براہ راست نشریات

نابینا افراد کے لیے نئی امید، روشنی سے بینائی بحال کرنے کا کامیاب تجربہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نابینا پن کا نیا علاج

نابینا افراد کے لیے امید کی نئی کرن سامنے آئی ہے۔
سائنس دانوں نے جین تھراپی اور خصوصی الیکٹرانک چشموں کی مدد سے 10 نابینا مریضوں پر تجربہ کیا، جس میں 7 مریضوں کی روشنی محسوس کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی، جبکہ 6 میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
بعض مریض سامنے موجود اشیا کی جگہ اور سمت پہچاننے کے قابل بھی ہوئے۔

طبی سائنس نے نابینا پن کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ 

سائنس دانوں نے ایک جدید تجرباتی طریقے سے ایسے مریضوں میں روشنی محسوس کرنے اور سامنے موجود اشیا کی شناخت کرنے کی صلاحیت جزوی طور پر بحال کی ہے جو ایک موروثی بیماری کے باعث شدید نابینا پن کا شکار ہو چکے تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق معروف طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔

📊 اہم اعداد — تحقیق نے کیا دکھایا؟

10 مریض: شدید ریٹینائٹس پگمنٹوسا کے شکار افراد مطالعے میں شامل تھے۔

7 مریض: روشنی محسوس کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئی۔

6 مریض: طبی اعتبار سے معنی خیز بہتری حاصل ہوئی۔

34 واقعات: آنکھوں سے متعلق ضمنی واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک شدید مگر عارضی واقعہ تھا۔

اس علاج میں جین تھراپی اور خصوصی الیکٹرانک چشموں کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا۔ 

ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ اسے ابھی نابینا پن کا مکمل علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں

10 مریضوں پر تجربہ، 7 میں بہتری

تحقیق میں 10 ایسے مریض شامل تھے جو ریٹینائٹس پگمنٹوسا نامی موروثی بیماری کے باعث شدید نابینا پن کا شکار تھے۔

اس بیماری میں آنکھ کے پردے یعنی ریٹینا کے روشنی محسوس کرنے والے خلیات بتدریج تباہ ہوتے جاتے ہیں۔ 

ابتدا میں رات کے وقت دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے، پھر اطراف کی 

بینائی متاثر ہوتی ہے اور بعض مریض تقریباً مکمل بینائی کھو دیتے ہیں۔

محققین نے مریضوں کی ایک ایک آنکھ میں جینیاتی انجکشن لگایا اور بعد میں انہیں خصوصی چشمے پہنائے۔

👁️ ریٹینائٹس پگمنٹوسا کیا ہے؟

یہ ایک موروثی بیماری ہے جس میں ریٹینا کے روشنی محسوس کرنے والے خلیات آہستہ آہستہ خراب ہوتے ہیں۔

پہلے رات یا کم روشنی میں دیکھنا مشکل ہو سکتا ہے، پھر اطراف کی بینائی متاثر ہوتی ہے۔

بعض مریض بیماری کے آخری مرحلے میں شدید نابینا پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

نتائج کے مطابق 10 میں سے 7 مریضوں میں روشنی محسوس کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی، جبکہ 6 میں یہ بہتری طبی اعتبار سے نمایاں تھی۔

بعض مریض سامنے موجود اشیا کی جگہ پہچاننے اور ان کی طرف نسبتاً درست انداز میں ہاتھ بڑھانے کے قابل ہوئے۔

تاہم کسی بھی مریض کی مکمل بینائی بحال ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔

یہ علاج کیسے کام کرتا ہے؟

اس طریقہ علاج کو آپٹوجینیٹک تھراپی کہا جاتا ہے۔

عام حالات میں آنکھ کے ریٹینا میں موجود خلیات روشنی کو اعصابی اشاروں میں تبدیل کرتے ہیں، جنہیں دماغ تصویر کی صورت میں سمجھتا ہے۔

موروثی بیماری کے باعث جب روشنی محسوس کرنے والے خلیات تباہ ہو جاتے ہیں تو بعض دوسرے اعصابی خلیات زندہ رہ سکتے ہیں۔

سائنس دانوں نے انہی خلیات کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے جینیاتی انجکشن کے ذریعے آنکھ میں ChrimsonR نامی روشنی سے حساس پروٹین بنانے کی صلاحیت پیدا کی۔

اس کے بعد خصوصی چشموں نے سامنے کے منظر کو روشنی کے مخصوص اشاروں میں تبدیل کرکے آنکھ تک پہنچایا۔

🔬 روشنی اور جین تھراپی کیسے کام کرتی ہے؟

ایک جینیاتی انجکشن کے ذریعے ریٹینا کے زندہ بچ جانے والے خلیات میں ChrimsonR نامی روشنی سے حساس پروٹین بنانے کی ہدایات پہنچائی گئیں۔

خصوصی چشمے سامنے کے منظر کو روشنی کے مخصوص نمونوں میں تبدیل کر کے آنکھ کی طرف بھیجتے ہیں۔

اس طرح تبدیل شدہ خلیات روشنی کے اشارے دماغ تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس طرح علاج شدہ خلیات ان اشاروں پر ردعمل ظاہر کرکے بصری معلومات دماغ تک پہنچانے لگے۔

سادہ الفاظ میں، سائنس دانوں نے آنکھ کے باقی ماندہ خلیات کو روشنی پہچاننے کی نئی صلاحیت دینے کی کوشش کی۔ 

7 مریضوں میں
روشنی محسوس
کرنے کی
صلاحیت بہتر ہوئی

کیا مریض چہرے بھی پہچان سکتے ہیں؟

اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کچھ مریضوں میں بنیادی بصری صلاحیت بہتر ہوئی، لیکن معمول کی بینائی واپس نہیں آئی۔
مریض روشنی محسوس کرسکتے تھے اور بعض صورتوں میں اشیا کی موجودگی یا سمت پہچان سکتے تھے، مگر واضح تصویریں دیکھنے، کتاب پڑھنے یا چہرے پہچاننے کی صلاحیت بحال ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔
اس کے باوجود ماہرین اسے اہم پیش رفت سمجھتے ہیں، کیونکہ شدید نابینا پن کے شکار شخص کے لیے کسی شے کی موجودگی محسوس کرنا بھی مستقبل میں روزمرہ زندگی آسان بنانے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

🕶️ خصوصی چشموں کا کردار کیا ہے؟

یہ محض نظر کا نمبر درست کرنے والے چشمے نہیں، بلکہ ایک تجرباتی الیکٹرانک نظام کا حصہ ہیں۔

ان کا نظام بصری منظر کو ایسے روشنی کے نمونوں میں بدلتا ہے جن پر علاج شدہ خلیات ردعمل دے سکیں۔

مطالعے میں علاج کی جانچ ان چشموں کے استعمال کے ساتھ کی گئی؛ عام بازار کے اسمارٹ گلاسز ان کا متبادل نہیں۔

اس ٹیکنالوجی کی بنیاد آپٹوجینیٹکس کے اس سائنسی شعبے پر ہے جس میں کام کرنے والے تین سائنس دانوں کو 2026 کا طب کا نوبل انعام دیا گیا۔

ان میں امریکی سائنس دان کارل ڈائسراتھ اور جرمن محققین پیٹر ہیگمان اور گیورگ ناگل شامل ہیں۔

ان کی تحقیق نے روشنی کے ذریعے مخصوص اعصابی خلیات کی سرگرمی کو کنٹرول کرنے کی راہ ہموار کی۔

اب سائنس دان اسی اصول کو نابینا پن سمیت مختلف طبی مسائل کے علاج میں استعمال کرنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

کیا علاج کے خطرات بھی ہیں؟

تحقیق کے دوران آنکھوں سے متعلق مجموعی طور پر 34 ضمنی واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں زیادہ تر معمولی یا درمیانی نوعیت کے تھے۔

ایک مریض میں انجکشن کے فوراً بعد ریٹینا کی مرکزی شریان میں عارضی رکاوٹ پیدا ہوئی، جو طبی مداخلت سے چند منٹ میں ختم ہوگئی۔

محققین کے مطابق علاج کی حفاظت اور افادیت جانچنے کے لیے زیادہ مریضوں پر طویل مدتی تحقیقات ضروری ہیں۔

✅ کیا ثابت ہوا اور کیا نہیں؟

ثابت شدہ مشاہدہ: کچھ مریضوں میں روشنی کی حساسیت اور اشیا کی موجودگی یا سمت جانچنے کی صلاحیت بہتر ہوئی۔

ابھی ثابت نہیں: مکمل بینائی، واضح چہرے پہچاننے یا کتاب پڑھنے کی صلاحیت واپس آ گئی ہو۔

اہم حد: صرف 10 مریضوں کا ابتدائی، اوپن لیبل مطالعہ؛ بڑے تجربات ضروری ہیں۔

کیا پاکستانی مریض بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

پاکستان اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں موروثی نابینا پن کے مریض موجود ہیں، لیکن یہ طریقہ ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور عام ہسپتالوں میں منظور شدہ علاج کے طور پر دستیاب نہیں۔

ماہرین کے مطابق نابینا پن کی ہر قسم کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ 

اس لیے مریضوں کو ریٹینا کے ماہر ڈاکٹر سے اپنی بیماری کی درست تشخیص اور ممکنہ علاج کے بارے میں مشورہ کرنا چاہئے۔

آگے کیا ہوگا؟

سائنس دان اب زیادہ مریضوں پر تجربات کرکے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حاصل ہونے والی بہتری کتنی دیر برقرار رہتی ہے اور کیا اسے مزید واضح بصارت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اگر آئندہ تحقیقات کامیاب ہوئیں تو یہ ٹیکنالوجی شدید موروثی نابینا پن کے بعض مریضوں کے لیے مستقبل میں اہم علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

فی الحال سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ سائنس دانوں نے دکھایا ہے کہ شدید نابینا پن کے باوجود آنکھ کے باقی ماندہ خلیات کی مدد سے محدود بصری معلومات دوبارہ دماغ تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔

🔗اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Reuters — 9 اکتوبر 2026
اصل رپورٹ کھولیں

New England Journal of Medicine — 7 اکتوبر 2026
اصل رپورٹ کھولیں