یمن میں پانی کا بحران: 7 چونکا دینے والے حقائق 💧
+
یمن کے صوبہ تعز میں 11 سالہ صفا سمیت لاکھوں بچوں کے لیے پانی کا ایک ڈبہ بھرنا روزانہ کی خوفناک جنگ بن چکا ہے، جہاں قطاروں میں لڑائی دیکھ کر بچے دہل جاتے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق تعز میں ایندھن کی شدید قلت اور جاری لڑائی کے باعث پانی کی فراہمی کا نظام مکمل بند ہونے کے دہانے پر ہے، جس سے 16 لاکھ بچوں سمیت 30 لاکھ افراد متاثر ہیں۔
پمپ چلانے والے ڈیزل کی سپلائی رکنے اور نقل و حمل متاثر ہونے کے سبب ٹینکروں کے ذریعے فروخت ہونے والے پانی کی قیمت تین گنا بڑھ چکی ہے، جو غریب خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے۔
رواں سال معائنہ کیے جانے والے بچوں میں سے تقریباً ہر 3 میں سے 1 بچہ شدید غذائی قلت کا شکار پایا گیا ہے، جبکہ گندم کے آٹے کے ذخائر بھی انتہائی نچلی سطح پر آ چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے صرف تین ہفتوں میں ہیضے کے مشتبہ کیسز میں تقریباً تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کمزور بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
تعز کے 12 اسپتالوں کے پاس صرف چار دن کا ایندھن باقی رہ گیا ہے، جس سے نومولود بچوں، انتہائی نگہداشت کے مریضوں اور گردوں کے عارضے میں مبتلا افراد کا علاج خطرے میں پڑ گیا ہے۔
یونیسیف اور دیگر ادارے ڈبے بھرنے کے لیے ڈیزل کی فراਹمی، ہنگامی پانی کی ترسیل اور خصوصی غذایی کارٹن پہنچا رہے ہیں، مگر مستقل امن اور تحفظ کے بغیر اس بحران پر قابو پانا ناممکن ہے۔
یمن کی 11 سالہ صفا کے لیے زندگی کا ایک بنیادی کام بھی خوفناک امتحان بن چکا ہے۔ اسے پانی حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، جہاں کبھی معمولی سی مقدار کے حصول کے لیے لوگوں کے درمیان جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ان جھگڑوں کو دیکھ کر ننھی صفا خوفزدہ ہو جاتی ہے، لیکن پانی کے بغیر زندگی گزارنا بھی ممکن نہیں۔
جنگ سے بے گھر ہونے والی صفا اس وقت یمن کے صوبہ تعز میں مقیم ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے اس کی کہانی دنیا کے سامنے پیش کی ہے، جو جنگ زدہ یمن کے لاکھوں بچوں کی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔
صفا نے یونیسیف کے نمائندوں کو بتایا کہ زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔ پانی حاصل کرنا روزانہ کی جدوجہد بن چکا ہے۔ ہم اپنے ڈبے بھرنے کے لیے لمبی قطاروں میں انتظار کرتے ہیں۔ جب لوگوں کو پانی کے لیے لڑتے دیکھتی ہوں تو بہت ڈر جاتی ہوں۔
یمن کا پانی کا بحران اور صفا کی دردناک کہانی
جنگ زدہ تعز میں پانی کی قلت اور بچوں کو درپیش انسانی المیہ
یمن کے صوبہ تعز میں شدید لڑائی اور ایندھن کی قلت کے باعث پانی کا نظام بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
💧 پانی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ
3Xکشیدگی کے بعد ٹینکرز کے ذریعے فراہم کردہ پانی کی قیمت 3 گنا بڑھ چکی ہے، جو غریب خاندانوں کے لیے ایک ناقابل برداشت مالی بوجھ بن گیا ہے۔
🚨 خطرے کی زد میں بچے
16Mپانی کی فراہمی کے نظام سے وابستہ تقریباً 30 لاکھ افراد میں سے 16 لاکھ سے زائد معصوم بچے اس بحران سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
⚠️ شدید غذائی قلت
1/3معائنہ کیے گئے بچوں میں سے تقریباً ہر 3 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار پایا گیا، جسے فوری طبی مدد کی ضرورت ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
یہ چند جملے ایک ایسے انسانی المیے کو بیان کرتے ہیں جس میں پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی بچوں کے لیے خوف اور پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔
16 لاکھ بچوں کے سروں پر نیا خطرہ
یونیسیف نے 20 اکتوبر کو خبردار کیا کہ یمن کے صوبہ تعز میں شدید ہوتی لڑائی اور ایندھن کی قلت کے باعث پانی کی فراہمی کا نظام بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
اس نظام سے تقریباً 30 لاکھ افراد مستفید ہوتے ہیں، جن میں کم از کم 16 لاکھ بچے شامل ہیں۔
صفا کی کہانی: جنگ نے بچوں سے کیا چھین لیا؟ 🧸
▼
یمن کی 11 سالہ صفا کی کہانی محض ایک بچے کی دردভری داستان نہیں، بلکہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح تنازعات اور جنگ نے معصوم بچوں سے کھیل کود، سکون اور محفوظ زندگی کا حق چھین کر انہیں خوف کے ماحول میں دھکیل دیا ہے۔
بار بار نقل مکانی اور خیمہ بستیوں کی زندگی نے بچوں کو تعلیم کے بنیادی زیور اور ذہنی سکون سے محروم کر دیا ہے۔
پانی کے حصول کے دوران ہونے والے روزمرہ کے جھگڑے بچوں کے لاشعور پر منفی اور خوفناک نفسیاتی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق تعز پہلے ہی یمن کے ان علاقوں میں شامل تھا جہاں پانی کی قلت انتہائی سنگین تھی، لیکن تازہ لڑائی نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔
ستمبر میں کشیدگی بڑھنے کے بعد تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار افراد نقل مکانی کرکے تعز پہنچے۔ ان میں بہت سے خاندان ایسے ہیں جو پہلے بھی کئی مرتبہ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یہ لوگ ایسے مقامات پر پناہ لے رہے ہیں جہاں پہلے سے رہائش، خوراک، صاف پانی اور بنیادی سہولتیں کم ہیں۔
پانی کی قیمت 3 گنا بڑھ گئی
تعز میں پانی کے بحران کی ایک بڑی وجہ ایندھن کی قلت ہے۔ پانی کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے پمپ ڈیزل سے چلتے ہیں اور ایندھن کی ترسیل متاثر ہونے سے ان کی بندش کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
16 لاکھ بچوں کی زندگی خطرے میں کیوں ہے؟ ⚠️
تفصیل
تشدیدِ لڑائی اور نقل مکانی
ستمبر میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ایک لاکھ 20 ہزار افراد نے تعز کا رخ کیا، جہاں پہلے سے ہی بنیادی سہولتوں کا فقدان تھا۔
ایندھن کی قلت اور پمپوں کی بندش
پانی کی فراہمی کے نظام کو چلانے والے ڈیزل کی ترسیل متاثر ہونے سے لاکھوں افراد کے لیے پانی کی روانی رکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
غذائی قلت اور آلودہ پانی کے خطرات
صاف پانی کی عدم دستیابی اور غذائی قلت کے شکار بچوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جو ان کی نازک زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
تازہ کشیدگی کے بعد ٹینکروں کے ذریعے فراہم کئے جانے والے پانی کی قیمت 3 گنا ہو چکی ہے۔
جن خاندانوں کے لیے بچوں کی خوراک خریدنا پہلے ہی مشکل تھا، ان کے لیے پانی خریدنا بھی ایک اضافی مالی بوجھ بن گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تعز میں پانی کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ لڑائی کے باعث کچرا اٹھانے اور نکاسی آب کے انتظامات بھی متاثر ہوئے ہیں۔
بھوک اور بیماریوں کا دہرا خطرہ
پانی کی قلت کے ساتھ غذائی بحران نے صورتحال مزید خطرناک بنا دی ہے۔
یونیسیف کے مطابق رواں سال تعز میں ایک لاکھ 68 ہزار سے زیادہ بچوں کی غذائی کیفیت کا معائنہ کیا گیا، جن میں 52 ہزار سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے۔
پانی، بھوک اور بیماریاں: یمن پر تین طرفہ قیامت 🌪️
⚡
ایندھن کی قلت اور تباہ حال نظامِ آب رسانی کی وجہ سے لاکھوں افراد صاف پانی سے محروم ہو چکے ہیں اور ٹینکرز کا پانی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے۔
پچاس ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ گندم کے آٹے کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں جس سے قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
آلودہ پانی کے استعمال کے نتیجے میں ہیضے اور اسہال کے کیسز میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے، جو کمزور بچوں کی جان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ معائنہ کئے گئے تقریباً ہر 3 میں سے ایک بچے کو فوری غذائی مدد کی ضرورت تھی۔
عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ تعز کے متاثرہ علاقوں میں گندم کے آٹے کے ذخائر تقریباً ختم ہونے کے قریب ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق آلودہ پانی سے ہیضہ اور اسہال جیسی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غذائی قلت کا شکار بچوں میں ان بیماریوں کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کا جسم پہلے ہی کمزور ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں تین ہفتوں کے دوران یمن میں ہیضے کے مشتبہ کیسز تقریباً تین گنا ہو گئے۔
یمن کا بحران پاکستان کے لیے کیا سبق رکھتا ہے؟ 🇵🇰
یمن کا یہ انسانی المیہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک سخت انتباہ ہے کہ پانی کے ذخائر کا تحفظ، موثر آبی بندوبست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی تیاری کتنی ناگزیر ہے۔
بحران کے دوران ایندھن کی قلت اور اشیائے ضروریہ بالخصوص پانی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہنگامی حالات کے لیے مضبوط معاشی بفرز تیار رکھے جائیں۔
جنگ زدہ علاقوں میں بچوں اور کمزور طبقات کی غذائی ضروریات اور صحت کے بنیادی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط ہنگامی ادارے اور پالیسیاں انتہائی ضروری ہیں۔
اسپتال بھی مشکلات میں گھر گئے
بحران صرف پانی اور خوراک تک محدود نہیں رہا۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے 20 اکتوبر کو خبردار کیا تھا کہ تعز کے 12 اسپتالوں کے پاس تقریباً چار دن کے لیے ایندھن باقی تھا، جبکہ متعدد ضروری ادویات کے ذخائر بھی تیزی سے ختم ہو رہے تھے۔
ایسی صورتحال میں نومولود بچوں، انتہائی نگہداشت کے مریضوں اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے علاج جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف تعز اور عدن کے درمیان اہم راستوں پر لڑائی نے خوراک، ایندھن اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟ یمن میں انسانی بحران کے 5 ممکنہ خطرات 🔭
⏳
اگر فوری طور پر ڈیزل اور ایندھن کی باقاعدہ سپلائی بحال نہ کی گئی تو تعز کا پورا آبی ڈھانچہ بیٹھ سکتا ہے، جس سے لاکھوں لوگ ایک ساتھ پانی سے محروم ہو جائیں گے۔
آٹے اور بنیادی خوراک کے ذخائر ختم ہونے کی صورت میں قحط जैसी صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے ہزاروں مزید بچے شدید خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔
صاف پانی کی عدم موجودگی اور ناقص نکاسی آب کے باعث ہیضے اور دیگر مہلک امراض وبائی شکل اختیار کر سکتے ہیں جو اسپتالوں پر بوجھ بڑھا دیں گے۔
موجودہ اسپتالوں میں ایندھن اور ادویات کے مکمل خاتمے سے انتہائی نگہداشت کے مریضوں، حاملہ خواتین اور نو مولود بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔
مسلسل جھڑپوں اور امدادی راستوں کی بندش کے باعث لوگ محفوظ پناہ کی تلاش میں مزید نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے انسانی مصائب میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔
امید کی کرن ابھی باقی ہے
ان مشکل حالات میں یونیسیف پانی کی فراہمی کا نظام فعال رکھنے کے لیے ڈیزل مہیا کر رہا ہے تاکہ تقریباً 30 لاکھ افراد کی بنیادی ضرورت پوری ہوتی رہے۔
ادارہ 3 لاکھ سے زیادہ افراد کو ہنگامی بنیادوں پر پانی اور صفائی کی سہولتیں بھی فراہم کر رہا ہے۔
شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج کے لیے تقریباً آٹھ ہزار کارٹن خصوصی غذائی خوراک بھی پہلے سے محفوظ مقامات پر پہنچائے گئے ہیں۔
تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ بنیادی تنصیبات کا تحفظ، محفوظ راستوں کی بحالی اور مسلسل امداد کے بغیر بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔
صفا کی کہانی دنیا سے ایک سوال
گیارہ سالہ صفا کے حالات یمن میں جاری انسانی بحران کی ایک چھوٹی سی جھلک ہیں۔
دنیا کے بہت سے بچوں کے لیے پانی کا گلاس معمول کی بات ہے، لیکن صفا جیسے بچوں کے لیے یہی پانی حاصل کرنا روزانہ کی جدوجہد بن چکا ہے۔
اس کہانی کا سب سے تکلیف دہ پہلو صرف پانی کی کمی نہیں، بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ جنگ نے بچوں کو ان بنیادی تحفظات سے محروم کر دیا ہے جنہیں ہر معاشرے میں ان کا حق سمجھا جاتا ہے۔
یونیسیف نے متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں، بچوں، پانی کی تنصیبات اور اسپتالوں کا تحفظ کریں۔
صفا کی کہانی یاد دلاتی ہے کہ جنگ کا نقصان صرف تباہ شدہ عمارتوں یا نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اس کی ایک قیمت ان بچوں کی صورت میں بھی سامنے آتی ہے جن کے لیے پانی کا ایک ڈبہ حاصل کرنا بھی خوف سے خالی نہیں رہا۔