براہ راست نشریات

انار کے قدرتی مرکب سے دل کی کمزوری کے علاج کی نئی امید

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Urolithin A Heart Failure

برطانوی محققین کی ابتدائی تحقیق میں انار سے وابستہ قدرتی مرکب یورولیتھن اے نے دل کے پٹھوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے امید افزا نتائج ظاہر کئے ہیں۔

دل کی کمزوری یا ہارٹ فیلیئر دنیا بھر میں صحت کے بڑے مسائل میں شامل ہے۔ 

اس بیماری میں دل جسم کی ضروریات کے مطابق خون پمپ کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ 

بعض مریضوں میں دل کے پٹھے سخت ہوجاتے ہیں، جس سے دل کے لیے خون سے بھرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

2۔ یورولیتھن اے کیا ہے؟

یورولیتھن اے (Urolithin A) ایک مرکب ہے جو مخصوص غذائی اجزا کو آنتوں کے جراثیم کے ذریعے تبدیل کرنے سے بنتا ہے۔

ہر شخص میں اس کی پیداوار یکساں نہیں ہوتی۔

اب برطانیہ کے کنگز کالج لندن کے محققین نے ایک ایسے قدرتی مرکب کے بارے میں امید افزا نتائج پیش کئے ہیں جو مستقبل میں دل کی بعض بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

انار اور دل کی صحت کا تعلق

تحقیق کا مرکز ایک قدرتی مرکب یورولیتھن اے (Urolithin A) ہے، جو انار، بعض بیریوں اور اخروٹ جیسے غذائی ذرائع میں موجود مخصوص مادوں کو آنتوں کے بیکٹیریا کے ذریعے تبدیل کرنے سے بنتا ہے۔

یہ مرکب جسم کے خلیوں میں توانائی پیدا کرنے والے حصوں، یعنی مائٹوکونڈریا، کی صحت سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔

مائٹوکونڈریا دل کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ دل کو مسلسل دھڑکنے اور خون پمپ کرنے کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے۔

3۔ دل کے لیے اس کی اہمیت

دل کو مسلسل کام کرنے کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔

محققین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ مرکب خلیوں کے توانائی پیدا کرنے والے حصوں، مائٹوکونڈریا، پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ خلیوں میں توانائی کے نظام کو بہتر بنانا دل کے پٹھوں کو نقصان سے بچانے کی ایک ممکنہ حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

محققین نے تجرباتی ماڈلز میں یورولیتھن اے کے اثرات کا جائزہ لیا۔ نتائج کے مطابق اس مرکب سے دل کے پٹھوں کے آرام کرنے کی صلاحیت میں بہتری اور بعض نقصان دہ ساختی تبدیلیوں میں کمی دیکھی گئی۔

4۔ تحقیق میں کیا نتائج ملے؟

تجرباتی ماڈلز میں دل کے پٹھوں کے آرام کرنے کی صلاحیت میں بہتری کے اشارے ملے۔

بعض ماڈلز میں پٹھوں کی سختی اور فائبروسس جیسے نقصان دہ عوامل کم ہوئے۔

یہ نتائج ابھی مریضوں میں علاج کی کامیابی ثابت نہیں کرتے۔

خاص طور پر دل کے پٹھوں میں پیدا ہونے والے سخت ریشوں، جنہیں طبی زبان میں فائبروسس کہا جاتا ہے، میں کمی کے آثار سامنے آئے۔

فائبروسس بڑھنے سے دل کی لچک متاثر ہوتی ہے اور اسے معمول کے مطابق کام کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔

رپورٹ میں بعض تجرباتی اشاریوں میں 80 فیصد تک بہتری کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم یہ شرح مخصوص تجرباتی نتائج سے متعلق ہے، اسے مریضوں میں دل کی کارکردگی یا صحت یابی میں 80 فیصد بہتری نہیں سمجھنا چاہئے۔

تحقیق میں جانوروں کے ماڈلز کے ساتھ تجربہ گاہ میں تیار کردہ انسانی قلبی بافتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

کیا یہ دل کی بیماری کا نیا علاج ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق یہ دریافت اہم ضرور ہے، لیکن ابھی ابتدائی تحقیق کے مرحلے میں ہے۔

کسی بھی نئے مرکب کو باقاعدہ دوا بنانے سے پہلے انسانوں پر منظم طبی تجربات ضروری ہوتے ہیں۔ 

5۔ 80 فیصد بہتری کا مطلب کیا ہے؟

رپورٹ میں بعض تجرباتی اشاریوں میں 80 فیصد تک بہتری کا ذکر ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسانی مریضوں کا دل 80 فیصد زیادہ طاقتور ہوگیا یا بیماری 80 فیصد ٹھیک ہوگئی۔

ان تجربات سے معلوم کیا جاتا ہے کہ دوا کتنی مؤثر ہے، کس مقدار میں دی جانی چاہئے اور اس کے ممکنہ مضر اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ یورولیتھن اے دل کی کن مخصوص بیماریوں میں زیادہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اس لیے موجودہ نتائج کی بنیاد پر اسے ہارٹ فیلیئر کا ثابت شدہ علاج نہیں کہا جاسکتا۔

کیا زیادہ انار کھانے سے دل مضبوط ہوگا؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

انار ایک غذائیت بخش پھل ہے، جس میں مختلف مفید نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ 

تاہم ہر شخص کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا یکساں نہیں ہوتے، اس لیے انار کھانے کے بعد یورولیتھن اے کی پیداوار بھی مختلف ہوسکتی ہے۔

6۔ کیا زیادہ انار کھانا کافی ہے؟

انار غذائیت بخش پھل ہے، لیکن اس سے ہر شخص میں یورولیتھن اے کی یکساں مقدار نہیں بنتی۔

انار کھانا اور تجربہ گاہ میں مرکب کی مخصوص خوراک دینا دو مختلف باتیں ہیں۔

انار کو دل کی بیماری کی دوا کا متبادل نہ سمجھیں۔

مزید یہ کہ تجربہ گاہ میں کسی مخصوص مرکب کی مقررہ مقدار استعمال کرنا اور عام غذا کے ذریعے وہی اثر حاصل کرنا دو الگ معاملات ہیں۔

اس لیے زیادہ انار کھانے سے دل کی کمزوری دور ہونے کا دعویٰ سائنسی طور پر ثابت نہیں۔

مریضوں کے لیے کیا پیغام ہے؟

دل کی کمزوری کے مریضوں کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں اور اپنی خوراک، بلڈ پریشر، وزن اور جسمانی سرگرمی پر توجہ دیں۔

7۔ دل کے مریض کیا کریں؟

ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات خود سے بند نہ کریں۔

بلڈ پریشر، وزن، خوراک اور جسمانی سرگرمی کے بارے میں معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔

کوئی نیا سپلیمنٹ شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

کسی نئے غذائی سپلیمنٹ کو دل کی موجودہ ادویات کا متبادل سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
اس تحقیق کی اصل اہمیت یہ ہے کہ سائنس دانوں کو دل کے خلیوں کی توانائی اور پٹھوں کی لچک بہتر بنانے کے لیے ایک نیا ممکنہ راستہ ملا ہے۔

اگر مستقبل میں انسانی تجربات بھی مثبت نتائج دیتے ہیں تو یورولیتھن اے دل کی بعض بیماریوں کے علاج میں ایک اضافی طبی آپشن بن سکتا ہے۔ 

فی الحال یہ ایک امید افزا سائنسی دریافت ہے، ثابت شدہ علاج نہیں۔

8۔ اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

بنیادی خبر: روسیا الیوم، 14 اکتوبر 2026؛ کنگز کالج لندن سے منسوب تحقیق۔

اصل تحقیقی مقالے کا مکمل حوالہ اس وقت آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں؛ نتائج کو ابتدائی سمجھیں۔