براہ راست نشریات

یمن میں انسانی بحران، دو لاکھ افراد گھر چھوڑنے پر مجبور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Yemen displacement crisis

یمن میں نئی جنگ کا انسانی اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
باب المندب، تعز اور مغربی ساحل کے محاذوں پر لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
خوراک، رہائش، پانی اور امدادی وسائل کی کمی نے بحران کو مزید سنگین بنادیا ہے۔

یمن کی حالیہ جنگ کو صرف باب المندب، المخا، تعز یا صنعاء کے فوجی نقشے سے سمجھنا کافی نہیں۔ 

اس بحران کی اصل قیمت وہ ہزاروں خاندان ادا کررہے ہیں جو چند ہفتوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت، IOM، کے تازہ Displacement Tracking Matrix کے مطابق یکم جنوری سے 3 اکتوبر 2026 تک 31,844 خاندان، یعنی 191,064 افراد کم از کم ایک بار بے گھر ہوئے۔ 

📊 اہم اعداد — بحران کتنا بڑا؟

191,064 افراد: یکم جنوری سے 3 اکتوبر 2026 تک کم از کم ایک بار بے گھر ہوئے۔

174,132 افراد: یکم اگست سے 3 اکتوبر تک نئی اندرونی نقل مکانی۔

53 لاکھ سے زیادہ: یمن میں مجموعی طور پر اندرونِ ملک بے گھر افراد۔

21,798 افراد: صرف 27 ستمبر سے 3 اکتوبر کے ایک ہفتے میں نئی نقل مکانی۔

صرف 27 ستمبر سے 3 اکتوبر کے ایک ہفتے میں 21,798 افراد نے اپنا گھر چھوڑا۔ 

ان میں سب سے بڑی تعداد تعز میں ریکارڈ کی گئی۔

دوسری طرف UNHCR کے تازہ اعداد کے مطابق یکم اگست سے 3 اکتوبر تک 174,132 افراد نئے طور پر اندرونِ ملک بے گھر ہوئے۔ 

یمن میں اس وقت مجموعی طور پر اندرونِ ملک بے گھر افراد کی تعداد تقریباً 53 لاکھ 75 ہزار ہے۔

مزید پڑھیں

تعز سب سے زیادہ دباؤ میں

تازہ نقل مکانی کا سب سے نمایاں مرکز تعز ہے۔

IOM کے مطابق صرف 27 ستمبر سے 3 اکتوبر کے دوران تعز میں 2,838 خاندانوں کی نئی نقل مکانی ریکارڈ کی گئی۔ 

الشمایتین، جبل حبشی اور المعافر سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں، اور زیادہ تر خاندان صوبے کے اندر ہی نسبتاً محفوظ علاقے سے 

دوسرے علاقے کی طرف منتقل ہوئے۔

یہ وہی تعز ہے جو موجودہ جنگ میں ایک انتہائی اہم فوجی محاذ بن چکا ہے۔ 

حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید لڑائی، فضائی حملے، سڑکوں کی بندش اور رسد کے راستوں پر دباؤ نے عام شہریوں کے لیے رہائش برقرار رکھنا مشکل کردیا ہے۔

🔥 تعز سب سے زیادہ دباؤ میں کیوں؟

تعز موجودہ جنگ کے سب سے حساس زمینی محاذوں میں شامل ہے۔

شدید لڑائی، فضائی حملے اور سڑکوں کی بندش نے ہزاروں خاندانوں کو اپنے ہی صوبے کے اندر نسبتاً محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا۔

IOM کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے میں تعز نئی نقل مکانی کے بڑے مراکز میں شامل رہا۔

یعنی تعز میں جو نقشہ فوجی نقطۂ نظر سے ’اہم محاذ‘ دکھائی دیتا ہے، وہ عام شہری کے لیے گھر چھوڑنے، بچوں کو محفوظ جگہ پہنچانے اور خوراک کا اگلا ذریعہ تلاش کرنے کا سوال ہے۔

باب المندب کی جنگ کا انسانی اثر

باب المندب اور یمن کے مغربی ساحل پر گزشتہ ہفتوں میں بڑی فوجی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے ساحلی علاقوں اور المخا کی طرف پیش قدمی کی، جبکہ حوثیوں نے بعض دوسرے محاذوں پر جوابی کارروائیاں کیں۔

رائٹرز کے مطابق 5 اکتوبر تک نئی لڑائی کے نتیجے میں کم از کم 184 ہزار افراد بے گھر ہوچکے تھے۔ 

اس کے بعد بھی جھڑپیں جاری رہیں، اس لیے تازہ IOM اعداد اس بحران کے تقریباً دو لاکھ کے قریب پہنچنے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ باب المندب پر فوجی کنٹرول کی بحث میں انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

🌊 باب المندب کی جنگ کا انسانی چہرہ

باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم ہے، مگر اس کے اطراف رہنے والے شہریوں کے لیے جنگ کا مطلب گھر چھوڑنا، روزگار کھونا اور محفوظ مقام تلاش کرنا ہے۔

ساحلی علاقوں میں لڑائی بڑھنے سے سڑکیں، مقامی منڈیاں اور امدادی راستے متاثر ہوتے ہیں۔

فوجی نقشے پر ہونے والی ہر تبدیلی کا براہ راست اثر عام خاندانوں کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔

یہ گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، مگر اس کے اطراف کے علاقوں میں رہنے والے یمنی شہریوں کے لیے جنگ کا مطلب نقل مکانی، بند سڑکیں، مہنگا ایندھن اور خوراک تک مشکل رسائی ہے۔

خوراک کا بحران مزید سنگین

نقل مکانی کا مسئلہ صرف رہائش تک محدود نہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام، WFP، کے مطابق یمن کے بعض حکومتی زیرِ انتظام علاقوں میں ہر 4 میں سے 3 خاندان غذائی عدم تحفظ کا سامنا کررہے ہیں۔ 

نئی جنگ نے پہلے سے کمزور خوراکی نظام کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

🍞 خوراک کا بحران کیوں بڑھ رہا ہے؟

یمن اپنی خوراک کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے بندرگاہوں اور اہم راستوں میں خلل قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق بعض حکومتی علاقوں میں تقریباً ہر چار میں سے تین خاندان غذائی عدم تحفظ کا سامنا کررہے ہیں۔

نئی نقل مکانی کے باعث امدادی اداروں پر خوراک اور نقد مدد فراہم کرنے کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

یمن اپنی تقریباً 90 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے۔ 

اس لیے باب المندب یا دوسرے ساحلی راستوں میں خلل صرف بندرگاہوں کا مسئلہ نہیں رہتا، گندم، آٹا، خوردنی تیل اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمت تک متاثر ہوسکتی ہے۔

WFP نے خبردار کیا ہے کہ اسے 152 ہزار نئے بے گھر افراد اور پہلے سے امداد لینے والے تقریباً 14 لاکھ افراد کی مدد جاری رکھنے کے لیے فوری اضافی وسائل درکار ہیں۔ 

ادارے نے 109 ملین ڈالر کی فوری ضرورت کا ذکر کیا ہے۔

محفوظ جگہ بھی کتنی محفوظ؟

بے گھر ہونے والے خاندان اکثر کسی باقاعدہ کیمپ یا مکمل سہولیات والے مرکز تک نہیں پہنچتے۔

کئی خاندان رشتہ داروں، اسکولوں، عارضی پناہ گاہوں یا پہلے سے دباؤ کا شکار بے گھر افراد کے مراکز میں منتقل ہوتے ہیں۔ پانی، صفائی، ادویات اور مناسب رہائش کی کمی فوری مسئلہ بن جاتی ہے۔

⛺ بے گھر خاندان کہاں جاتے ہیں؟

بے گھر ہونے والے تمام خاندان باقاعدہ کیمپوں تک نہیں پہنچتے۔

بہت سے لوگ رشتہ داروں، عارضی پناہ گاہوں، اسکولوں یا پہلے سے موجود بے گھر آبادی کے مراکز میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ایسی جگہوں پر پانی، صفائی، ادویات اور مناسب رہائش کی کمی فوری مسئلہ بن جاتی ہے۔

اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ حالیہ تشدد میں بے گھر افراد کے کیمپ اور طبی مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ستمبر کے آخری ہفتے تک اقوام متحدہ نے نقل مکانی کے مراکز پر حملوں اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات بھی دی تھیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر چھوڑنا ہمیشہ حفاظت کی ضمانت نہیں۔

پانچ ملین سے زیادہ پہلے ہی بے گھر

تازہ بحران ایک ایسے ملک میں آیا ہے جہاں نقل مکانی پہلے ہی غیر معمولی سطح پر ہے۔

UNHCR کے مطابق 3 اکتوبر تک یمن میں مجموعی طور پر 5,375,220 افراد اندرونِ ملک بے گھر تھے۔ ان میں 52 لاکھ سے زیادہ وہ لوگ شامل ہیں جو موجودہ نئی لہر سے پہلے ہی نقل مکانی کی زندگی گزار رہے تھے۔

🚑 امدادی نظام پر کتنا دباؤ ہے؟

نقل مکانی کی نئی لہر ایک ایسے وقت آئی ہے جب یمن کا امدادی نظام پہلے ہی وسائل کی کمی سے دوچار ہے۔

مزید خاندانوں کے آنے سے خوراک، طبی سہولیات، صاف پانی اور عارضی رہائش کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اگر جنگ مزید پھیلی تو موجودہ امدادی صلاحیت ناکافی ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ اعداد بتاتے ہیں کہ یمن میں نئی جنگ کسی مستحکم معاشرے پر نہیں آئی بلکہ ایک ایسے ملک میں شروع ہوئی جہاں لاکھوں لوگ پہلے ہی برسوں سے اپنے اصل گھروں سے دور ہیں۔

آگے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟

اگر جنگ تعز سے الحدیدہ، مأرب، الجوف یا بالآخر صنعاء کی سمت پھیلتی ہے تو نقل مکانی کی موجودہ تعداد صرف آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔

فوجی لحاظ سے کئی محاذ کھولنے سے حوثیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن انسانی لحاظ سے ہر نیا محاذ ایک نئی آبادی کو گھر چھوڑنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

⚠️ اگلا خطرہ — جنگ مزید پھیلی تو؟

اگر لڑائی تعز سے الحدیدہ، مأرب، الجوف یا صنعاء کی سمت پھیلتی ہے تو نئی نقل مکانی کی تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

ہر نیا محاذ صرف فوجی دباؤ نہیں بڑھاتا بلکہ اس کے ساتھ نئی شہری آبادی محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔

اسی لیے آنے والے ہفتے انسانی بحران کے لحاظ سے انتہائی اہم ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے یمن کے موجودہ بحران کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ باب المندب کس کے پاس ہے یا اگلا فوجی ہدف کون سا شہر ہوگا۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو لاکھوں شہری کہاں جائیں گے، انہیں خوراک کون دے گا اور پہلے ہی پانچ ملین سے زیادہ بے گھر افراد کا بوجھ اٹھانے والا یمن مزید کتنی نقل مکانی برداشت کرسکے گا؟

فوجی نقشے چند دنوں میں بدل سکتے ہیں، مگر گھر چھوڑنے والے خاندانوں کے لیے جنگ ختم ہونے کے بعد بھی واپسی کا سفر برسوں طویل ہوسکتا ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

IOM — Displacement Tracking Matrix:
2026 میں یکم جنوری سے 3 اکتوبر تک 191,064 افراد کی نقل مکانی اور ہفتہ وار تازہ اعداد۔
اصل رپورٹ کھولیں


UNHCR — Yemen:
یمن میں مجموعی اندرونی نقل مکانی اور نئی بے گھر آبادی کے تازہ اعداد۔
اصل ڈیٹا کھولیں


Reuters — 5 October 2026:
باب المندب، المخا اور نئی لڑائی کے دوران بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی تفصیل۔
اصل خبر کھولیں


Reuters / WFP — 2 October 2026:
خوراک کے بحران، بے گھر افراد کی امداد اور اضافی فنڈز کی ضرورت کا جائزہ۔
اصل رپورٹ کھولیں