براہ راست نشریات

ایک راز: جس نے سائنس دانوں کو 100 سال سے حیران کررکھا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سائنس میں شماریاتی بحران اور ہگز بوسون ذرے کی دریافت کا سائنسی و ریاضیاتی تجزیہ
2012: یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق کے سائنسدانوں نے ’ہگز بوسون‘ نامی ذرے کی دریافت کا اعلان کیا (فوٹو: الجزیرہ)

سائنس کی دنیا میں اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ جو کچھ لیبارٹری میں ثابت ہو گیا، وہ حتمی سچ ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟۔

مزید پڑھیں

جولائی 2012 میں یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق (سیرن) کے سائنس دانوں نے ’ہگز بوسون‘ نامی ذرے کی دریافت کا اعلان کیا۔

اُس وقت کامیابی کے ثبوت کے طور پر ایک خاص اصطلاح استعمال کی گئی جسے ’ سیگما 5‘ (5-sigma) کہا جاتا ہے۔ 

یہ محض ایک نمبر نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا شماریاتی پیمانہ تھا جس نے یہ یقینی بنایا کہ یہ دریافت محض ایک اتفاق یا شور (Noise) نہیں 

بلکہ ایک ٹھوس سائنسی حقیقت ہے۔

لیکن یہ اعداد و شمار سائنس میں کیسے داخل ہوئے؟ کیوں آج یہ ایک بڑے شماریاتی بحران کا سبب بن رہے ہیں؟

سائنس میں شماریاتی بحران اور ہگز بوسون ذرے کی دریافت کا سائنسی و ریاضیاتی تجزیہ
سیگما 5 محض نمبر نہیں بلکہ ایک شماریاتی پیمانہ تھا جس نے یقینی بنایا کہ دریافت صرف اتفاق نہیں بلکہ سائنسی حقیقت ہے (فوٹو: الجزیرہ)

چائے کا پیالہ اور سر رونالڈ فشر

بیسویں صدی کے اوائل میں برطانوی سائنسدان سر رونالڈ فشر نے شماریات میں ایک انقلابی سوچ متعارف کروائی۔ فشر کا ماننا تھا کہ ہر سائنسی تحقیق کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ نتیجہ محض اتفاق تو نہیں؟

انہوں نے اس کی وضاحت کے لیے ’چائے کا ذائقہ چکھنے والی خاتون‘ کی مثال پیش کی، جس میں ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ بتا سکتی ہے کہ چائے میں دودھ پہلے ڈالا گیا یا چائے (پتی)۔

فشر نے ایک تجربہ ڈیزائن کیا اور یہ اصول وضع کیا جسے آج ’پی ویلیو‘ (p-value) کہا جاتا ہے۔ 

اس اصول کے تحت سائنسدان پہلے یہ فرض کرتے ہیں کہ ’کچھ خاص نہیں ہو رہا‘ (جسے ’نل ہائپوتھیسز‘ کہا جاتا ہے) اور پھر یہ دیکھتے ہیں کہ کیا تجربے کے نتائج اس فرض کو غلط ثابت کرتے ہیں یا نہیں۔ 

فشر نے 0.05 (یعنی 5 فیصد سے کم امکان) کو ایک معیاری حد مقرر کیا، جس کا مطلب تھا کہ اگر کسی نتیجے کے محض اتفاق ہونے کا امکان 5 فیصد سے کم ہے، تو اسے ’شماریاتی اعتبار سے اہم‘ قرار دیا جائے۔

سائنس میں شماریاتی بحران اور ہگز بوسون ذرے کی دریافت کا سائنسی و ریاضیاتی تجزیہ
رونالڈ فشر اپنے بچوں کے ساتھ 1955 میں (فوٹو: سوشل میڈیا)

’پی ویلیو‘ کا جال

وقت گزرنے کے ساتھ 0.05 کا یہ عدد سائنس کی دنیا میں ایک مقدس قانون بن گیا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ جس تحقیق کی ’پی ویلیو‘ اس حد سے کم ہو، اسے ہی اہم سمجھا جاتا ہے اور اشاعت کے قابل قرار دیا جاتا ہے۔ 

اس کے نتیجے میں ’پی ویلیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ‘ (p-hacking) کا رجحان بڑھا، جہاں محققین اپنی مرضی کے نتائج نکالنے کے لیے ڈیٹا کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے لگے۔ 

2011 اور 2015 میں نفسیات کے شعبے میں ہونے والے انکشافات نے اس نظام کی بنیادیں ہلا دیں۔

2015 میں ایک بڑے پروجیکٹ کے دوران جب پرانی تحقیقات کو دوبارہ دہرایا گیا تو دو تہائی نتائج دوبارہ ثابت نہ ہو سکے۔ اس تکراری بحران (Replication Crisis) نے ثابت کیا کہ بہت سی تحقیقات محض اتفاق یا کمزور ڈیزائن کی وجہ سے ’اہم‘ نظر آ رہی تھیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا کوئی عملی اثر نہیں تھا۔

سائنس میں شماریاتی بحران اور ہگز بوسون ذرے کی دریافت کا سائنسی و ریاضیاتی تجزیہ
سائنس کے مشہور فلسفی کارل پوپر (دائیں) اور پولش ریاضی دان جرزی نیمن (بائیں چھوٹی تصویر) ۔ فوٹو: الجزیرہ

نِیمان اور پیئرسن کا متبادل نقطہِ نظر

فشر کے ہم عصر جیری نِیمان اور ایگون پیئرسن نے اس طریقہ کار پر سوال اٹھائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صرف ’پی ویلیو‘ بتانا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم کس قسم کی غلطی کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے 2 قسم کی غلطیوں کی نشاندہی کی:

  • غلطی الفا (Alpha): یہ مان لینا کہ کوئی اثر موجود ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ موجود نہ ہو۔
  • غلطی بیٹا (Beta): کسی حقیقی دریافت کو نظر انداز کر دینا کیونکہ تجربہ ٹھیک سے ڈیزائن نہیں تھا۔

انہوں نے قرار دیا کہ سائنس کا کام محض اعداد دیکھنا نہیں بلکہ ایک ایسا نظام بنانا ہے جس میں غلط فیصلوں کا خطرہ کم سے کم ہو۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک فیکٹری میں معیار کو چیک کرنے والا انسپکٹر یہ طے کرتا ہے کہ کب کسی پروڈکٹ کو قبول یا مسترد کرنا ہے۔

سائنسی معیار: ’ڈیبورا مائیو‘ اور سخت جانچ کا فلسفہ

امریکی فلسفی ڈیبورا مائیو نے سائنسی استدلال میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئی نظریہ تبھی مضبوط ہوتا ہے جب وہ ایسے تجربے سے گزرے جو اسے غلط ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اگر کوئی تحقیق کسی آزمائش میں اس لیے کامیاب ہو، کیونکہ آزمائش ہی کمزور تھی تو وہ سائنسی اعتبار سے کھوکھلی ہے۔ مائیو نے کارل پوپر کے ’جعلسازی‘ (Falsification) کے تصور کو شماریاتی بنیادوں پر کھڑا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہگز بوسون کی دریافت اس لیے مستند ہے کیونکہ وہ کئی مختلف اور آزاد تجربات (جیسے اطلس اور سی ایم ایس) سے گزری ہے۔

جب ایک ہی نتیجے کو بار بار مختلف زاویوں سے پرکھا جائے اور وہ ہر بار درست ثابت ہو، تب ہی اسے سخت جانچ (Severe Test) کا نام دیا جاتا ہے۔

سائنس میں شماریاتی بحران اور ہگز بوسون ذرے کی دریافت کا سائنسی و ریاضیاتی تجزیہ
سائنس کبھی بھی 100 فیصد حتمی سچائی کا دعویٰ نہیں کرتی (فوٹو: الجزیرہ)

سائنس دراصل ’شک‘ کا فن ہے

یہ بحث ہمیں ایک بنیادی نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ سائنس کبھی 100 فیصد حتمی سچائی کا دعویٰ نہیں کرتی۔

یہ ’شک کو سنبھالنے کا ایک فن‘ ہے۔ جدید سائنس کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کو یقینی بنا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ غلطی کے امکانات کو پیمائش کے ذریعے محدود کرے۔ 

جس طرح کوانٹم الیکٹرو ڈائنامکس میں انتہائی درست نتائج حاصل کیے گئے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی عقل اور شماریاتی ٹولز کا درست امتزاج ہمیں کائنات کی گہرائیوں کو سمجھنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ 

سائنس کا اصل حسن یہ نہیں کہ وہ کبھی غلط نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتی ہے، ان کی پیمائش کرتی ہے اور بہتر تجربات کے ذریعے حقیقت کے قریب تر پہنچنے کی مسلسل کوشش کرتی ہے۔