براہ راست نشریات

چینی سے 2 ہزار گنا میٹھا پروٹین، آئس کریم کی دنیا بدلنے لگا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Brazzein Protein

سائنس دانوں نے برازیئن نامی قدرتی پروٹین سے ایسی آئس کریم تیار کی ہے جو عام چینی کے بغیر بھی میٹھی ہے۔ ابتدائی انسانی تجربات میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات جانچنا باقی ہیں۔

آئس کریم کھانے کا شوق رکھنے والوں، خصوصاً شوگر کے مریضوں کے لیے سائنس دانوں نے ایک ایسی امید افزا پیش رفت کی ہے جو مستقبل میں میٹھی غذاؤں کی تیاری کا طریقہ بدل سکتی ہے۔ 

محققین نے ایک قدرتی پروٹین استعمال کرکے ایسی آئس کریم تیار کی ہے جو چینی کے بغیر بھی میٹھی ہے، جبکہ اسے کھانے کے بعد خون میں شوگر کا اضافہ روایتی آئس کریم کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم پایا گیا۔

🌿 برازیئن کیا ہے اور کہاں سے ملتا ہے؟

قدرتی ذریعہ: برازیئن مغربی افریقہ کے پودے Pentadiplandra brazzeana کے پھل میں پایا جانے والا میٹھا پروٹین ہے۔

مٹھاس: اسے بہت معمولی مقدار میں استعمال کرکے چینی جیسا میٹھا ذائقہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

تیاری: پودے سے بڑی مقدار حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے جدید حیاتیاتی طریقوں سے اس پروٹین کی پیداوار پر کام ہورہا ہے۔

ممکنہ استعمال: آئس کریم، دہی، مشروبات اور دوسری میٹھی غذائیں۔

اس پروٹین کا نام برازیئن (Brazzein) ہے۔ 

اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام چینی سے 500 سے 2 ہزار گنا زیادہ میٹھا ہوسکتا ہے۔ 

تاہم اس کی مٹھاس کا انحصار استعمال ہونے والی مقدار اور چینی سے تقابل کے طریقے پر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

آخر یہ حیرت انگیز پروٹین کیا ہے؟

برازیئن مغربی افریقہ میں پائے جانے والے ایک پودے Pentadiplandra brazzeana کے پھل سے حاصل ہونے والا قدرتی پروٹین ہے۔ 

سائنس دانوں نے 1994 میں اس کی خصوصیات پر تحقیق شائع کی تھی۔

عام چینی کے برعکس یہ پروٹین نہایت معمولی مقدار میں مطلوبہ مٹھاس پیدا کرسکتا ہے۔ 

اس کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ نسبتاً زیادہ درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے مختلف غذائی مصنوعات میں استعمال کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

چونکہ پودے سے براہِ راست بڑی مقدار حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے سائنس دان اسے جدید حیاتیاتی طریقوں سے تیار کرنے پر بھی کام کررہے ہیں۔

🔬 سائنس دانوں نے تجربہ کیسے کیا؟

تحقیق میں جگر میں چربی جمع ہونے کے مرض میں مبتلا 101 بالغ افراد شامل تھے؛ ان میں تقریباً 44 فیصد کو ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی تھی۔

ہر فرد کو مختلف دنوں میں 100 گرام کی تین آئس کریمیں دی گئیں:

① عام چینی والی؛ ② برازیئن والی؛ ③ برازیئن اور اِنولِن فائبر والی۔

سینسرز سے ہر بار کھانے کے بعد 150 منٹ تک خون میں گلوکوز کی تبدیلی ریکارڈ کی گئی۔

101 افراد پر تجربہ، نتائج کیا نکلے؟

اکتوبر 2026 میں سائنسی جریدے Clinical Nutrition ESPEN میں شائع ہونے والی تحقیق میں 101 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو جگر میں چربی جمع ہونے کے مرض میں مبتلا تھے۔ 

ان میں تقریباً 44 فیصد کو ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی تھی۔

شرکا کو الگ الگ دنوں میں تین اقسام کی آئس کریم کھلائی گئی۔

پہلی میں عام چینی، دوسری میں برازیئن اور تیسری میں برازیئن کے ساتھ غذائی فائبر شامل تھا۔

ہر مرتبہ 100 گرام آئس کریم دی گئی اور جدید سینسرز کی مدد سے اگلے 150 منٹ تک خون میں گلوکوز کی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔

📊 52 فیصد کمی — اس کا صحیح مطلب کیا ہے؟

52 فیصد: برازیئن والی آئس کریم کے بعد گلوکوز کے اضافے کی مجموعی مخصوص پیمائش (iAUC) میں کمی۔

48 فیصد: برازیئن کے ساتھ اِنولِن فائبر والی آئس کریم میں اسی پیمائش کی کمی۔

اہم وضاحت: اس کا مطلب یہ نہیں کہ خون میں شوگر کی مجموعی سطح 52 فیصد گر گئی یا ذیابیطس کا علاج دریافت ہوگیا۔

یہ نتائج ایک مرتبہ کھانے کے بعد مختصر مدت کے ردعمل سے متعلق ہیں، مستقل طبی فائدے کا ثبوت نہیں۔

نتائج کے مطابق برازیئن والی آئس کریم کھانے سے شوگر کے اضافے کی مجموعی پیمائش عام آئس کریم کے مقابلے میں 52 فیصد کم رہی۔

فائبر والی قسم میں یہ کمی تقریباً 48 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ اعداد خون میں شوگر کی مجموعی سطح میں 52 فیصد کمی نہیں بلکہ کھانے کے بعد گلوکوز کے اضافے کی مخصوص سائنسی پیمائش میں کمی ظاہر کرتے ہیں۔

کیا ذائقہ بھی عام آئس کریم جیسا ہے؟

چینی کے متبادل استعمال کرنے میں سب سے بڑا مسئلہ ذائقہ ہوتا ہے۔ 

بعض مصنوعات میں مٹھاس تو ہوتی ہے مگر اصل چینی جیسا لطف برقرار نہیں رہتا۔

اس مسئلے کو جانچنے کے لیے 103 افراد پر ایک الگ تجربہ کیا گیا۔

🍨 کیا ذائقہ واقعی عام آئس کریم جیسا ہے؟

ذائقے سے متعلق الگ تحقیق میں 103 بالغ افراد نے دونوں قسم کی ونیلا آئس کریم چکھیں۔

96.1 فیصد: برازیئن والی آئس کریم کو مثبت پسندیدگی کی درجہ بندی دینے والے افراد۔

98.1 فیصد: عام چینی والی آئس کریم کی مثبت پسندیدگی۔

ذائقہ، ساخت، خوشبو اور مجموعی تاثر میں بڑا فرق سامنے نہیں آیا۔ اس تحقیق میں طویل مدت تک روزانہ استعمال کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔

اس تحقیق میں برازیئن والی آئس کریم کو پسند کرنے والوں کی شرح 96.1 فیصد جبکہ عام چینی والی آئس کریم کی شرح 98.1 فیصد تھی۔

محققین کے مطابق دونوں کے مجموعی ذائقے اور پسندیدگی میں کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔

کیا یہ پروٹین صحت کے لیے محفوظ ہے؟

ستمبر 2026 میں شائع ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں 60 صحت مند افراد کو 21 دن تک برازیئن یا عام چینی استعمال کرائی گئی۔

اس محدود تجربے میں برازیئن استعمال کرنے والوں کے طبی اور حیاتیاتی نتائج میں کوئی نمایاں منفی اثر سامنے نہیں آیا۔

🧪 حفاظت کے بارے میں کیا معلوم ہوا؟

ایک الگ تحقیق میں 60 صحت مند بالغ افراد پر برازیئن کے استعمال کا 21 دن تک جائزہ لیا گیا۔

اس محدود تجربے میں طبی اور خون کے اہم ٹیسٹوں کے حوالے سے کوئی نمایاں نقصان سامنے نہیں آیا اور پروٹین عمومی طور پر قابلِ برداشت رہا۔

حد: صرف 21 دن اور محدود تعداد کے افراد پر تحقیق سے ہر عمر، ہر بیماری یا برسوں کے استعمال کی حفاظت ثابت نہیں ہوتی۔

بڑی اور طویل مدتی تحقیقات ابھی ضروری ہیں۔

تاہم محققین واضح کرتے ہیں کہ طویل مدتی استعمال، مختلف عمر کے افراد اور مخصوص بیماریوں میں اس کی مکمل حفاظت جانچنے کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔

کیا ذیابیطس کے مریض بے فکر ہوجائیں؟

اس سوال کا جواب فی الحال نفی میں ہے۔

برازیئن چینی کی جگہ لے سکتا ہے، لیکن آئس کریم میں موجود دودھ، چکنائی، دوسرے کاربوہائیڈریٹس اور مجموعی کیلوریز بدستور اہم رہیں گی۔

اس لیے برازیئن والی آئس کریم کو ذیابیطس کا علاج سمجھنا یا اسے غیر محدود مقدار میں کھانا درست نہیں ہوگا۔

⚠️ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری انتباہ

برازیئن والی آئس کریم ذیابیطس کی دوا یا علاج نہیں۔

چینی نکال دینے سے آئس کریم میں دودھ کے کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور کیلوریز لازماً ختم نہیں ہوتیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کو ایسی مصنوعات استعمال کرتے وقت غذائی لیبل، مقدار اور اپنے معالج یا ماہرِ غذائیت کی ہدایت دیکھنی چاہئے۔

تحقیق کا نتیجہ کسی کو بھی بے حساب آئس کریم کھانے کی اجازت نہیں دیتا۔

خوراک کی صنعت میں کیا تبدیلی آسکتی ہے؟

اگر آئندہ تحقیقات بھی مثبت رہیں تو یہ پروٹین آئس کریم کے علاوہ چاکلیٹ، دہی، مشروبات اور دوسری میٹھی مصنوعات میں چینی کی مقدار کم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

البتہ بڑے پیمانے پر پیداوار، قیمت، ذائقے کا معیار اور متعلقہ ممالک کی غذائی منظوری اس کے تجارتی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

اصل پیش رفت یہ نہیں کہ سائنس نے چینی سے زیادہ میٹھی چیز دریافت کرلی، بلکہ یہ ہے کہ ایک قدرتی پروٹین میٹھے ذائقے اور بہتر غذائی خصوصیات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی امید بن رہا ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Clinical Nutrition ESPEN — اکتوبر 2026
101 افراد میں آئس کریم کھانے کے بعد گلوکوز کے ردعمل کی بنیادی تحقیق۔
اصل تحقیق کھولیں


Dairy — جون 2026
103 افراد میں برازیئن اور روایتی آئس کریم کے ذائقے، ساخت اور پسندیدگی کا تقابل۔
اصل تحقیق کھولیں


Food Production, Processing and Nutrition — ستمبر 2026
60 صحت مند افراد میں 21 دن تک برازیئن کے استعمال اور برداشت کی تحقیق۔
اصل تحقیق کھولیں