اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

عالمی نظام میں تبدیلی: کیا عرب دنیا مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی نظام میں تبدیلی، مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ اور عرب دنیا کے لیے بقا و اتحاد کی ضرورت کا ایک تزویراتی خاکہ
قاہرہ میں عرب لیگ کا صدر دفتر (فوٹو: سوشل میڈیا)

موجودہ عالمی نظام، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل پایا تھا، آج شدید بحران اور کمزوری کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں

اس نظام کی نہ صرف بنیادیں ہل رہی ہیں اور یہ عالمی مفادات کے تحفظ میں ناکام بھی نظر آتا ہے، جس سے دنیا میں انتشار اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

سرد جنگ کا خاتمہ اور عالمی توازن میں خلل

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا سرمایہ دارانہ اور اشتراکی بلاکس میں تقسیم تھی۔ 

سوویت یونین کے انہدام کے بعد عالمی توازن بگڑا اور دنیا صرف ایک طاقت کے زیرِ اثر رہ گئی۔ اس یک قطبی نظام نے دنیا کو غیر متوازن اور مسائل کا شکار بنا دیا ہے۔

مغربی اتحاد میں دراڑیں اور امریکی رویہ

موجودہ دور میں نیٹو (NATO) اور اقوام متحدہ جیسے ادارے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی مفاد پرستانہ رویہ اپنا رہا ہے، جس سے یورپ اپنی سیکیورٹی اور معاشی خودمختاری کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہے۔

عالمی نظام میں تبدیلی، مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ اور عرب دنیا کے لیے بقا و اتحاد کی ضرورت کا ایک تزویراتی خاکہ
نیٹو تقسیم ہونے کے در پہ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

نئے عالمی کھلاڑیوں کا ابھرتا کردار

امریکہ کی حاکمیت کے برعکس روس اپنی پوزیشن دوبارہ مستحکم کر رہا ہے، جبکہ چین ایک محتاط اور طویل مدتی حکمت عملی کے ساتھ معاشی اور عسکری طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

ایسے میں تائیوان سمیت کئی خطے عالمی طاقتوں کے نئے میدانِ عمل بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

عرب دنیا کے لیے بقا کا چیلنج

عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کی کشمکش میں چھوٹے ممالک کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

انڈیا، پاکستان اور لاطینی امریکہ کے ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ اسی طرح عرب دنیا کو بھی اپنے جغرافیائی سیاسی محلِ وقوع اور وسائل کے باوجود متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

عرب اتحاد: دفاعی اور معاشی ضرورت

عرب ممالک کو ایک ایسے مشترکہ دفاعی اور اقتصادی بلاک کی تشکیل کی ضرورت ہے جو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔

یہ اتحاد قومی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ سیکیورٹی، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ایک مضبوط قوت بن کر ابھر سکتا ہے۔

عالمی نظام میں تبدیلی، مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ اور عرب دنیا کے لیے بقا و اتحاد کی ضرورت کا ایک تزویراتی خاکہ
عرب ممالک کو ایسے مشترکہ دفاعی اور اقتصادی بلاک کی تشکیل کی ضرورت ہے جو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مستقبل کا عالمی نظام کمزور اور منتشر ریاستوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھے گا۔ ایسے میں عرب ممالک کا اتحاد جارحانہ نہیں بلکہ اپنے دفاع اور ترقی کے لیے ہونا چاہیے۔

دنیا ہمیشہ طاقتور کو عزت دیتی ہے، لہذا عربوں کو اجتماعی قوت کے ذریعے اپنی بقا کو یقینی بنانا ہوگا۔

عالمی نظام ایک نئی کروٹ لے رہا ہے جہاں پرانے اتحاد بکھر رہے ہیں اور نئی قوتیں ابھر رہی ہیں۔ 

عرب دنیا کے پاس اپنے ثقافتی ورثے اور وسائل کی بدولت موقع ہے کہ وہ انتشار سے نکل کر ایک متحد بلاک کے طور پر عالمی سیاست میں اپنی جگہ بنائے۔ 

یاد رکھیں کہ بقا کا واحد راستہ اجتماعی خودمختاری اور باہمی تعاون ہی میں ہے۔