براہ راست نشریات

جنون کی انتہا: جوانی میں نکلا شخص 57 سال کی عمر میں گھر لوٹا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کارل بشبی 28 سال پیدل سفر مکمل کر کے برطانوی ساحل پر پہنچتے ہوئے
یہ سفر تقریباً 12 سال میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر یہ مہم 28 سال تک پھیل گئی
🧭

28 سال، 29 ممالک، 50 ہزار کلومیٹر: ایک سفر کے حیران کن اعدادوشمار

+

📍 ابتدا اور بے مثال عہد (1998ء)

یکم نومبر 1998ء کو چلی کے شہر پونٹا ایریناس سے ’گولیاتھ ایکسپیڈیشن‘ کا آغاز کیا۔ کارل نے عہد کیا کہ وہ کسی سواری پر نہیں بیٹھیں گے اور مہم کے اختتام تک اپنے وطن نہیں لوٹیں گے۔

🗺️ 50 ہزار کلومیٹر اور 29 ممالک

جنوبی و شمالی امریکا سے لے کر الاسکا، سائبیریا، وسطی ایشیا اور یورپ تک تقریباً پچاس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا، جو زمین کے پورے گھیر سے بھی زیادہ طویل بنتا ہے۔

🌊 150 گھنٹے سے زائد سمندری جدوجہد

زمینی راستے مسدود ہونے پر بحیرہ کیسپین میں 31 دن اور 132 گھنٹے تیراکی کی، جبکہ انگلش چینل عبور کرنے کے لیے مزید 20 گھنٹے شدید سرد اور کٹھن لہروں کا تن تنہا سامنا کیا۔

⏳ 29 کی عمر سے 57 سال تک کا سفر

جو سفر 12 برس میں مکمل ہونا تھا وہ بین الاقوامی سرحدوں، قدرتی رکاوٹوں اور سفارتی پیچیدگیوں کی وجہ سے 28 برسوں پر پھیل گیا، جس نے ان کی پوری جوانی اس مشن میں کھپا دی۔

ذرا تصور کریں، ایک نوجوان گھر واپس آنے کا ارادہ کرے، مگر واپسی کا راستہ اتنا طویل ہو کہ جوانی گزر جائے، بال سفید ہوجائیں اور دنیا ہی بدل جائے۔ پھر بھی وہ ہمت نہ ہارے اور اپنی منزل کی جانب بڑھتا رہے۔

مزید پڑھیں

یہ کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ برطانوی مہم جو کارل بشبی کی حقیقی زندگی ہے۔

انہوں نے 29 سال کی عمر میں دنیا کا چکر پیدل لگانے کی ٹھانی اور اب 57 سال کی عمر میں، یعنی  28 برس بعد اپنے وطن پہنچے ہیں۔

اس دوران وہ 29 ممالک سے گزرے، تقریباً 50 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، خطرناک جنگلوں، برفانی علاقوں اور سمندروں کو عبور کیا، لیکن ان 

کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آخری منزل شمالی انگلینڈ میں ان کی والدہ کا گھر ہے۔

لوگو
پیدل دنیا کا سفر: کارل بشبی کی وطن واپسی
برطانوی مہم جو نے بغیر کسی سواری کے انتیس ممالک کا تاریخی فاصلہ طے کر لیا۔
اٹھائیس برس پر محیط اس سفر میں برفانی سمندر، جنگلات اور کٹھن رکاوٹیں عبور کر کے مہم جو نے ثابت قدمی کی بے مثال تاریخ رقم کر دی۔
🌍 زمین کا طویل ترین چکر
چلی سے انگلینڈ تک بغیر کسی سواری پر بیٹھے ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ پیدل اور تیر کر مکمل کیا۔
50000 کلومیٹر فاصلہ
🗺️ براعظموں اور سرحدوں کا سفر
جنوبی امریکا، ایشیا اور یورپ سمیت متعدد کٹھن جغرافیائی خطوں سے پیدل گزر کر سفر جاری رکھا۔
29 ممالک عبور
🏊 کٹھن انگلش چینل کی تیراکی
فرانس سے برطانوی ساحل تک بغیر کسی باقاعدہ تربیت کے سمندر کے سرد پانیوں میں تیر کر کنارے پہنچے۔
20 گھنٹے تیراکی
🏡 آخری منزل اور ماں کا گھر
ساحل پر پہنچنے کے بعد اب شمالی انگلینڈ میں اپنی والدہ کے گھر تک آخری مرحلہ پیدل طے کریں گے۔
400 کلومیٹر باقی
⏱️ سفر کا دورانیہ: منصوبہ بنام حقیقت (سال)
سفر کا اصل دورانیہ 28 سال
ابتدائی منصوبہ بندی 12 سال

ایک ضد نے زندگی کے 28 سال لے لیے

یکم نومبر 1998ء کو کارل بشبی نے جنوبی امریکا کے ملک چلی کے شہر پونٹا ایریناس سے اپنی مہم شروع کی، جسے انہوں نے ’گولیاتھ ایکسپیڈیشن‘ کا نام دیا۔

سابق برطانوی فوجی نے اپنے لیے 2 اصول بنائے۔ پہلا یہ کہ سفر آگے بڑھانے کے لیے کسی سواری پر نہیں بیٹھیں گے اور دوسرا یہ کہ مہم مکمل ہونے سے پہلے برطانیہ واپس نہیں جائیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ابتدا میں یہ سفر تقریباً 12 سال میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر یہ مہم 28 سال تک پھیل گئی۔ 

⚠️

موت سے کتنی بار سامنا ہوا؟ کارل بشبی کے خطرناک ترین امتحانات

◀
۱

ڈیرین گیپ کا خونخوار جنگل (کولمبیا تا پاناما)

کوئی پختہ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے دلدلوں اور گھنے بارانی جنگلات میں سفر کیا۔ یہاں مسلح ملیشیاؤں، منشیات اسمگلروں اور زہریلے جانوروں کا خطرہ ہر لمحہ سر پر منڈلاتا رہا۔

۲

آبنائے بیرنگ کی منجمد برفانی دراڑیں (2006ء)

الاسکا سے روس جاتے ہوئے جمی ہوئی سمندری برف پر پیدل چلے۔ جہاں برف ٹوٹتی وہاں منفی درجہ حرارت والے یخ بستہ پانی میں تیر کر جان جوکھوں میں ڈالی، جس کے بعد روس میں داخلے پر قید کا سامنا بھی کیا۔

۳

سائبیریا اور منگولیا کی جان لیوا سردی

روس کے ویران اور برف زار میدانوں میں جہاں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تک گر جاتا ہے، بغیر کسی گاڑی کے تنہا سامان کھینچتے ہوئے مہینوں تک بقا کی جنگ لڑی۔

۴

انگلش چینل میں عضلاتی کھنچاؤ اور غیر تربیت یافتہ تیراکی

فرانس سے انگلینڈ کے لیے بغیر باقاعدہ تیاری کے پانی میں اترے۔ پہلے ہی گھنٹے پٹھوں میں شدید اینٹھن شروع ہوئی، مگر ہمت نہ ہاری اور 3 دن کے اندر 20 گھنٹے تیر کر برطانوی ساحل چھو لیا۔

موت کا سامنا، برفانی سمندر اور خطرناک جنگل

کارل نے جنوبی امریکا عبور کرنے کے بعد کولمبیا اور پاناما کے درمیان واقع ڈیرین گیپ کا خطرناک جنگل پار کیا، جہاں مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کا خطرہ موجود تھا۔

پھر وسطی امریکا، امریکا اور کینیڈا سے ہوتے ہوئے الاسکا پہنچے۔ 2006ء میں انہوں نے روس اور الاسکا کے درمیان جمی ہوئی آبنائے بیرنگ کو پیدل عبور کیا اور ضرورت پڑنے پر تیرے بھی۔

روس میں گرفتاری اور ویزا کی مشکلات کے باوجود وہ سائبیریا، منگولیا، چین اور ایشیا کے دوسرے علاقوں سے گزرتے رہے۔ 

🏡

28 سال بعد ماں سے ملاقات، لیکن زندگی میں کیا کچھ بدل چکا ہوگا؟

◀

کارل بشبی جب گھر سے نکلے تو ایک توانا 29 سالہ نوجوان تھے؛ اب جب وہ سفید بالوں اور جھریوں زدہ چہرے کے ساتھ 57 سال کی عمر میں والدہ کے گھر پہنچ رہے ہیں تو ایک پوری نسل گزر چکی ہے۔

🚪 ماں کا گھر اور آخری 400 کلومیٹر

برطانوی ساحل پر ان کے والد کیتھ بشبی اور دوستوں نے ان کا استقبال کیا۔ اب صرف چار سو کلومیٹر کا فاصلہ باقی ہے، جس کے بعد وہ اس دہلیز پر دستک دیں گے جہاں ان کی معمر والدہ تین دہائیوں سے منتظر ہیں۔

🎒 خالی ہاتھ واپسی اور نئے سرے سے شروعات

کارل نے اعتراف کیا کہ وہ مالی طور پر خالی ہاتھ واپس آ رہے ہیں۔ نہ کوئی پینشن ہے، نہ مستقل گھر اور نہ کیریئر۔ 57 برس کی عمر میں انہیں ایک بدلی ہوئی تیز رفتار دنیا میں عام شہری کی حیثیت سے نئی زندگی بنانا ہوگی۔

31 دن سمندر میں، پھر یورپ کا راستہ

2024ء میں کارل کے سامنے بحیرہ کیسپین آگیا، جہاں زمینی راستے سیاسی رکاوٹوں کے باعث بند تھے، اس لیے انہوں نے سمندر عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔

قازقستان سے آذربائیجان تک تقریباً 288 کلومیٹر کا یہ مرحلہ 31 دن میں مکمل ہوا۔ ان کے ساتھ دوسرے تیراک اور حفاظتی کشتیاں بھی تھیں اور مجموعی طور پر انہوں نے 132 گھنٹے سے زیادہ پانی میں گزارے۔

مئی 2025ء میں وہ استنبول کے مشہور پل سے پیدل گزر کر ایشیا سے یورپ پہنچے۔ 

⚖️

عظیم کارنامہ یا زندگی کے 28 سال ضائع؟ دنیا دو حصوں میں تقسیم

▼

🌟 انسانی عزم اور غیر معمولی ہمت کی علامت

عہد کی پاسداری اور پختہ ارادہ: حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایک ناممکن ہدف کو بغیر کسی سواری کے خالص جسمانی قوت اور ارادے کے بل بوتے پر مکمل کرنا انسانی تاریخ کا یادگار اور متاثر کن باب ہے۔
ثقافتی و تاریخی دستاویز: معروف ہدایت کار ورنر ہرزوگ کی زیرِ تکمیل فلم 'واک آف لائف' اور ان کے طے کردہ دشوار گزار راستے آئندہ نسلوں کے مہم جوؤں کے لیے مشعلِ راہ بنیں گے۔

❓ ضد اور زندگی کے سنہرے سالوں کا ضیاع؟

خاندانی اور سماجی ناطوں سے کٹاؤ: ناقدین کے نزدیک 28 سال تک والدین، عزیزوں اور معاشرتی ذمہ داریوں سے دور رہ کر صرف پیدل چلنے کی ضد پالنا ذاتی تسکین تو ہو سکتی ہے، مگر اس کی بھاری انسانی قیمت چکانی پڑی۔
عملی افادیت پر سوالات: کئی مبصرین کے مطابق زندگی کے سب سے زرخیز سالوں کو بنا کسی پیشہ ورانہ، سائنسی یا خاندانی حاصل کے صرف سڑکوں اور جنگلوں میں گزار دینا ایک غیر متوازن فیصلہ تھا۔

آخری سمندر، بغیر تیاری کے 20 گھنٹے تیراکی

برطانیہ پہنچنے سے پہلے ایک آخری رکاوٹ انگلش چینل تھا۔ کارل نے سمندر کے نیچے بنی سرنگ سے پیدل گزرنے کی اجازت مانگی، مگر درخواست مسترد ہوگئی۔

آخرکار خصوصی اجازت ملنے پر انہوں نے فرانس سے تیراکی شروع کی۔ حیرت انگیز طور پر اس مشکل مرحلے کے لیے انہوں نے باقاعدہ تربیت بھی نہیں لی تھی۔

بی بی سی سے گفتگو میں کارل نے بتایا کہ پانی میں اترنے کے ایک گھنٹے بعد ہی پٹھوں میں کھنچاؤ شروع ہوگیا اور انہیں اپنی کامیابی پر شک ہونے لگا۔

3 دن کے دوران تقریباً 20 گھنٹے تیرنے کے بعد وہ 5 اکتوبر کو برطانوی ساحل پر پہنچے۔ یہ مسلسل تیراکی نہیں تھی۔ وہ وقفوں میں کشتی پر آرام کرلیتے اور پھر دوبارہ اسی مقام سے سفر شروع کرتے تھے۔ 

یعنی انہوں نے کشتی پر آرام ضرور کیا، مگر اس پر سفر نہیں کیا۔

←
اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

ماں کا گھر صرف 400 کلومیٹر دور

وہاں ساحل پر کارل کے والد کیتھ بشبی، دیگر اہل خانہ اور دوست ان کے منتظر تھے۔ معروف جرمن فلم ساز ورنر ہرزوگ بھی موجود تھے، جو اس سفر پر ’واک آف لائف‘ نامی دستاویزی فلم بنا رہے ہیں۔

کارل کو اب تقریباً 400 کلومیٹر پیدل چل کر اپنی والدہ کے گھر پہنچنا ہے۔ توقع ہے کہ یہ سفر نومبر کے آغاز میں مکمل ہوجائے گا۔

اس مہم پر سوشل میڈیا صارفین کی رائے بھی منقسم ہے۔ کچھ اسے زندگی کے قیمتی سال ضائع کرنا کہتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے غیرمعمولی ہمت اور ثابت قدمی کی مثال سمجھتے ہیں۔

کارل کے سامنے بھی ایک سوال ہے کہ اتنے برس دنیا کی سڑکوں پر گزارنے کے بعد عام زندگی کیسے شروع ہوگی؟

انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ گھر پہنچ کر انہیں دوبارہ اپنی زندگی بنانا ہوگی، کیونکہ وہ خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔

اس 28 سالہ مہم کا سب سے جذباتی لمحہ ابھی باقی ہے، جب ایک 57 سالہ بیٹا اپنی ماں کے دروازے پر پہنچ کر اس سفر کو ختم کرے گا، جو اس نے 29 سال کی عمر میں شروع کیا تھا۔

🌍 📚 اصل ذرائع VERIFIED SOURCES 👣 کارل بشبی کے 28 سالہ تاریخی سفر کی مستند رپورٹس اور اصل حوالہ جات 6 معتبر ذرائع
🧭 مہم جو کی اپنی ویب سائٹ
🌎 کارل بشبی — گولیاتھ ایکسپیڈیشن مہم جو کی اپنی آفیشل ویب سائٹ، جس میں 1998ء سے شروع ہونے والے سفر، اصل راستوں، مہم کے دو بنیادی اصولوں، اہم مراحل اور منزل تک پہنچنے کی جدوجہد کی تفصیلات ہیں۔ ⭐ براہِ راست بنیادی ماخذ ویب سائٹ کھولیں ↗
📰 تازہ بین الاقوامی نیوز رپورٹس
🗞️ الجزیرہ — ماں کے پاس واپسی کا 28 سالہ سفر 9 اکتوبر 2026 29 ممالک اور 50 ہزار کلومیٹر کی مہم، انگلش چینل عبور کرنے، اہل خانہ سے ملاقات اور اس تاریخی سفر پر سوشل میڈیا کے مختلف ردعمل پر جامع رپورٹ۔ مرکزی فیچر رپورٹ اصل رپورٹ ↗ 🇬🇧 آئی ٹی وی نیوز — 28 سال بعد برطانوی سرزمین پر واپسی 7 اکتوبر 2026 ڈوور کے شیکسپیئر بیچ پر آمد، کارل بشبی کے جذبات، فوجی پس منظر، سفر کے دو اصول اور والدہ کے گھر تک باقی آخری مرحلے کی تفصیلات۔ برطانوی مقامی نیوز کوریج خبر کھولیں ↗ 🌊 بی بی سی — انگلش چینل کی تیراکی مکمل 6 اکتوبر 2026 بی بی سی کے صحافی کیون شوزمتھ کی رپورٹ، جس میں کارل بشبی کے انگلش چینل عبور کرنے، برطانیہ پہنچنے اور طویل مہم کے آخری مرحلے کی تفصیلات ہیں۔ BBC رپورٹ — Yahoo پر دستیاب نقل رپورٹ پڑھیں ↗
🔎 سفر کا پس منظر اور اضافی تحقیق
🥾 دی ٹائمز — دنیا کا چکر اور برطانیہ واپسی ڈیرین گیپ، برفانی آبنائے بیرنگ، بحیرہ کیسپین، انگلش چینل کی تیراکی اور 28 سال بعد وطن پہنچنے کی مشکلات پر رپورٹ۔ برطانوی اخباری رپورٹ رپورٹ کھولیں ↗ 🚧 الجزیرہ — گھر پہنچنے سے پہلے آخری بڑی رکاوٹ 26 ستمبر 2026 برطانیہ واپسی سے پہلے شمالی فرانس میں کارل بشبی کو پیش آنے والی مشکلات اور انگلش چینل عبور کرنے کے مسئلے پر پس منظر کی رپورٹ۔ سابقہ رپورٹ اور پس منظر رپورٹ کھولیں ↗
📌 ادارتی نوٹ: اس فیچر رپورٹ کے لیے کارل بشبی کی آفیشل ویب سائٹ، الجزیرہ، آئی ٹی وی نیوز، بی بی سی اور دی ٹائمز کی متعلقہ رپورٹس سے استفادہ کیا گیا ہے۔ تمام روابط متعلقہ اصل مواد یا اس کی دستیاب اشاعتی نقل تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ RESEARCH & SOURCES | overseaspost.net