⚖️
پوائنٹس برابر ہونے پر فاتح کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟
▼
مجموعی پوائنٹس برابر ہونے پر سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس کھلاڑی کو کتنے صحافیوں نے اپنی پہلی پوزیشن یا ترجیح قرار دیا ہے۔
اگر پہلی ترجیح کے ووٹ بھی یکساں ہوں تو بالترتیب دوسری، تیسری اور اگلی پوزیشنز کے ووٹوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جب تک فاتح طے نہ ہو۔
اگر ووٹنگ کے عمل کے دوران کوئی غیر معمولی تنازع یا پیچیدہ صورت حال پیدا ہوجائے، تو ضابطے کے مطابق حتمی حل کا اختیار فرانس فٹبال کے ایڈیٹر ان چیف کے پاس ہوتا ہے۔
فٹبال کی دنیا میں کبھی کبھی ایک گول، ایک لمحہ یا ایک ووٹ تاریخ بدل دیتا ہے، لیکن اگر دنیا کے بہترین فٹبالر کے انتخاب میں دو بڑے ناموں کے پوائنٹس برابر ہوجائیں تو پھر فاتح کون ہوگا؟
مزید پڑھیں
بیلن ڈی اور 2026ء کے موقع پر یہ سوال خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ اس بار کئی بڑے کھلاڑی اعزاز کی دوڑ میں شامل ہیں۔
ایوارڈ کے آفیشل قواعد کے مطابق پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں فاتح کا فیصلہ کرنے کا واضح طریقہ موجود ہے۔ اس میں صرف مجموعی پوائنٹس نہیں، بلکہ ووٹ دینے والے صحافیوں کی پہلی، دوسری اور پھر تیسری ترجیح بھی اہم ہوجاتی ہے۔
بیلن ڈی اور: پوائنٹس برابر ہونے پر دنیا کا بہترین کھلاڑی کون ہوگا؟
فٹبال کے اس بڑے اعزاز میں سخت مقابلے اور ٹائی ہونے کی صورت میں قوانین کا جائزہ
بیلن ڈی اور کی دوڑ میں پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں فاتح کا فیصلہ صحافیوں کی پہلی ترجیح کے ووٹوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
🗳️ ووٹنگ کے آفیشل قواعد
100مردوں کے بیلن ڈی اور کے لیے دنیا بھر سے 100 منتخب اسپورٹس صحافی اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں۔
🥇 پہلی ترجیح کے پوائنٹس
15ہر صحافی کی پہلی ترجیح کے کھلاڑی کو 15، دوسری کو 12 اور تیسری ترجیح کے کھلاڑی کو 10 پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔
⚖️ تاریخ کا کم ترین فرق
11996 میں میتھیاس زامر نے رونالڈو کو صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے شکست دے کر یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
مقابلہ اتنا دلچسپ کیوں ہے؟
لامین یامال، ہیری کین، کائلین ایمباپے، لیونل میسی اور خویچا کواراتسخیلیا جیسے بڑے ناموں کی موجودگی نے اس ایوارڈ کی بحث کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔
ہر کھلاڑی کی انفرادی کارکردگی، ٹیم کی کامیابیاں اور اہم مقابلوں میں اس کا کردار ووٹروں کے فیصلے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
بیلن ڈی اور کی تقریب لندن میں منعقد ہورہی ہے۔ یہ اعزاز فرانس فٹبال میگزین کے زیر اہتمام دیا جاتا ہے، جبکہ تقریب کے انعقاد میں یورپی فٹبال کی تنظیم یوئیفا بھی شریک ہے۔
ووٹنگ کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
➔
منتخب اسپورٹس صحافی
مردوں کے بیلن ڈی اور کے لیے دنیا بھر کے 100 ممالک کے 100 نامور اسپورٹس صحافی ووٹنگ میں حصہ لیتے ہیں۔
کھلاڑیوں کا انتخاب اور پوائنٹس
ہر صحافی 30 نامزد کھلاڑیوں میں سے اپنے پسندیدہ 10 کھلاڑیوں کو ترجیح دیتا ہے؛ پہلی پوزیشن کو 15، دوسری کو 12، تیسری کو 10 اور باقی کو بالترتیب کم پوائنٹس ملتے ہیں۔
حتمی فاتح کا اعلان
تمام ووٹرز کی طرف سے دیے گئے پوائنٹس کو مجموعی طور پر جمع کیا جاتا ہے، اور سب سے زیادہ اسکور حاصل کرنے والا کھلاڑی بہترین قرار پاتا ہے۔
ووٹنگ کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
مردوں کے بیلن ڈی اور کے لیے 100 ممالک کے 100 منتخب اسپورٹس صحافی ووٹ دیتے ہیں۔ ہر صحافی 30 نامزد کھلاڑیوں میں سے اپنی پسند کے 10 کھلاڑیوں کو ترجیحی ترتیب میں رکھتا ہے۔
پہلی ترجیح کے کھلاڑی کو 15، دوسری کو 12 اور تیسری کو 10 پوائنٹس ملتے ہیں۔
What happens if two players receive the same number of votes for the Ballon d'Or? 🤔 Who decides the winner in the event of a TIE? Here is the answer everyone was waiting for ➡️ https://t.co/kygwVylQeg #ballondor https://t.co/eEsPpqAMM2
— Ballon d'Or (@ballondor) October 19, 2026
اس کے بعد چوتھی پوزیشن کے لیے 8، پانچویں کے لیے 7 اور باقی پوزیشنوں کے لیے بالترتیب 5، 4، 3، 2 اور ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے۔
تمام ووٹوں کے پوائنٹس جمع کرنے کے بعد سب سے زیادہ پوائنٹس لینے والا کھلاڑی فاتح بنتا ہے۔
⏳
تاریخ میں کم ترین فرق سے فیصلے
↕
سال 2019ء کا سخت مقابلہ
لیونل میسی نے ورجل فان ڈائک کو شکست دی تھی جہاں دونوں کے درمیان محض 7 پوائنٹس کا فرق تھا (میسی کے 686 اور فان ڈائک کے 679 پوائنٹس تھے)۔
سال 1996ء کی واحد ایک پوائنٹ کی فتح
جرمنی کے میتھیاس زامر (144 پوائنٹس) نے برازیل کے رونالڈو (143 پوائنٹس) کو صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے ہرا کر تاریخ رقم کی۔
تاریخ کا سبق
یہ تاریخی مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیلن ڈی اور جیسے باوقار ایوارڈز میں ایک ایک ووٹ اور معمولی سا پوائنٹ بھی پوری تاریخ اور نتیجہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پوائنٹس برابر ہوں تو کیا ہوگا؟
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک ووٹ پوری بازی پلٹ سکتا ہے۔
فرانس فٹبال کے آفیشل قواعد کے مطابق اگر دو کھلاڑی مجموعی پوائنٹس میں برابر ہوں تو سب سے پہلے دیکھا جائے گا کہ کتنے صحافیوں نے کس کھلاڑی کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔
اگر دونوں کے پہلی پوزیشن والے ووٹ بھی برابر ہوں تو دوسری ترجیح کے ووٹ گنے جائیں گے۔ اس کے بعد ضرورت پڑنے پر تیسری اور پھر اگلی پوزیشنوں کے ووٹ دیکھے جائیں گے، یہاں تک کہ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔
اگر ووٹنگ کے عمل سے متعلق کوئی غیر معمولی تنازع سامنے آئے تو اسے حل کرنے کا اختیار فرانس فٹبال کے ایڈیٹر اِن چیف کے پاس ہوگا۔
⚽
میسی، ایمباپے یا یامال؟ ایوارڈ کی دوڑ میں کیا اہم ہے؟
➔
لامین یامال، ہیری کین، کائلین ایمباپے، لیونل میسی اور خویچا کواراتسخیلیا جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی موجودگی اس سال مقابلے کو انتہائی سنسنی خیز بنا رہی ہے۔
ووٹرز محض گولوں کی تعداد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اہم مقابلوں میں فیصلہ کن کردار، جیتے گئے اعزازات اور مجموعی ٹیم کی کامیابیوں کا گہرا جائزہ لیتے ہیں۔
آفیشل قواعد کے تحت میدان کے اندر کھلاڑی کا رویہ، اسپورٹس مین شپ اور فیئر پلے بھی دنیا کے بہترین فٹبالر کے انتخاب میں ایک اہم اور بنیادی پیمانہ مانا جاتا ہے۔
تاریخ میں ایک پوائنٹ نے فیصلہ بدلا
بیلن ڈی اور کی تاریخ میں سخت مقابلوں کی مثالیں پہلے بھی موجود ہیں۔
2019ء میں لیونل میسی نے ورجل فان ڈائک کو 686 کے مقابلے میں 679 پوائنٹس لے کر شکست دی تھی۔ یعنی دونوں کے درمیان صرف سات پوائنٹس کا فرق تھا۔
العاصمة البريطانية لندن تستضيف، مساء اليوم الاثنين، حفل الكرة الذهبية لإعلان أفضل لاعب ولاعبة في العالم، وسط منافسة مرتقبة بين هاري كين ولامين يامال وكيليان مبابي، فيما تتصدر أليكسيا بوتياس ترشيحات السيدات.. فمن يتوج بالجائزة؟ 🏆 https://t.co/YE2Wn1QMyk
— الجزيرة - رياضة (@AJASports) October 26, 2026
اس سے بھی زیادہ حیران کن مقابلہ 1996ء میں ہوا، جب جرمنی کے میتھیاس زامر نے برازیل کے رونالڈو کو صرف ایک پوائنٹ سے پیچھے چھوڑ دیا۔
زامر کے 144 جبکہ رونالڈو کے 143 پوائنٹس تھے۔ یہ بیلن ڈی اور کی تاریخ میں ایک پوائنٹ کے فرق سے ہونے والی واحد فتح ہے۔
صرف گول نہیں، اور بھی بہت کچھ
بیلن ڈی اور کے ووٹرز صرف گولوں کی تعداد نہیں دیکھتے، بلکہ آفیشل قواعد کے مطابق انفرادی کارکردگی، اہم مواقع پر کھلاڑی کا فیصلہ کن کردار، ٹیم کی کامیابیاں اور جیتے گئے اعزازات بھی اہم ہیں۔
اس کے ساتھ کھیل کے دوران رویے اور فیئر پلے کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
آخرکار بیلن ڈی اور کا فیصلہ محض مجموعی پوائنٹس کی گنتی نہیں، بلکہ اس بات کا بھی امتحان ہے کہ کتنے صحافی کسی کھلاڑی کو باقی امیدواروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔
اگر مقابلہ آخری حد تک برابر رہے تو پہلی ترجیح کے ووٹ ہی دنیا کے بہترین فٹبالر کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔