براہ راست نشریات

محاسبۂ نفس، مومنوں کا شیوہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Self Accountability in Islam

حافظ سجاد الہٰی

ریاض

انسان دنیاوی نفع و نقصان کا حساب تو رکھتا ہے، مگر اپنے اعمال کا جائزہ اکثر بھول جاتا ہے۔
محاسبۂ نفس کیوں ضروری ہے اور نیک صحبت، توبہ، دعا اور موت کی یاد ہماری اصلاح میں کیسے مدد دیتی ہے؟

انسان تنہائی میں اپنے نفع و نقصان پر غور کرتا ہے۔ 

وہ فائدے کے حصول اور نقصان سے بچنے کی تدبیریں سوچتا ہے۔ 

لیکن بہت سے لوگ صرف دنیاوی معاملات پر توجہ دیتے ہیں اور اس آخرت کو بھول جاتے ہیں جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔

کیا ہم نے سوچا کہ ہماری زندگی کا حاصل کیا ہے؟ 

یہ سوال روز خود سے پوچھنا چاہئے۔ 

ہم نے کتنی نیکیاں کیں، کتنے گناہوں سے بچنے کی کوشش کی اور آخرت کے لیے کیا سامان جمع کیا؟ 

بعض اوقات جن نیکیوں پر ہمیں فخر ہوتا ہے، وہ دکھاوے اور ریاکاری کی وجہ سے اپنا اجر کھو سکتی ہیں۔ 

📖 قرآن کا پیغام — کل کے لیے کیا بھیجا؟

سورۃ الحشر، آیت 18: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔‘‘

یہ آیت مومن کو اپنے حال اور مستقبل دونوں کی فکر دلاتی ہے: آج کے اعمال ہی آخرت کے لیے اس کا سرمایہ ہیں۔

اگلی آیت (19): اللہ کو بھولنے والوں کی طرح نہ بننے کی تنبیہ کی گئی ہے، جو اپنی ہی بھلائی سے غافل ہوجاتے ہیں۔

بعض اعمال سنتِ رسولﷺ کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے قبولیت سے محروم رہ سکتے ہیں۔ 

اس لیے انسان سب سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لے۔

مزید پڑھیں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‘ (سورۃ الحشر: 18)

اگلی آیت میں ان لوگوں جیسا بننے سے روکا گیا ہے جو اللہ کو بھول گئے، نتیجتاً وہ اپنی ہی بھلائی سے غافل ہوگئے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب مشہور قول ہے: 

’اپنا محاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور اپنے اعمال کو تولو، اس سے پہلے کہ تمہیں تولا جائے۔‘

نفس کا محاسبہ محض اپنی غلطیوں کی فہرست بنانے کا نام نہیں، بلکہ اپنی نیت، کردار، عبادات اور معاملات کو درست کرنے کی مسلسل کوشش ہے۔ 

اس کے لیے چند باتیں مددگار ہیں۔

⚖️ حضرت عمرؓ کا سبق — حساب سے پہلے حساب

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب مشہور قول ہے: ’’اپنا محاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔‘‘

اس نصیحت کا عملی مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے فیصلوں، عبادات، معاملات اور دوسروں کے حقوق کا جائزہ خود لے۔

اصل مقصد: اپنی غلطیوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کرنا، نہ کہ صرف پچھتاوے میں مبتلا رہنا۔

آخرت کو سامنے رکھیں: 

انسان یہ یاد رکھے کہ دنیا میں اپنے اعمال کا جائزہ لینا قیامت کے حساب کو آسان بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آج کی غفلت کل ندامت کا سبب بن سکتی ہے۔ 

اس احساس کے ساتھ کیا گیا محاسبہ انسان کو توبہ اور اصلاح پر آمادہ کرتا ہے۔

نیکی کے انجام پر غور کریں: 

دنیا کے کسی معمولی فائدے کے لیے بھی انسان محنت کرتا ہے، تو جنت جیسی عظیم کامیابی کے لیے اسے کتنی کوشش کرنی چاہئے؟ 

نفس کی اصلاح مشکل ضرور ہے، مگر اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی اس محنت کو بامقصد بناتی ہے۔

🪞 نیکی کا جائزہ — نیت میں کھوٹ تو نہیں؟

بعض اوقات انسان ان نیکیوں پر فخر کرتا ہے جن میں ریاکاری یا دکھاوے کی آمیزش پیدا ہوچکی ہوتی ہے۔

اس لیے اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے: میں یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں یا لوگوں کی تعریف کے لیے؟

عبادت اور نیک عمل میں اخلاص کے ساتھ سنتِ رسول ﷺ کی پیروی بھی ضروری ہے۔ محاسبے میں دونوں باتوں کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔

نیک لوگوں کی صحبت اپنائیں: 

صالح اور مخلص افراد کے ساتھ رہنے سے انسان کو اپنی خامیوں کا احساس ہوتا ہے۔ 

اچھی صحبت نیکی کی ترغیب دیتی ہے، جبکہ بری صحبت انسان کو اپنی غلطیوں پر مطمئن کرسکتی ہے۔

بزرگانِ دین کی زندگیاں پڑھیں: 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور اہلِ علم کی سیرتوں میں خود احتسابی کی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ 

انہوں نے دنیا کی عارضی دلکشی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی اور اپنی اصلاح کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔

🤝 اچھی صحبت — اصلاح کا مؤثر ذریعہ

نیک اور مخلص لوگوں کی صحبت انسان کو اپنے کردار کی خامیوں سے باخبر کرتی اور نیکی کی طرف مائل کرتی ہے۔

صحابہ کرامؓ، تابعین اور اہلِ علم کی زندگیوں کا مطالعہ بھی بتاتا ہے کہ انہوں نے دنیا کی وقتی کشش کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی۔

عملی قدم: ایسے دوست اور مشاغل اختیار کریں جو آپ کو عبادت، ذمہ داری اور اخلاقی بہتری کی طرف لے جائیں۔

موت کو یاد رکھیں: 

قبرستان کی زیارت انسان کو زندگی کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔ 

وہ لوگ جو کل ہمارے درمیان تھے، آج اپنے اعمال کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ 

ایک دن ہمیں بھی یہی سفر اختیار کرنا ہے۔ 

یہ احساس غرور کو کم اور ذمہ داری کو بڑھاتا ہے۔

غفلت کے اسباب سے بچیں: 

ایسی مجلسوں، مصروفیات اور ماحول سے فاصلہ رکھنا چاہئے جو انسان کو عبادت، ذمہ داریوں اور آخرت کی یاد سے دور کردیں۔ 

ہر تفریح بری نہیں، لیکن ایسی مشغولیت نقصان دہ ہے جو مقصدِ زندگی ہی بھلا دے۔

🕊️ موت کی یاد — غفلت سے بیداری

قبرستان کی زیارت اور موت کی یاد انسان کو زندگی کی ناپائیداری کا احساس دلاتی ہے۔

جو لوگ کل ہمارے ساتھ تھے، آج دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ ان کے لیے دنیا میں مزید عمل کرنے کا وقت ختم ہوگیا۔

سبق: جب تک مہلت ہے، حقوق ادا کریں، غلطیوں کی تلافی کریں اور اپنی آخرت کی تیاری کریں۔

دعا اور توبہ کو معمول بنائیں: 

اللہ تعالیٰ سے معافی اور اصلاح کی توفیق مانگتے رہیں۔ 

دعا کے ساتھ اپنے عمل کو بھی درست کرنا ضروری ہے۔ 

سچی توبہ انسان کو گناہ چھوڑنے اور آئندہ بہتر زندگی گزارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان خود کو کبھی بے عیب نہ سمجھے۔ 

جس دن اسے یہ خیال آنے لگے کہ اب اصلاح کی ضرورت نہیں، اسی دن اس کی روحانی ترقی رکنے لگتی ہے۔ 

اپنی غلطیوں پر ندامت اور نیکی کی مسلسل جستجو ہی مومن کا شیوہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کا صحیح محاسبہ کرنے، نیکیوں پر ثابت قدم رہنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🤲 دعا اور توبہ — نفس کی اصلاح کیسے ہو؟

اپنے گناہوں پر ندامت، اللہ سے معافی اور آئندہ بہتر عمل کا ارادہ نفس کے محاسبے کو نتیجہ خیز بناتا ہے۔

دعا کے ساتھ کوشش بھی ضروری ہے: بری عادت چھوڑیں، کسی کا حق دبایا ہے تو ادا کریں، اور اپنی اصلاح کو معمول بنائیں۔

یاد رکھیں: محاسبہ مایوسی کے لیے نہیں، اللہ کی رحمت کی امید کے ساتھ بہتر بننے کے لیے ہے۔