براہ راست نشریات

صبر اور شکر: مومن کی کامیاب زندگی کے دو بنیادی ستون

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Sabr in Islam

محب اللہ قاسمی

نئی دہلی

زندگی کبھی خوشیوں سے بھر جاتی ہے اور کبھی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
اسلام مومن کو صبر اور شکر کے ذریعے ہر حالت میں متوازن زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
جانئے قرآن و حدیث ان دونوں عظیم صفات کی کیا اہمیت بیان کرتے ہیں۔

زندگی میں کبھی خوشیاں اور کامیابیاں ملتی ہیں، کبھی بیماری، تنگ دستی اور ناکامی گھیر لیتی ہیں۔ 

ان حالات میں اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اپنے رب سے تعلق اور اپنا کردار کیسے برقرار رکھتے ہیں۔ 

اسلام اس امتحان میں دو صفات سکھاتا ہے: 

صبر اور شکر۔ 

صبر مصیبت میں انسان کو سنبھالتا ہے، جبکہ شکر نعمت ملنے پر اسے غرور اور غفلت سے بچاتا ہے۔

🛡️ صبر کی حقیقت — صرف برداشت نہیں

صبر کا مطلب مصیبت کے سامنے ہار مان لینا نہیں؛ یہ تین چیزوں کا مجموعہ ہے:

ضبطِ نفس: غصے میں زبان اور عمل کو غلطی سے بچانا۔

ثابت قدمی: دشواری کے باوجود حق، عبادت اور نیک مقصد پر قائم رہنا۔

عملی کوشش: علاج، روزگار، انصاف یا مشکل کے حل کے لیے جائز راستہ اختیار کرنا۔

لہٰذا صبر ناانصافی پر خاموشی کا حکم نہیں؛ مشکل میں باوقار اور درست طرزِعمل کا نام ہے۔

صبر کیا ہے؟

صبر کا مفہوم محض خاموشی سے تکلیف سہنا یا حالات کے سامنے بے بس ہوجانا نہیں۔ 

اس کا مطلب جذبات پر قابو، اللہ کے وعدوں پر یقین اور درست راستے پر ثابت قدمی ہے۔ 

قرآن مجید میں اہلِ ایمان کی ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ تنگ دستی، بیماری اور سخت مقابلے کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں (البقرہ: 177)۔ 

صبر میں حوصلہ، ضبطِ نفس اور جدوجہد شامل ہیں۔

📖 قرآن کی رہنمائی — صبر اور نماز

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

مفہوم: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرہ: 153)

قرآن تنگ دستی، بیماری اور سخت حالات میں ثابت قدم رہنے والوں کا بھی ذکر کرتا ہے۔ (البقرہ: 177)

سبق: آزمائش میں مایوسی کے بجائے اللہ کی طرف رجوع، تحمل اور مسلسل کوشش اختیار کی جائے۔

صبر صرف بڑے حادثات ہی میں نہیں آزمایا جاتا۔ 

غصے کے وقت زبان روک لینا، خواہش کے باوجود ناجائز کام سے بچنا، دوسروں کے راز محفوظ رکھنا اور کسی مقصد کے لیے دیانت داری سے محنت جاری رکھنا بھی صبر کی صورتیں ہیں۔ 

صبر انسان کو غیر فعال نہیں بناتا، بلکہ ذمہ دارانہ عمل کی قوت دیتا ہے۔

مزید پڑھیں

مشکلات میں سہارا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرہ: 153)۔

آزمائش میں مومن کا راستہ مایوسی نہیں، اللہ کی طرف رجوع اور استقامت ہے۔ 

نماز سکون دیتی ہے اور صبر صحیح فیصلے میں مدد کرتا ہے۔

رسول اللہﷺ کی سیرت اس کی روشن مثال ہے۔ 

🤲 شکر کے تین درجے

دل سے شکر: نعمتوں کو صرف اپنی قابلیت نہیں بلکہ اللہ کا عطیہ سمجھنا۔

زبان سے شکر: «الحمدللہ» کہنا، نعمت کا اعتراف کرنا اور لوگوں کے احسان کو بھی تسلیم کرنا۔

عمل سے شکر: صحت کو بھلائی میں، علم کو فائدہ پہنچانے میں اور مال کو جائز ضرورتوں اور دوسروں کے حقوق میں استعمال کرنا۔

اہم نکتہ: حقیقی شکر زبان سے شروع ہوکر کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔

مکہ میں مخالفت، سماجی بائیکاٹ، شعبِ ابی طالب کی سختیاں اور عزیزوں کی وفات جیسے صدمات کے باوجود آپﷺ نے دعوتِ حق کا راستہ نہیں چھوڑا۔ 

آپﷺ کی سیرت سکھاتی ہے کہ دکھ میں بھی اصول، امید اور مقصد برقرار رکھے جائیں۔ 

قرآن نے صبر اور یقین کے ساتھ قیادت و رہنمائی کا تعلق بھی بیان کیا ہے (السجدہ: 24)۔

شکر کی حقیقت

شکر صرف زبان سے ’الحمدللہ‘ کہہ دینے کا نام نہیں۔ 

حقیقی شکر میں 3 چیزیں شامل ہیں: 

دل سے نعمت کو اللہ کا عطیہ سمجھنا، زبان سے اس کا اعتراف کرنا اور عمل سے نعمت کا صحیح استعمال کرنا۔ 

🌱 قرآن کا وعدہ — شکر پر مزید عطا

لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

مفہوم: اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ (ابراہیم: 7)

قرآن یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ انسان اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ (ابراہیم: 34)

صحت، رزق، علم، رشتے اور روزمرہ زندگی کی چھوٹی آسانیاں بھی شکر کے مواقع ہیں۔

غور طلب: شکر انسان کو نعمتوں کی قدر سکھاتا اور غرور سے بچاتا ہے۔

صحت ملے تو اسے بھلائی میں لگایا جائے، علم ملے تو اس سے فائدہ پہنچایا جائے اور مال ملے تو اس میں دوسروں کا حق بھی پہچانا جائے۔ یہی شکر کو محض ایک لفظ کے بجائے زندگی کا رویہ بناتا ہے۔

قرآن کا فرمان ہے:

اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ (ابراہیم: 7)۔

اس وعدے میں شکر کی قدر و منزلت نمایاں ہے۔ 

دوسری طرف قرآن یاد دلاتا ہے کہ انسان اللہ کی نعمتیں گننا چاہے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا (ابراہیم: 34)۔ 

صحت، عقل، رشتے اور رزق جیسی نعمتیں اکثر ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ 

شکر ان نعمتوں کا شعور زندہ کرتا ہے۔

✨ حدیث نبوی — مومن کے ہر حال میں خیر

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے؛ اس کے ہر معاملے میں بھلائی ہے:

خوشی ملے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم: 2999)

آپ ﷺ نے کثرتِ عبادت کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا: «کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟» (صحیح بخاری: 4837)

یوں صبر اور شکر دونوں عبادت اور کردار کا حصہ بن جاتے ہیں۔

نبی کریمﷺ کثرت سے عبادت کرتے تھے۔ 

جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپﷺ نے فرمایا:

کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (صحیح مسلم)۔

اللہ کی اطاعت نعمتوں کے اعتراف کا اظہار بھی ہے۔ 

لوگوں کی مدد اور ان کے احسان کا شکریہ ادا کرنا بھی اسی اخلاقی تربیت کا حصہ ہے۔

صبر اور شکر کا باہمی تعلق

ان دونوں صفات کا حسن یہ ہے کہ وہ خوشی اور غم دونوں میں مومن کی رہنمائی کرتی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے، اسے خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے (صحیح مسلم)۔

اس کا مطلب ہر مصیبت کا فوراً ختم ہونا نہیں، بلکہ ہر حال میں نیکی اور اصلاح کا موقع تلاش کرنا ہے۔

🧭 روزمرہ زندگی میں صبر اور شکر کیسے اپنائیں؟

1 — مشکل آئے: فوری ردِعمل کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں، نماز اور دعا کا اہتمام رکھیں۔

2 — حل تلاش کریں: علاج، روزگار یا اپنے حق کے لیے جائز عملی قدم اٹھائیں۔

3 — نعمت ملے: اللہ کا شکر ادا کریں، تکبر سے بچیں اور دوسروں کے حقوق یاد رکھیں۔

4 — کسی نے مدد کی: اس کا شکریہ ادا کریں اور موقع ملنے پر دوسروں کی مدد کریں۔

5 — دن ختم ہو: خود سے پوچھیں، آج کس آزمائش میں صبر کیا اور کس نعمت کا شکر ادا کیا؟

خلاصہ: صبر ہمیں ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور شکر ہمیں بہکنے نہیں دیتا۔

صبر کے بغیر شکر آزمائش کے وقت کمزور پڑسکتا ہے، اور شکر کے بغیر صبر تلخی یا محرومی کے احساس میں بدل سکتا ہے۔ 

دونوں مل کر انسان میں اعتدال پیدا کرتے ہیں۔ 

کامیابی میں تکبر نہیں کرتا، نقصان میں ظلم یا ناامیدی کا راستہ نہیں اپناتا۔

روزمرہ زندگی میں کیسے اپنائیں؟

مشکل وقت میں جلد بازی سے بچیں، نماز اور دعا کا اہتمام کریں، ممکنہ حل تلاش کریں اور جائز کوشش جاری رکھیں۔ 

آسانی کے وقت اپنی نعمتوں پر غور کریں، تکبر سے بچیں، اہلِ خانہ اور ضرورت مندوں کے حقوق ادا کریں اور دوسروں کی مہربانی کا اعتراف کریں۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. زندگی میں خوشی اور غم دونوں آتے ہیں۔ اسلام ہر حال میں متوازن رہنے کے لیے صبر اور شکر کی تعلیم دیتا ہے۔

2. صبر کا مطلب بے بسی نہیں؛ حق پر قائم رہنا، جذبات پر قابو رکھنا اور جائز کوشش جاری رکھنا ہے۔

3. شکر صرف زبان تک محدود نہیں؛ دل سے نعمت پہچاننا اور اسے اچھے کام میں استعمال کرنا بھی شکر ہے۔

4. مومن خوشی میں شکر اور تکلیف میں صبر کرتا ہے؛ دونوں حالتیں اس کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ صبر ظلم کو درست سمجھ لینے کا نام نہیں۔ 

اپنا حق مانگنا، بیماری میں علاج کرانا، روزگار کے لیے کوشش کرنا اور ناانصافی کے خلاف پُرامن اور جائز راستہ اختیار کرنا صبر ہی کے ساتھ ممکن ہے۔

دن کے اختتام پر خود سے پوچھیں: 

آج میں نے کس آزمائش میں صبر کیا اور کس نعمت پر شکر ادا کیا؟

حاصلِ کلام یہ ہے کہ صبر ہمیں ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور شکر ہمیں بہکنے نہیں دیتا۔ 

یہی دونوں صفات بندے کے ایمان، کردار اور اللہ سے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں ←