صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں امریکی سیاحتی شعبہ شدید بحران کا شکار ہے۔
مزید پڑھیں
سخت سرحدی پالیسیوں اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی بگڑتی ساکھ کے باعث غیر ملکی سیاح دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جس سے امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سیاحتی شعبے میں گراوٹ اور معاشی اثرات
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق 2025 میں امریکہ آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 5.5 فیصد کم ہوئی، جو 9 ارب ڈالرکا نقصان ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر سیاحتی اخراجات میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ 1999ء کے بعد پہلی بار امریکہ کو سیاحتی تجارتی توازن میں خسارے کا سامنا ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیاں اور کینیڈا کا بائیکاٹ
ٹرمپ کے متنازع تجارتی بیانات اور کینیڈا پر تنقید نے کینیڈین سیاحوں کو دُور کر دیا ہے، جن کی تعداد میں 22 فیصد کمی آئی ہے۔
اسی طرح لاس ویگاس جیسے شہر، جو کینیڈین سیاحوں پر منحصر تھے، اب ’ٹرمپ ریسیشن‘ کا شکار ہیں۔ جرمن اور فرانسیسی سیاحوں کی تعداد میں بھی بالترتیب 13 اور 8 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
سیاحتی ویزوں پر سختیاں
امریکی محکمہ خارجہ نے 39 ممالک کے لیے سیاحتی ویزے معطل کردیے ہیں، جن میں ایران، ہیٹی، آئیوری کوسٹ اور سینیگال شامل ہیں۔
ویزا کے لیے ذاتی انٹرویوز اور سوشل میڈیا کی جانچ پڑتال نے بھی سیاحوں میں خوف پیدا کردیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاحتی مقامات کی داخلہ فیس میں 3 گنا اضافے نے بھی صورتحال مزید بگاڑ دی ہے۔
امیگریشن حکام کا رویہ اور عالمی غم و غصہ
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات نے امریکہ کا امیج شدید متاثر کیا ہے۔
85 سالہ فرانسیسی خاتون کی حراست اور دیگر ممالک کے شہریوں کے ساتھ سخت رویے کی عالمی میڈیا میں شدید مذمت ہوئی ہے۔ اس رویے نے امریکہ کو ایک ’غیر مہمان نواز‘ ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔
سیاحتی صنعت پر کاری ضرب
حالات اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ اب کانفرنسز اور عالمی ایونٹس بھی امریکہ سے منتقل کیے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں ’اکیڈمی آف مینجمنٹ‘ نے 2027 میں سیٹل میں ہونے والی اپنی کانفرنس منسوخ کر دی ہے۔ اسی طرح ہوٹل مالکان، ایئرلائنز اور سروس سیکٹر کے کارکنان روزگار کھو رہے ہیں، جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا ’قومی سلامتی‘ کے نام پر سیاحوں کو ہراساں کرنا قلیل مدتی فوائد کے بجائے طویل مدتی معاشی اور سفارتی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔
اگر یہ رجحان برقرار رہا تو امریکہ نہ صرف اپنی معاشی ساکھ بلکہ اپنی ’سافٹ پاور‘ بھی کھو دے گا، جس کے اثرات عالمی سطح پر طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔