براہ راست نشریات

باب المندب کے بعد صنعاء؟ یمن جنگ کا اگلا فیصلہ کن محاذ کہاں ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Yemen war after Bab al-Mandab

باب المندب کے اطراف حکومتی پیش قدمی نے یمن جنگ کا رخ بدلنے کے امکانات پیدا کردیئے ہیں۔
اگر ساحلی کامیابیاں برقرار رہتی ہیں تو اگلا مرحلہ تعز کے محاذ کو محفوظ کرنا، الحدیدہ پر دباؤ بڑھانا اور بعد میں صنعاء کی طرف پیش قدمی کا راستہ بنانا ہوسکتا ہے۔

یمن کی جنگ چند ہی دنوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے 5 اکتوبر کو باب المندب کے اطراف ساحلی علاقے میں تیز پیش قدمی کرتے ہوئے ذوباب سے المخا تک کئی اہم مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ 

سعودی فضائی حملوں نے اس زمینی کارروائی کو بڑے پیمانے پر مدد فراہم کی۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. یمنی حکومتی فورسز نے باب المندب کے ساحلی علاقوں سے المخا تک پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔

2. سعودی فضائی مدد نے ساحلی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔

3. اگلا بڑا امتحان تعز اور ممکنہ طور پر الحدیدہ ہوسکتا ہے۔

4. صنعاء سیاسی طور پر بڑا ہدف ہے، مگر فوری زمینی محاذ بننا ضروری نہیں۔

یمنی وزارت دفاع نے المخا پر کنٹرول کا اعلان کیا جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجو ساحلی علاقوں سے پہاڑی علاقوں کی طرف پیچھے ہٹے ہیں۔

تاہم احتیاط ضروری ہے۔ 

رائٹرز نے کہا ہے کہ وہ حکومتی فورسز کی تمام زمینی کامیابیوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا، جبکہ حوثیوں نے کئی سرکاری دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

باب المندب کی واپسی اتنی بڑی کامیابی کیوں؟

باب المندب دنیا کی انتہائی اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔

حوثیوں نے گزشتہ ماہ حیران کن پیش قدمی میں تقریباً 150 کلومیٹر بحیرہ احمر کا ساحل اور باب المندب کے قریب اہم علاقے اپنے کنٹرول میں لے لیے تھے۔ 

🌊 باب المندب کی واپسی اتنی اہم کیوں؟

باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے۔

یہاں طاقت کا توازن عالمی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور نہر سویز کی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

اسی لیے ساحلی پیش قدمی صرف یمن کا فوجی معاملہ نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سکیورٹی کا سوال ہے۔

مزید پڑھیں

اس پیش رفت نے سعودی عرب، خلیجی ممالک اور عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کردی تھی کیونکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران–امریکا تنازع کے باعث دباؤ میں تھی۔

اگر حوثی باب المندب پر مستقل فوجی گرفت قائم رکھتے تو دنیا کے دو انتہائی اہم تیل اور تجارتی راستوں—ہرمز اور باب المندب—پر ایک ہی علاقائی محور کا دباؤ بڑھ سکتا تھا۔

اسی لیے سعودی عرب کے لیے ساحلی محاذ کی واپسی محض یمن کی جنگ نہیں بلکہ بحیرہ احمر کی اسٹریٹجک سلامتی کا مسئلہ تھی۔

لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

باب المندب کی تازہ پیش قدمی ایک اہم فوجی کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حوثی خطرہ ختم ہوگیا۔

حوثیوں کے پاس ساحل سے دور علاقوں سے بھی بحری جہازوں، سعودی شہروں اور توانائی تنصیبات کو ڈرون اور میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

🗺️ ساحلی نقشہ کیسے بدلا؟

حوثیوں نے گزشتہ ہفتوں میں بحیرہ احمر کے ساحل اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں میں اپنی موجودگی بڑھائی تھی۔

اب یمنی حکومتی فورسز ذباب سے المخا تک کئی مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کررہی ہیں۔

تاہم تمام زمینی کامیابیوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے سرکاری دعووں کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے۔

حکومتی پیش قدمی کے جواب میں حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو ریفائنری، ابہا ایئرپورٹ اور خمیس مشیط فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے، اگرچہ رائٹرز ان دعوؤں کی فوری آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔

یوں زمینی علاقہ واپس لینا ایک مرحلہ ہے، حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیت محدود کرنا کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہوگا۔

اگلا بڑا محاذ: تعز؟

موجودہ نقشے میں سب سے حساس مقام تعز ہے۔

حوثیوں نے ساحلی علاقوں میں پسپائی کے باوجود تعز کے قریب بعض اہم پہاڑی راستوں پر پیش قدمی کی ہے۔ حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں سرکاری فورسز پر دباؤ بڑھا ہے اور شہر کے گرد رسد کے راستوں کے بارے میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

🔥 اگلا بڑا محاذ — تعز؟

تعز شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان ایک انتہائی اہم جغرافیائی دروازہ ہے۔

یہاں حوثی دباؤ برقرار رہا تو ساحلی کامیابی کے باوجود حکومتی فورسز کی اندرونِ ملک پیش قدمی مشکل ہوسکتی ہے۔

اسی وجہ سے تعز فوری طور پر یمن جنگ کا سب سے حساس زمینی محاذ بن سکتا ہے۔

تعز اس لیے اہم ہے کہ یہاں حوثیوں کی مضبوط پوزیشن انہیں شمالی یمن، مغربی ساحل اور جنوب کی سمت جانے والے راستوں پر بڑی برتری دے سکتی ہے۔

اس سے پہلے یمنی حکومتی فورسز تعز میں صرف 3 گھنٹوں کے دوران 20 فضائی حملوں کا اعلان کرچکی ہیں، جبکہ تقریباً 19 سڑکیں فوجی آپریشنل علاقے قرار دے کر بند کی گئی تھیں۔

اس لیے باب المندب کے بعد فوری زمینی فیصلہ شاید صنعاء سے پہلے تعز کے گرد ہوگا۔

صنعاء حکومت کا
آخری سیاسی
ہدف ہوسکتا ہے

الحدیدہ کیوں اگلا ہدف؟

دوسرا اہم امکان الحدیدہ ہے۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے 5 اکتوبر کو الحدیدہ صوبے میں بحری فوجی کارروائی کی بھی اطلاع دی۔
اگر حکومتی فورسز المخا سے شمال کی طرف ساحلی دباؤ جاری رکھتی ہیں تو الحدیدہ کا محاذ مزید اہم ہوسکتا ہے۔
الحدیدہ یمن کی اہم ترین بحیرہ احمر بندرگاہوں میں شامل ہے اور حوثیوں کے زیرِ قبضہ شمالی علاقوں کے لیے درآمدات اور رسد کا بڑا دروازہ ہے۔
لیکن یہاں بڑی زمینی جنگ انسانی بحران کو انتہائی سنگین بنا سکتی ہے، کیونکہ لاکھوں شہری خوراک اور ضروری سامان کے لیے اس ساحلی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

⚓ الحدیدہ کیوں اگلا ہدف بن سکتی ہے؟

الحدیدہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ شمالی علاقوں کے لیے ایک اہم ساحلی اور رسدی مرکز ہے۔

اگر حکومتی فورسز المخا سے شمال کی طرف دباؤ بڑھاتی ہیں تو الحدیدہ کا محاذ زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔

لیکن یہاں بڑی جنگ انسانی بحران کو شدید کرسکتی ہے کیونکہ لاکھوں شہری خوراک اور ضروری سامان کے لیے ساحلی راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔

تو کیا اگلا ہدف صنعاء ہے؟

سیاسی طور پر ہاں، فوجی طور پر شاید فوراً نہیں۔

یمنی صدر رشاد العلیمی نے واضح کہا ہے کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ملک کو حوثیوں کے کنٹرول سے آزاد نہیں کرایا جاتا۔ 

حکومت نے صنعاء صوبے میں بھی حملے شروع کیے ہیں۔

لیکن صنعاء 2014 سے حوثیوں کا مرکزی سیاسی اور فوجی گڑھ ہے۔ 

دارالحکومت اور اس کے اطراف کے پہاڑی علاقوں میں زمینی پیش قدمی ساحلی میدانوں کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہوگی۔

🏙️ کیا صنعاء اگلا ہدف ہے؟

سیاسی طور پر ہاں، فوجی طور پر شاید فوراً نہیں۔

صنعاء 2014 سے حوثیوں کا مرکزی سیاسی و فوجی گڑھ ہے اور پہاڑی جغرافیہ زمینی پیش قدمی کو مشکل بناتا ہے۔

زیادہ امکان یہ ہے کہ حکومت پہلے باب المندب–المخا کی پوزیشن مستحکم کرے، تعز کا دباؤ کم کرے اور پھر شمال کی طرف بڑھے۔

اس لیے یہ سمجھنا زیادہ منطقی ہے کہ حکومت پہلے باب المندب–المخا کی پوزیشن مستحکم، تعز کا محاصرہ توڑنے، اور ممکنہ طور پر الحدیدہ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گی۔

صنعاء شاید اس مہم کا آخری سیاسی ہدف ہو، ضروری نہیں کہ اگلا فوری زمینی محاذ بھی وہی ہو۔

سب سے بڑا خطرہ: جنگ کئی محاذوں پر پھیل جائے

سعودی عرب پہلے ہی ایک ایسے وسیع منصوبے پر غور کرتا رہا ہے جس میں ایک لاکھ سے زیادہ یمنی اہلکار مختلف محاذوں—تعز، مأرب، البیضاء اور الجوف—پر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

🚀 حوثی جوابی حملوں کا خطرہ

ساحلی علاقوں سے پسپائی حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیت ختم نہیں کرتی۔

حوثی سعودی شہروں، فوجی اڈوں، ہوائی اڈوں یا توانائی تنصیبات کو دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس لیے زمینی کامیابی کے ساتھ فضائی دفاع بھی آنے والے مرحلے کا بنیادی عنصر رہے گا۔

اگر ساحلی کامیابی کے بعد یہی وسیع آپشن اختیار کیا جاتا ہے تو حوثیوں کو کئی محاذوں پر اپنی فوج تقسیم کرنا پڑے گی۔

لیکن یہی حکمت عملی جنگ کو مزید وسیع بھی کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق تازہ لڑائی شروع ہونے کے بعد 184 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

اصل سوال اب باب المندب نہیں

چند ہفتے پہلے سوال یہ تھا کہ کیا حوثی باب المندب پر مستقل قبضہ جما لیں گے۔

آج سوال بدل چکا ہے۔

اگر حکومتی فورسز ساحلی کامیابی برقرار رکھتی ہیں تو اگلا امتحان یہ ہوگا کہ کیا وہ تعز کو محفوظ، الحدیدہ پر دباؤ اور بالآخر صنعاء کی طرف سیاسی و فوجی راستہ بنا سکتی ہیں۔

باب المندب کی لڑائی شاید جیتنے کے قریب ہو، لیکن یمن کی اصل جنگ ابھی بہت دور تک جاسکتی ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Reuters — 5 October 2026:
باب المندب کے ساحلی علاقوں، المخا کی جانب پیش قدمی، حوثی ردعمل اور سعودی فضائی مدد کی تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں


Reuters — 4 October 2026:
یمنی حکومت کی حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کی واپسی کے لیے وسیع فوجی کارروائی اور صنعاء سمیت آئندہ اہداف کا پس منظر۔
اصل خبر کھولیں


Reuters — 2 October 2026:
تعز میں فضائی حملوں، راستوں کی بندش اور باب المندب و بحیرہ احمر کے لیے تعز کی اہمیت۔
اصل رپورٹ کھولیں


Reuters — 2 October 2026:
ایک لاکھ سے زیادہ یمنی اہلکاروں پر مشتمل ممکنہ وسیع آپریشن اور کئی محاذوں کی منصوبہ بندی۔
اصل تجزیہ کھولیں