ابوظبی میں سائنس دانوں نے ایک ایسا ننھا وائرلیس آلہ تیار کیا ہے جو انجیکشن کے ذریعے اعصاب کے قریب پہنچایا جا سکتا ہے۔
جانوروں پر تجربات کامیاب رہے، لیکن انسانوں میں دائمی درد کم کرنے کی صلاحیت ابھی ثابت ہونا باقی ہے۔
دائمی درد لاکھوں لوگوں کے لیے ایسا مسئلہ ہے جو نیند، کام اور روزمرہ زندگی متاثر کرتا ہے۔ بعض مریض برسوں ادویات استعمال کرتے ہیں، لیکن درد مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
اب متحدہ عرب امارات میں سائنس دانوں نے ایک انتہائی چھوٹا وائرلیس آلہ تیار کیا ہے جو مستقبل میں اعصابی درد کے علاج کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
📏 اہم اعداد — آلہ کتنا چھوٹا ہے؟
9 ملی میٹر: SEED کی لمبائی۔
1.4 ملی میٹر: آلے کا قطر؛ عام بیج کے برابر جسامت۔
14 گیج: وہ طبی سوئی جس کے ذریعے تحقیقی نمونے کو داخل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔
12 جون 2026: تحقیق کی Science Advances میں اشاعت؛ 10 اکتوبر کو اس کی خبری کوریج نمایاں ہوئی۔
نیویارک یونیورسٹی ابوظبی اور کلیولینڈ کلینک ابوظبی کے محققین نے اس آلے کو SEED کا نام دیا ہے۔
اسے ایک مخصوص سوئی کے ذریعے جسم میں متعلقہ عصب کے قریب پہنچایا جا سکتا ہے۔
یہ اندرونی بیٹری یا لمبی تاروں کے بغیر کام کرتا ہے اور جسم کے باہر موجود نظام سے توانائی حاصل کرتا ہے۔
⚡ ننھا آلہ اعصاب کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
درد کے سگنل اعصاب کے راستے دماغ تک پہنچتے ہیں۔ بعض بیماریوں یا چوٹوں میں اعصابی سرگرمی میں تبدیلی سے مسلسل درد پیدا ہو سکتا ہے۔
SEED مخصوص عصب کے قریب رہ کر قابو میں رکھے گئے برقی سگنل فراہم کرتا ہے۔ اس طریقے کو Peripheral Nerve Stimulation یعنی پردیی اعصاب کی برقی تحریک کہا جاتا ہے۔
بیرونی کنٹرول سے تحریک کی نوعیت بدلی جا سکتی ہے؛ مگر حقیقی درد سے نجات کا فائدہ ابھی انسانی تحقیق سے ثابت ہونا ہے۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے Science Advances میں جون 2026 میں شائع ہوئی، جبکہ اکتوبر میں اسے عالمی سائنسی ذرائع ابلاغ میں دوبارہ نمایاں کیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ فی الحال یہ تجرباتی ٹیکنالوجی ہے، مریضوں کے لیے منظور شدہ علاج نہیں۔
مزید پڑھیں
آلہ کیسے کام کرتا ہے؟
جسم کے اعصاب درد اور حرکت سمیت مختلف پیغامات دماغ تک پہنچاتے ہیں۔
بعض حالات میں چوٹ ٹھیک ہونے کے بعد بھی درد کے سگنل جاری رہتے ہیں۔
ایسے مسلسل درد کی ایک شکل اعصابی درد ہے، جبکہ 3 ماہ یا اس سے
زیادہ عرصے تک برقرار رہنے والے درد کو عموماً دائمی درد کہا جاتا ہے۔
طبی دنیا میں اعصاب کو برقی تحریک دینے کا طریقہ پہلے سے موجود ہے، مگر روایتی نظاموں میں بعض اوقات جراحی عمل، بیٹری یا تاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
نئے آلے کی خاص بات اس کا مختصر سائز ہے۔
💉 نہ بڑی جراحی، نہ اندرونی بیٹری
بعض موجودہ اعصابی تحریک کے آلات لگانے میں جراحی عمل، اندرونی بیٹری یا منسلک تاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نیا آلہ سوئی کے ذریعے داخل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اسے کام کرنے کی توانائی جسم کے باہر سے وائرلیس ملتی ہے۔
محققین کے مطابق الٹراساؤنڈ اور سی ٹی اسکین سے اس کی جگہ معلوم کرنے اور نگرانی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یاد رہے: سوئی کے ذریعے داخل کرنا بھی طبی عمل ہے، اس لیے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔
تحقیق کے مطابق یہ تقریباً نو ملی میٹر لمبا اور 1.4 ملی میٹر موٹا ہے۔
بیرونی نظام سے پہنچنے والی وائرلیس توانائی اسے برقی سگنل پیدا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ڈاکٹر طبی تصویری رہنمائی کی مدد سے اسے مخصوص عصب کے قریب رکھ سکتے ہیں۔
مقصد اعصابی سرگرمی کو اس انداز میں متاثر کرنا ہے کہ مستقبل میں بعض تکالیف پر قابو پایا جا سکے۔
تجربات میں کیا سامنے آیا؟
محققین نے چوہوں پر تجربات میں آلہ ٹانگ کے عصب کے قریب رکھا۔ جب اسے باہر سے توانائی دی گئی تو پٹھوں میں حرکت پیدا ہوئی۔
سگنل کی شدت بدلنے سے حرکت بھی تبدیل ہوئی، جس سے معلوم ہوا کہ آلہ جسم کے اندر مخصوص عصب کو قابو میں رہنے والی برقی تحریک دے سکتا ہے۔
🐀 جانوروں پر تجربات میں کیا ہوا؟
محققین نے لیبارٹری ٹیسٹ کے علاوہ چوہوں کے سائیاٹک عصب پر آلے کو آزمایا۔
بیرونی نظام سے توانائی فراہم کرنے پر آلے نے عصب کو برقی تحریک دی اور پٹھوں میں متوقع ردعمل پیدا ہوا۔
اس سے آلے کی اعصابی تحریک دینے کی تکنیکی صلاحیت ظاہر ہوئی، لیکن یہ انسانوں میں درد کا مؤثر علاج ہونے کا ثبوت نہیں۔
لیبارٹری میں جسمانی بافتوں سے ملتے جلتے حالات کے دوران آلے کو ساٹھ دن تک بار بار فعال کرکے بھی جانچا گیا۔
یہ نتائج اس کی تکنیکی صلاحیت کے حق میں ہیں، لیکن انہیں درد ختم ہونے کا ثبوت سمجھنا غلط ہوگا۔
تحقیق نے انسانوں میں درد میں کمی یا طویل مدتی حفاظت ثابت نہیں کی۔
مریضوں کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
اگر آئندہ انسانی آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ ٹیکنالوجی ایسے افراد کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے جنہیں اعصابی چوٹ یا دوسری وجوہ سے مسلسل درد رہتا ہے۔
چھوٹے آلے کی بدولت کچھ مریضوں کو بڑے آپریشن کے مقابلے میں کم پیچیدہ طریقہ میسر آسکتا ہے۔
🩺 کن مریضوں کے لیے امید بن سکتا ہے؟
اگر مستقبل کی انسانی آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ طریقہ اعصاب سے متعلق دائمی درد اور بعض حرکتی مسائل میں اضافی علاج بن سکتا ہے۔
خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے تحقیق اہم ہو سکتی ہے جنہیں اعصابی چوٹ کے بعد مسلسل تکلیف ہو یا روایتی علاج سے مطلوبہ آرام نہ ملتا ہو۔
فی الحال یہ مخصوص بیماری کے علاج کے لیے منظور شدہ تجارتی آلہ نہیں اور نہ مریض اسے عام اسپتالوں میں دستیاب علاج سمجھیں۔
تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ اس سے کتنے مریضوں کو فائدہ ہوگا، درد کتنی مدت کم رہے گا یا کیا ادویات کی ضرورت واقعی گھٹے گی۔
ماہرین کو انفیکشن، سوزش، آلے کی جگہ برقرار رہنے اور وقت کے ساتھ اس کی کارکردگی جیسے سوالات کا بھی جواب تلاش کرنا ہوگا۔
محققین کے لیے اگلا مرحلہ یہ سمجھنا بھی ہوگا کہ بیرونی توانائی کا نظام مختلف جسمانی ساخت والے افراد میں یکساں کام کرتا ہے یا نہیں۔
ممکنہ طبی استعمال سے پہلے آزمائشوں، ضابطہ جاتی منظوری اور مریضوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہوگی۔
یہ پیش رفت کیوں اہم ہے؟
اس منصوبے میں ابوظبی کی یونیورسٹی اور اسپتال کا تعاون خلیجی خطے میں جدید طبی تحقیق کی بڑھتی صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔
اصل کامیابی صرف ایک ننھا آلہ بنانا نہیں بلکہ اعصاب تک نسبتاً کم مداخلت کے ساتھ برقی تحریک پہنچانے کا نیا طریقہ پیش کرنا ہے۔
💊 کیا درد کی دواؤں کی ضرورت ختم ہو جائے گی؟
دائمی درد کے علاج میں بعض مریضوں کو طویل عرصے تک دواؤں، فزیوتھراپی یا دوسرے طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اعصابی تحریک ان علاجوں کے ساتھ ایک ممکنہ اضافی راستہ ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ اعصاب کی سرگرمی پر براہ راست اثر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔
لیکن ابھی کسی انسانی آزمائش نے یہ ثابت نہیں کیا کہ SEED سے دواؤں کی ضرورت کم ہوگی یا درد مکمل طور پر ختم ہوگا۔
فی الحال دائمی درد کے مریضوں کو اپنی دوائیں یا موجودہ علاج خود سے بند نہیں کرنا چاہئے۔ یہ آلہ ایک امید افزا تحقیق ہے، فوری علاج نہیں۔
اس کا اصل امتحان انسانی تجربات ہوں گے، جن سے پتا چلے گا کہ یہ ٹیکنالوجی واقعی محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
Science Advances — اصل تحقیق (12 جون 2026):
SEED، انجیکشن کے ذریعے داخل ہونے والے وائرلیس اور بغیر بیٹری اعصابی تحریک کے آلے کی تفصیلات۔
اصل مقالہ کھولیں
PubMed — طبی تحقیقی ریکارڈ:
مقالے کے مصنفین، سائنسی حوالہ اور تحقیقی خلاصہ۔
تحقیقی ریکارڈ کھولیں
ScienceDaily — 10 اکتوبر 2026:
ابوظبی میں تیار ہونے والے آلے اور اس کے ممکنہ طبی استعمال کی خبر۔
اصل رپورٹ کھولیں
The National — 14 جون 2026:
نیویارک یونیورسٹی ابوظبی اور کلیولینڈ کلینک ابوظبی کے تحقیقی تعاون کی خبر۔
تفصیلی خبر کھولیں