اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

زمین کے اندر سورج جیسی آگ! حیران کن راز سامنے آگئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
زمین کا مرکز

سائنسدانوں نے جدید سائنسی تجربات کے ذریعے زمین کے اندر موجود شدید حرارت اور زمین کے مرکز کی ساخت کے بارے میں حیران کن معلومات حاصل کی ہیں۔
تحقیق کے مطابق زمین کے مرکز کا درجہ حرارت سورج کی سطح کے قریب پہنچ جاتا ہے، جبکہ یہی گرم مرکز زمین کے مقناطیسی میدان، زمینی سرگرمیوں اور زمین پر زندگی کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

انسان آج تک زمین کی انتہائی گہرائیوں تک براہِ راست پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکا مگر سائنسدان اب ہمارے قدموں کے نیچے چھپی اس دہکتی ہوئی دنیا کے بارے میں حیرت انگیز حد تک معلومات حاصل کر چکے ہیں، جہاں زمین کے مرکز Earth’s Core کا درجہ حرارت سورج کی سطح کے درجہ حرارت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے اندازوں کے مطابق زمین کے اندرونی اور بیرونی مرکز کے درمیان موجود حصے کا درجہ حرارت تقریباً 5 ہزار سے 5 ہزار 500 ڈگری سیلسیئس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جو زمین پر موجود بیشتر معروف مادوں کو پگھلانے کے لیے کافی ہے۔

مزید پڑھیں

زمین کا مرکز بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ 

پہلا بیرونی مائع مرکز ہے، جو زمین کی سطح سے تقریباً 2 ہزار 900 کلومیٹر نیچے شروع ہوتا ہے اور تقریباً 2 ہزار 200 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ 

دوسرا اندرونی ٹھوس مرکز ہے، جو تقریباً 5 ہزار 150 کلومیٹر گہرائی سے شروع ہوتا ہے اور اس کا نصف قطر تقریباً 1 ہزار 220 کلومیٹر ہے۔ 

مرکز کا درجہ حرارت کیسے معلوم ہوا؟

چونکہ زمین کے مرکز تک براہِ راست پہنچنا عملی طور پر ناممکن ہے، اس لیے سائنسدانوں نے لیبارٹریوں میں زمین کے اندرونی ماحول جیسی صورتحال پیدا کی۔

اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی نمایاں تکنیکوں میں ’ڈائمنڈ اینول سیلز‘ Diamond Anvil Cells ہے۔ 

اس طریقے میں لوہے کے انتہائی چھوٹے نمونے کو دو ہیروں کے سروں کے درمیان رکھا جاتا ہے، پھر اس پر فضائی دباؤ سے لاکھوں گنا زیادہ دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ زمین کی گہرائیوں جیسا ماحول پیدا کیا جا سکے۔

24 مايو 2026، 10 15 05 م
سائنسدانوں نے "ڈائمنڈ اینول سیلز" اور جدید لیزر تجربات سے زمین کے اندرونی ماحول کا مطالعہ کیا

اس کے بعد انتہائی طاقتور لیزر شعاعوں کے ذریعے نمونے کا درجہ حرارت ہزاروں ڈگری تک بڑھایا جاتا ہے۔

سائنسدان لوہے کے پگھلنے یا ٹھوس حالت برقرار رکھنے کے عمل کا مشاہدہ کر کے زمین کے مرکز کے درجہ حرارت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ 

ان تجربات سے معلوم ہوا کہ شدید دباؤ لوہے کے نقطۂ پگھلاؤ کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے، جس کی وجہ سے زمین کا اندرونی مرکز انتہائی گرم ہونے کے باوجود ٹھوس حالت میں موجود ہے۔

تحقیق صرف اسی تکنیک تک محدود نہیں رہی، بلکہ سائنسدانوں نے ’شاک ویو تجربات‘ Shock Wave Experiments بھی استعمال کیے۔

زمین کے مرکز کا
درجہ حرارت
5 ہزار سے
5 ہزار 500 ڈگری
سیلسیئس تک
پہنچ سکتا ہے

ان تجربات میں انتہائی تیز رفتار اجسام یا طاقتور لیزر دھماکوں کے ذریعے لوہے کے نمونوں پر شدید دباؤ اور حرارت پیدا کی جاتی ہے، تاکہ زمین کی گہرائیوں جیسی صورتحال پیدا ہو سکے۔انتہائی تیز رفتار ایکس رے اور جدید تصویری نظاموں کی مدد سے سائنسدان لوہے کی ساخت، طبعی کیفیت اور دباؤ کے تحت اس میں آنے والی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔
ان تجربات نے صرف زمین کے مرکز کو سمجھنے میں مدد نہیں دی، بلکہ زمین کے مقناطیسی میدان کے بننے کے عمل اور مریخ و عطارد جیسے پتھریلے سیاروں کی اندرونی ساخت کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کی ہیں۔
زمین کے اندر موجود یہ شدید گرمی دراصل سیارے کی پیدائش کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً 4.5 ارب سال پہلے زمین پگھلے ہوئے مادوں اور دہکتی چٹانوں سے بنی تھی۔
اس دوران لوہے جیسے بھاری عناصر زمین کے مرکز کی طرف ڈوب گئے، جس سے کششِ ثقل کی توانائی شدید حرارت میں تبدیل ہو گئی۔

سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ زمین کی ابتدائی تاریخ میں مریخ کے حجم کے قریب ایک دیوہیکل جسم کے زمین سے ٹکرانے نے بھی زمین کے اندر بے پناہ حرارت پیدا کی۔

بعض ماہرین کے مطابق یورینیم، تھوریم اور پوٹاشیم جیسے تابکار عناصر آج بھی تابکار تحلیل Radioactive Decay کے ذریعے زمین کے اندر حرارت پیدا کر رہے ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سائنسی بحث اب بھی جاری ہے۔

ChatGPT Image 24 مايو 2026، 10 21 05 م
زمین کا گرم مرکز مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے، جو خطرناک شمسی شعاعوں سے حفاظت کرتا ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین نے دوسرے پتھریلے سیاروں کے مقابلے میں اپنی ابتدائی حرارت کا بڑا حصہ محفوظ رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی زمین پر ارضیاتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

زمین کا گرم مرکز صرف ایک حیرت انگیز قدرتی مظہر نہیں بلکہ زمین پر زندگی کے وجود کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بھی ہے۔

زمین کا بیرونی مائع مرکز زمین کا مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے، جو سورج سے آنے والی خطرناک شمسی ہواؤں اور کائناتی شعاعوں کے خلاف حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے۔

اسی طرح زمین کے اندرونی حصے کی حرارت زمینی پلیٹوں Tectonic Plates کی حرکت کا سبب بنتی ہے، جس کے نتیجے میں براعظم اپنی شکل تبدیل کرتے ہیں، جبکہ زمین کی گہرائیوں سے اہم معدنیات اور غذائی عناصر سطح تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

ChatGPT Image 24 مايو 2026، 10 26 27 م
زمین کے اندرونی حصے کی حرارت زندگی کے وجود اور براعظموں کی حرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہے

یہی عمل مختلف ماحولیاتی نظاموں کے قیام اور زندگی کے ارتقا کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنا خلا کی تحقیق جتنا ہی اہم ہے، کیونکہ زمین کے مرکز میں موجود یہی دہکتا ہوا قلب اربوں سال سے ہمارے سیارے کو زندگی کے قابل بنائے ہوئے ہے۔