عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
ایثار کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی پسندیدہ چیز دوسروں کے لیے قربان کرتا ہے۔
مضمون کی دوسری اور آخری قسط میں صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین کے واقعات کے ذریعے ایثار کی عملی صورتیں، نفس کی تربیت اور اس عظیم اخلاقی وصف کے روحانی و معاشرتی فوائد بیان کئے گئے ہیں۔
2/2
تاریخِ اسلامی ایثار کے نمونوں سے بھری ہوئی ہے، چند ایک مثالیں پیشِ خدمت ہیں:سردیوں کا زمانہ تھا، ایک انصاری خاتون نے دربارِ رسالت مآبﷺ میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ، میں آپﷺ کے لئے بردہ سی دیتی ہوں جو اس سردی میں آپﷺ کے کام آئے گا۔
آپﷺ نے اجازت دی، خاتون نے وہ بردہ سیا اور آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔
آپﷺ نے پہلی مرتبہ وہ بردہ زیبِ تن کیا اور صحابہ کرامؓ کی مجلس میں تشریف لے گئے۔
🧥 رسول اکرم ﷺ کا بردہ — عطا کی بے مثال صورت
ایک خاتون نے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنے ہاتھ سے تیار کردہ بردہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اسے پہن لیا۔
ایک صحابی نے بردہ پسند کیا اور درخواست کی کہ یہ انہیں عطا کر دیا جائے۔ آپ ﷺ نے وہ بردہ انہیں دے دیا۔
صحابی نے بتایا کہ ان کی خواہش اسے پہننے کی نہیں، بلکہ اپنے کفن کے طور پر استعمال کرنے کی ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 1277۔
ایک انصاری نے دیکھا اور کہا:
یہ کتنا اچھا بردہ ہے، اے اللہ کے رسولﷺ، آپ یہ مجھے عطا کر دیں۔
آپﷺ نے فوری طور پر وہ بردہ اتارا اور انصاری کو دے دیا۔
صحابہ کرامؓ گویا زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ اے انصاری، یہ تو نے کیا کر دیا۔
انصاری ان کی نظروں کو سمجھ گئے اور کہا:
میں چاہتا ہوں کہ جب میں مر جاؤں تو اس میں مجھے کفن دیا جائے۔
مزید پڑھیں
٭ جب حضرت عمر بن خطابؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے عبداللہ کو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے پاس کہلوا بھیجا کہ:
عمرؓ نے آپ کو سلام بھیجا ہے، وہ آپ سے اجازت چاہتا ہے
کہ انہیں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے۔
حضرت عائشہؓ کا ایثار دیکھئے، فرمایا:
اس جگہ کو تو میں نے اپنے لئے رکھ چھوڑا تھا مگر آج میں عمر کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔
🌿 حضرت عائشہؓ نے اپنی پسند پر حضرت عمرؓ کو ترجیح دی
حضرت عمرؓ نے وفات کے قریب اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ذریعے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے اجازت طلب کی کہ انہیں اپنے دونوں ساتھیوں کے قریب دفن کیا جائے۔
حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ وہ جگہ انہوں نے اپنے لیے سوچ رکھی تھی، مگر آج وہ حضرت عمرؓ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہیں۔
سبق: ایثار بعض اوقات ایسی چیز چھوڑنے میں ظاہر ہوتا ہے جو انسان کے دل کو سب سے زیادہ عزیز ہو۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 1392۔
٭ حضرت ابو الحسن انطاکیؒ کے متعلق روایت ہے کہ ان کے گھر میں 30 سے زیادہ افراد آئے، ان کے پاس اتنا کھانا نہیں تھا جو سب کے لئے کافی ہوتا۔
انہوں نے سارا کھانا دسترخوان پر لگا دیا اور چراغ گل کر دیا۔
سب لوگ دسترخوان پر بیٹھے، جب فارغ ہو کر اٹھے اور چراغ جلایا گیا تو دیکھا، کھانا جیسا تھا، ویسا ہی پڑا ہوا ہے، ہر فرد نے اپنے بھائی کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہوئے کھانے سے ہاتھ روکے ہوئے تھا۔
مزید پڑھیں
ایثار کا مطلب ہی یہ ہے کہ اپنے بھائی کو اپنی ذات پر ترجیح دی جائے حالانکہ وہ خود محتاج ہو۔
رسول اکرمﷺ نے اس کے لئے پیمانہ وضع کیا ہے:
تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:
ایثار ایمان کی چوٹی ہے۔
ایثار کا میدان بہت وسیع ہے، یہ محض انفاق اور عطا تک محدود نہیں بلکہ ہر جگہ اور ہر شعبے میں اس کی ضرورت ہے۔
اچھے بھلے آدمی مال کی قربانی کا وقت آتا ہے تو مال قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے، وہ وقت قربان کرتے ہیں، صلاحیتیں قربان کرتے ہیں اور اللہ نے انہیں جو کچھ عطا کیا ہے، وہ سب کچھ قربان کرتے ہیں مگر قربان نہیں کرتے تو رائے کی قربانی نہیں کرتے۔
🕯️ ابو الحسن انطاکیؒ کے مہمان — سب نے دوسرے کو ترجیح دی
مضمون میں حضرت ابو الحسن انطاکیؒ سے منسوب واقعہ نقل ہوا ہے کہ گھر آئے مہمانوں کے لیے کھانا کم تھا۔
دسترخوان بچھا اور چراغ بجھا دیا گیا۔ جب چراغ دوبارہ روشن ہوا تو کھانا ویسے ہی موجود تھا؛ ہر شخص دوسرے کو موقع دینا چاہتا تھا۔
سبق: سچا ایثار اس وقت سامنے آتا ہے جب آدمی خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسرے کے حصے کا خیال رکھے۔
نوٹ: یہ مضمون میں نقل کردہ تاریخی حکایت ہے؛ اس کی مستقل سندی تحقیق یہاں شامل نہیں۔
میری رائے میرے نزدیک سب سے عزیز اور محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس کی راہ میں پسندیدہ ترین چیز خرچ کی جائے اور اس مجلس میں میری پسندیدہ ترین چیز میری رائے ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، بڑی مشکل سے آپ کے لئے گھر میں مچھلی پکائی گئی، جب مچھلی دسترخوان پر رکھی گئی، عین اسی وقت سائل نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
آپ نے فرمایا اسے مچھلی دے دو، گھر والوں نے کہا، ہم نے بڑی مشکل سے آپ کے لئے مچھلی پکائی ہے، گھر میں گوشت کا سالن ہے، ہم وہ سائل کو دے دیتے ہیں، آپ مچھلی کھائیں، مگر آپ کا جواب تھا:
وَلٰكِنِّي أُحِبُّ السَّمَكَ
مگر مچھلی مجھے پسند ہے۔
🤝 اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرنا جو اپنے لیے
رسول اکرم ﷺ کی تعلیم ہے کہ آدمی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
ایثار کی روح: دوسرے کے لیے بھی وہی خیر چاہنا جس کا انسان اپنے لیے خواہاں ہو۔
مضمون میں حضرت علیؓ سے منسوب قول بھی نقل ہوا ہے: «ایثار ایمان کی چوٹی ہے»۔
حدیث کا حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 13۔ قول کی نسبت کی علیحدہ تحقیق ضروری ہے۔
جو چیز جس موقع پر سب سے زیادہ عزیز ہو اسی کی قربانی دینے سے وہ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے جسے قرآن مجید نے ’بِر‘ کہا ہے۔
ایثار اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آدمی اپنے ساتھیوں کے حقوق کی تعظیم نہیں کرتا اور ان کو ادا کرنے کی سعی نہیں کرتا۔
علاوہ ازیں اچھے اخلاق جہاں وہبی ہوتے ہیں وہاں کسبی بھی ہو سکتے ہیں۔
علماء کرام کہتے ہیں یہ ایثار جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے، اسے انجام دینا انسان کے نفس پر بڑا شاق گزرتا ہے، انسان کو اپنے نفس کو اس کا عادی بنانے کے لئے اس پر جبر کرنا پڑتا ہے۔
💭 ایثار کا مشکل ترین میدان — اپنی رائے کی قربانی
مصنف کے نزدیک ایثار کا میدان صرف مال و دولت یا وقت اور صلاحیتوں کی قربانی تک محدود نہیں۔
انسان بہت کچھ قربان کر دیتا ہے، لیکن اکثر اپنی رائے سے دست بردار ہونا اسے سب سے زیادہ دشوار محسوس ہوتا ہے۔
غور کا سوال: کیا ہم حق اور بھلائی کے لیے اپنی پسندیدہ رائے میں بھی لچک دکھا سکتے ہیں؟
آخر میں ایثار کے فوائد آپ کے سامنے رکھتا ہوں:
ایثار ایمان کی علامت ہے، اللہ کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے، لوگوں کے درمیان الفت و محبت قائم کرنے کا سبب ہے، نفس کے جود و سخا کی علامت ہے، اس سے برکت ہوتی ہے، اس سے رحمت کا حصول ہوتا ہے، اس میں فلاح و نجات ہے۔
🐟 حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور پسندیدہ مچھلی
مضمون میں بیان کردہ واقعے کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو مچھلی کھانے کی خواہش تھی۔ جب مچھلی پیش کی گئی تو ایک سائل دروازے پر آیا۔
گھر والوں نے دوسری غذا دینے کی تجویز پیش کی، مگر آپؓ نے مچھلی ہی سائل کو دینے کو کہا اور فرمایا: «وَلٰكِنِّي أُحِبُّ السَّمَكَ» — مگر مچھلی مجھے پسند ہے۔
قرآنی اصول: نیکی کے بلند مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔