جو سورج سے آنے والی خطرناک شمسی ہواؤں اور کائناتی شعاعوں کے خلاف حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے۔
اسی طرح زمین کے اندرونی حصے کی حرارت زمینی پلیٹوں Tectonic Plates کی حرکت کا سبب بنتی ہے، جس کے نتیجے میں براعظم اپنی شکل تبدیل کرتے ہیں، جبکہ زمین کی گہرائیوں سے اہم معدنیات اور غذائی عناصر سطح تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
یہی عمل مختلف ماحولیاتی نظاموں کے قیام اور زندگی کے ارتقا کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنا خلا کی تحقیق جتنا ہی اہم ہے، کیونکہ زمین کے مرکز میں موجود یہی دہکتا ہوا قلب اربوں سال سے ہمارے سیارے کو زندگی کے قابل بنائے ہوئے ہے۔