اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

ایران جنگ: 27 ممالک کا عالمی بینک سے ہنگامی مالی امداد کا مطالبہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی بینک کا ہیڈ کوارٹر، ایران جنگ کے باعث معاشی بحران اور ہنگامی فنڈز کی فراہمی کا ایک تزویراتی خاکہ
ہنگامی ٹول کٹ کے ذریعے 20 سے 25 ارب ڈالر فراہم کیے جا سکتے ہیں، ورلڈ بینک (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کے ساتھ جاری امریکہ و اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید عالمی بحران کے باعث 27 ممالک نے عالمی بینک سے ہنگامی بنیادوں پر مالی امداد حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی بینک کی اندرونی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ 28 فروری 2026 کو مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک 3 ممالک نئے مالیاتی معاہدوں کی منظوری حاصل کر چکے ہیں جبکہ دیگر ابھی عمل میں ہیں۔

اس جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقل جاری کشیدگی کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک تک کھاد جیسی ضروری اشیاء کی رسائی میں شدید مشکلات اور رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

کینیا اور عراق کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی بینک سے فوری مالی مدد مانگ رہے ہیں کیونکہ کینیا میں ایندھن مہنگا ہو گیا ہے جبکہ عراق کی تیل کی آمدنی میں بڑی کمی آئی ہے۔

عالمی بینک کا ہیڈ کوارٹر، ایران جنگ کے باعث معاشی بحران اور ہنگامی فنڈز کی فراہمی کا ایک تزویراتی خاکہ
آئی ایم ایف کی سربراہ نے 12 ممالک کی جانب سے 20 سے 50 ارب ڈالر امداد طلب کیے جانے کی توقع ظاہر کی تھی (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس وقت دنیا کے 101 ممالک کو بحرانی حالات میں پہلے سے طے شدہ مالیاتی سہولیات تک رسائی حاصل ہے جن میں سے 54 ممالک ریپڈ رسپانس آپشن کے تحت اپنے غیر استعمال شدہ فنڈز کا 10 فیصد حصہ فوری استعمال کر سکتے ہیں۔

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کے مطابق بینک کے ہنگامی ٹول کٹ کے ذریعے 20 سے 25 ارب ڈالر فراہم کیے جا سکتے ہیں جبکہ موجودہ منصوبوں کی رقم دوبارہ مختص کرنے سے یہ فنڈ 60 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

عالمی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طویل مدتی پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے اس امدادی رقم کو 100 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ رکن ممالک کو جنگ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی جھٹکوں اور سپلائی چین کے مسائل سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بھی 12 ممالک کی جانب سے 20 سے 50 ارب ڈالر کی امداد طلبی کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی بہت کم درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

عالمی بینک کا ہیڈ کوارٹر، ایران جنگ کے باعث معاشی بحران اور ہنگامی فنڈز کی فراہمی کا ایک تزویراتی خاکہ
جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرین کا کہنا ہے کہ ممالک آئی ایم ایف کے بجائے عالمی بینک سے رجوع کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق آئی ایم ایف کے پروگراموں میں کڑی شرائط اور کفایت شعاری کی پالیسیاں عوامی احتجاج اور سماجی بے چینی کا سبب بنتی ہیں۔

بوسٹن یونیورسٹی کے ماہر کیون گالاگھر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ کینیا جیسے ممالک میں پہلے ہی صورتحال کشیدہ ہے اس لیے حکومتیں محتاط ہیں جبکہ دیگر ممالک فی الحال عالمی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کا کوئی حتمی لائحہ عمل طے کر سکیں۔