براہ راست نشریات

ایثار، خاصۂ خاصان کا خاصہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Islamic Altruism

لفظ ’ایثار‘ کا ترجمہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں نہیں ہوسکتا، اس اعلی خلق سے غیر مسلم عاری ہیں

Picture of عبد الستار خان

عبد الستار خان

اوورسیز پوسٹ

ایثار اسلامی اخلاق کی ایک عظیم صفت ہے جس کی روشن مثال انصارِ مدینہ نے مہاجرین کی مدد کرکے قائم کی۔
اس مضمون میں قرآن مجید کی تعلیمات، سیرتِ نبویﷺ، امام قرطبیؒ اور حافظ ابن قیمؒ کی تشریحات کی روشنی میں ایثار کے مفہوم اور اس کے 3 درجات پر گفتگو کی گئی ہے۔

1/2

سورۃ الحشر کی آیت 9 میں ارشادِ ربانی ہے:

اور جو مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دار الہجرت میں مقیم تھے، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے، اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں، حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لئے گئے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (الحشر 9)

📖 قرآنِ مجید ایثار کو کیسے بیان کرتا ہے؟

وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ

مفہوم: وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود محتاج ہوں۔

سورۃ الحشر کی آیت 9 میں انصار کے اس کردار کو سراہا گیا اور دل کی تنگی سے بچنے کو فلاح کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔

حوالہ: سورۃ الحشر، آیت 9

درج بالا آیت کا شانِ نزول مدینہ منورہ کے انصار کا وہ جذبۂ ایثار ہے جس کے حوالے سے ہمیں سیرتِ طیبہ میں رہنمائی ملتی ہے۔ 

جب مہاجرین ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تو انصار نے رسول اکرمﷺ کی خدمت میں یہ پیشکش کی کہ ہمارے باغ اور نخلستان حاضر ہیں، آپﷺ انہیں ہمارے اور ان مہاجرین کے درمیان بانٹ دیں۔ 

حضورﷺ نے فرمایا:

تمہارے بھائی اپنے اموال اور اولاد کو چھوڑ کر تمہارے پاس آئے ہیں، یہ اس علاقے سے آئے ہیں جہاں باغات نہیں، یہ لوگ باغبانی نہیں جانتے، کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپنے ان باغوں اور نخلستانوں میں کام تم کرو اور پیداوار میں سے حصہ ان کو دو؟

🌴 مہاجرین کے لیے انصار کی بے مثال پیشکش

جب مہاجرین مدینہ طیبہ پہنچے تو انصار نے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنے باغات اور نخلستان پیش کر دیئے۔

ان کی خواہش تھی کہ ان باغات کو اپنے اور مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔

سبق: ایثار محض زبانی ہمدردی نہیں؛ ضرورت مند کے لیے اپنی ملکیت اور وسائل پیش کرنے کا عملی جذبہ ہے۔

مزید پڑھیں

انصار نے کہا:

اے اللہ کے رسولﷺ، ہم سمع و اطاعت کرتے ہیں مگر اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔

رسول اکرمﷺ نے فرمایا:

اس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی۔

اور پھر جب خیبر فتح ہوا اور اس کی زمینیں مہاجرین میں تقسیم کر دی

 گئیں تو انصار نے کہا:

اے اللہ کے رسولﷺ، آپﷺ نے ہمارے ذمہ جو کام لگایا تھا، اسے تو ہم نے پورا کر دیا، اب جو آپﷺ نے ہمیں خوشخبری دی تھی، اسے بھی پورا کر دیں۔

آپﷺ نے فرمایا:

ہاں، تم نے اپنا کام پورا کر دیا تو اس کے بدلے میں جنت تمہیں ضرور ملے گی۔

🤝 رسول اکرم ﷺ نے تعاون کی کیا صورت بتائی؟

مضمون کے بیان کے مطابق آپ ﷺ نے توجہ دلائی کہ مہاجرین ایسے علاقوں سے آئے ہیں جہاں باغبانی عام نہیں تھی۔

آپ ﷺ نے تجویز دی کہ انصار اپنے باغات میں کام کریں اور پیداوار میں مہاجرین کو حصہ دیں۔

اس طرح مدد صرف ایک وقتی عطیہ نہیں بلکہ مسلسل معاشی تعاون کی صورت اختیار کرتی ہے۔

ایثار کا مادہ ’ا ث ر‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کہ دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دینا، فوقیت دینا، فضیلت دینا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا:

تَاللّٰهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا

بخدا تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی ہے۔

امام قرطبیؒ ایثار کے معانی واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

دنیاوی معاملات میں دوسرے شخص کو اپنے اوپر فضیلت و فوقیت اس لئے دی جائے تاکہ دین کے معاملات میں مجھے فضیلت اور فوقیت حاصل ہو، یہ کام بجز یقین، صبر اور محبت کے نہیں ہو سکتا۔

✨ انصار کی خدمت اور جنت کی بشارت

انصار نے جب باغات میں کام اور پیداوار میں حصہ دینے کی بات سنی تو عرض کیا کہ اس کے بدلے انہیں کیا ملے گا؟

مضمون میں رسول اکرم ﷺ کی جانب سے جنت کی بشارت کا ذکر ہے۔

اسی روایت کے تسلسل میں فتحِ خیبر کے بعد انصار نے اپنی خدمت یاد دلائی اور انہیں دوبارہ اجر کی خوشخبری دی گئی۔

سبق: اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کو ترجیح دینے کا اجر دنیاوی فائدے سے بڑھ کر ہے۔

علامہ حافظ ابن قیمؒ کہتے ہیں:

ایثار کے 3 درجے ہیں:

پہلا یہ کہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح، فوقیت اور فضیلت دینا۔

دوسرا یہ کہ اللہ کی رضا کو دیگر تمام مخلوقات کی خوشنودی پر فوقیت دینا۔

تیسرا یہ کہ مؤخر الذکر دونوں درجوں کے ایثار کو اللہ کے ایثار سے منسوب کرنا۔ 

اگر میں نے کسی ساتھی کو اپنے اوپر ترجیح، فوقیت یا فضیلت دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فوقیت میں نے نہیں دی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ پر فوقیت عطا کی ہے۔ 

اگر میں نے اللہ کی رضا کو دیگر تمام مخلوقات کی رضا پر فوقیت دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی اپنی رضا کو دیگر تمام مخلوقات کی رضا پر فوقیت دی ہے کیونکہ حقیقت میں دینے والا وہی ہے۔

🔎 ایثار کے معنی اور سورۃ یوسف کی مثال

ایثار کے معنی: دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح، فوقیت یا فضیلت دینا۔

مضمون میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا یہ قول بھی پیش کیا گیا ہے:

تَاللّٰهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا

ترجمہ: بخدا، اللہ نے تمہیں ہم پر فضیلت بخشی ہے۔

حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 91

ایثار وہ حسنِ خلق ہے جو اسلام کے سوا کسی بھی مذہب میں نہیں پایا جاتا۔ 

لفظ ایثار کا ترجمہ انگریزی اور فرانسیسی سمیت تمام مغربی زبانوں میں نہیں ہو سکتا۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس اعلیٰ خلق سے غیر مسلم عاری ہیں، یہ حسنِ خلق صرف مدرسۂ محمدیہﷺ سے حاصل ہو سکتا ہے۔

جاری ہے