ماحولیاتی آلودگی دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس میں پلاسٹک کا استعمال سرِفہرست ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی رائس اور ہیوسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسی پیش رفت کی ہے جس سے پلاسٹک کے پائیدار متبادل کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
سائنسدانوں کی نئی تحقیق اور بائیو میٹریل
جرنل ’نیچر کمیونیکیشنز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے بیکٹیریا سے حاصل کردہ سیلولوز کو ایک انتہائی مضبوط اور کثیر المقاصد مٹیریل میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ مٹیریل پیکیجنگ سے لے کر جدید الیکٹرانکس تک پلاسٹک کی جگہ لے سکتا ہے۔
متحرک بائیو ری ایکٹر
اس تحقیق کی سربراہی ہیوسٹن یونیورسٹی کے محمد مقصود رحمن اور رائس یونیورسٹی کے محمد عبدالرحمن سعدی کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایک ’روٹیٹنگ بائیو ری ایکٹر‘ تیار کیا ہے جو بیکٹیریا کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، جس سے سیلولوز کے ریشے منظم اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔
مٹیریل کی حیران کن طاقت اور خصوصیات
عام طور پر سیلولوز بے ترتیب انداز میں بڑھتا ہے، لیکن نئی تکنیک سے اس کی قوتِ کشش 436 میگا پاسکل تک پہنچ گئی۔
بورون نائٹرائیڈ کی شمولیت سے یہ طاقت 553 میگا پاسکل تک بڑھ گئی، جو دھات اور شیشے کے مقابلے میں بھی انتہائی پائیدار ثابت ہوا ہے۔
حرارتی کارکردگی اور مینوفیکچرنگ
یہ نیا مٹیریل شفاف، لچکدار اور ماحول دوست ہے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ عام نمونوں کے مقابلے میں 3گنا تیزی سے حرارت کو خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے الیکٹرانکس کی دنیا میں تھرمل مینجمنٹ کے نئے دروازے کھلیں گے۔
مستقبل کے صنعتی امکانات
محققین کے مطابق یہ طریقہ صنعتی پیمانے پر قابلِ توسیع ہے اور ایک ہی مرحلے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
اس کی مدد سے پیکیجنگ، ٹیکسٹائل، سبز الیکٹرانکس اور توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں کی یہ تحقیق پلاسٹک کے مضر اثرات جیسے کہ مائیکرو پلاسٹکس اور زہریلے کیمیکلز (BPA) کا ایک عملی اور ماحول دوست حل پیش کرتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا کامیاب اطلاق نہ صرف ماحولیاتی بحران کو کم کرے گا بلکہ صنعتوں کو ایک پائیدار اور جدید ترین مٹیریل فراہم کرے گا۔