🎭
حیران کن حقائق: تین سال تک جھوٹ کو سچ کیسے بنایا گیا؟
+
حیران کن حقائق: تین سال تک جھوٹ کو سچ کیسے بنایا گیا؟
📸 جعلی الٹراساؤنڈ اور فرضی نام
خاتون نے انٹرنیٹ سے حاصل کردہ الٹراساؤنڈ اسکینز اور نوزائیدہ بچوں کی تصاویر بھیج کر بچوں کے وجود کا گمان پیدا کیا اور ان کے فرضی نام ’شائلو روز‘ اور ’آریہ‘ رکھے۔
🔊 یوٹیوب سے بچوں کے رونے کی آوازیں
والد اور اس کے خاندان کو مکمل قابو میں رکھنے کے لیے فون کالز کے دوران یوٹیوب سے نوزائیدہ بچے کے رونے کی آڈیو چلا کر یہ تاثر دیا کہ بچی اسی کے پاس رو رہی ہے۔
⚖️ قانونی حراست کا دانستہ فائدہ
پہلی متوقع پیدائش سے عین قبل مرد پر تشدد کا الزام لگا کر اسے گرفتار کرایا گیا، جس سے بچے کی مبینہ پیدائش کے نازک وقت پر مرد کو تصدیق کا کوئی موقع نہ مل سکا۔
🚫 سوشل ویلفیئر کی پابندیوں کا ڈراما
رہائی کے بعد جب والد نے ملنے پر اصرار کیا تو خاتون نے بہانا بنایا کہ بچے رشتے داروں کی نگرانی میں ہیں اور حکومتی قوانین باپ کو فوری ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے۔
کیا کوئی شخص برسوں تک 2 بچوں کا باپ ہونے کے یقین میں زندگی گزار سکتا ہے، انہیں دیکھنے کے لیے ترستا رہے، ان کی پرورش کے نام پر بھاری رقوم دیتا رہے اور آخر میں معلوم ہو کہ وہ بچے کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے؟
مزید پڑھیں
برطانیہ میں سامنے آنے والے ایک حیران کن مقدمے نے اس سوال کو حقیقت بنا دیا ہے۔
یہ کہانی محض جھوٹے حمل یا مالی دھوکے کی نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی ہے جسے تقریباً 3 سال تک باپ ہونے کا یقین دلایا گیا۔
کبھی الٹراساؤنڈ کی تصویر دکھائی گئی، کبھی نومولود کی تصویریں بھیجی گئیں اور کبھی بچے کے رونے کی آواز سنائی گئی۔
مگر جب معاملہ عدالت پہنچا تو انکشاف ہوا کہ دونوں بچوں کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔
محبت سے شروع کہانی دھوکے میں کیسے بدلی؟
برطانوی میڈیا کے مطابق اس مقدمے میں مرد کو ’جان‘اور خاتون کو ’جین‘ کا فرضی نام دیا گیا ہے۔ جان کی عمر 30 کی دہائی میں جبکہ جین کی عمر 50 کی دہائی کے آغاز میں تھی۔
دونوں کے تعلقات کورونا وبا کے دوران قائم ہوئے، لیکن انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔
Utterly bizarre: “Mother”fakes two pregnancies and claims £30,000 in child maintenance. https://t.co/1LzaFLQTMK https://t.co/VBA2DePt0p
— Jon Armstrong (@JonArmstrongLaw) October 5, 2026
2022 کے آخر میں جین نے جان کو خوش خبری سنائی کہ وہ باپ بننے والا ہے۔ خاتون نے الٹراساؤنڈ کی تصویر دکھائی اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کا پیٹ بھی بڑھتا دکھائی دیا۔
جان کو یقین ہوگیا کہ اس کی زندگی میں ایک نئے رشتے کا اضافہ ہونے والا ہے۔
⚖️
دھوکے کے 5 بڑے ثبوت: عدالت نے حقیقت کیسے پکڑی؟
◀
دھوکے کے 5 بڑے ثبوت: عدالت نے حقیقت کیسے پکڑی؟
پیدائش کے دن ٹیننگ سیلون کا بینک ریکارڈ
جس تاریخ کو خاتون نے بیٹی کو جنم دینے کا دعویٰ کیا، اسی دن اس کے بینک کارڈ سے جلد کو دھوپ دینے والے ٹیننگ سیلون میں ادائیگی ثابت ہوئی۔
طبی ریکارڈ میں حمل اور پیدائش کا عدم وجود
برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے تفصیلی ریکارڈ کی جانچ سے پتا چلا کہ خاتون نہ تو ان تاریخوں میں اسپتال داخل ہوئی اور نہ ہی اس کے نام پر کوئی پیدائش درج تھی۔
حیاتیاتی ناممکنی (سن یاس کا مرحلہ)
50 سال سے زائد عمر کی خاتون کے میڈیکل ریکارڈ اور اس کے اپنے عدالتی اعتراف سے یہ طے پایا کہ وہ سن یاس میں تھی اور قدرتی طور پر حاملہ ہو ہی نہیں سکتی تھی۔
یوٹیوب سے چوری شدہ جعلی آڈیو
موبائل فرانزک جانچ اور خاتون کے بیان سے ثابت ہوا کہ والد کو بیٹی کی رونے کی آوازیں سنانے کے لیے یوٹیوب ویڈیو کا پس منظر استعمال کیا گیا تھا۔
بچوں کی 500 پاؤنڈ میں فروخت کا مضحکہ خیز دعویٰ
خاتون نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے بچوں کو معمولی رقم میں بیچنے کا فرضی دعویٰ کیا، مگر پولیس اور ایجنسیوں کو بچوں کی منتقلی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچی پیدا ہوئی، مگر باپ کو دیکھنا نصیب نہ ہوا
مئی 2023 میں پہلی بچی کی پیدائش متوقع تھی، لیکن اس سے قبل دونوں میں جھگڑا ہوگیا۔ جین نے پولیس کو جان کے خلاف تشدد کی شکایت کی، جس کے بعد اسے گرفتار کرکے کئی ماہ حراست میں رکھا گیا۔
گرفتاری کے 2 دن بعد جین نے جان کے اہل خانہ کو بتایا کہ بچی پیدا ہوگئی ہے۔ اس نے بچی کا نام ’شائلو روز‘ بتایا اور تصاویر سمیت پیدائش کی تفصیلات بھیجیں۔
رہائی کے بعد جان نے بیٹی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن جین کا کہنا تھا کہ بچی رشتے داروں کے پاس ہے اور سماجی بہبود کے انتظامات ملاقات کی اجازت نہیں دیتے۔
🧠
نفسیاتی پہلو: کوئی عورت فرضی بچوں کی کہانی کیوں گھڑتی ہے؟
◆
نفسیاتی پہلو: کوئی عورت فرضی بچوں کی کہانی کیوں گھڑتی ہے؟
برطانوی عدالت کے مطابق یہ محض کوئی عام فریب نہیں تھا بلکہ گہری نفسیاتی پیچیدگیوں، جذباتی انتشار اور بدلہ لینے کی شدید خواہش کا خطرناک امتزاج تھا جس نے ایک مرد کی پوری زندگی داؤ پر لگا دی۔
💔 تعلق کو باندھنے کی شدید تڑپ
بڑی عمر اور غیر محفوظ تعلق کے خوف سے پارٹنر کو باندھے رکھنے اور خود کو ناگزیر ثابت کرنے کے لیے حمل کی فرضی کہانی گھڑی گئی۔
⚔️ انتقام اور ذہنی اذیت کی تسکین
مبینہ بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لیے باپ کو بچے کی محبت میں تڑپا کر طویل ترین جذباتی اذیت میں مبتلا رکھنا خاتون کا مقصد تھا۔
🩺 پیچیدہ دماغی عوارض کا اثر
عدالت کے مطابق خاتون کی ذہنی حالت غیر متوازن تھی، جہاں جھوٹ گھڑنے والا شخص بتدریج خود اپنے ہی تراشے ہوئے فریب کا اسیر ہو جاتا ہے۔
دوسرے بچے کی آمد اور 30 ہزار پاؤنڈ
2024 میں جین نے ایک اور حمل کی اطلاع دی۔ اگست میں بچے کی متوقع پیدائش سے پہلے دونوں کے تعلقات ختم ہوگئے، لیکن خاتون نے بعد میں بیٹے کی پیدائش کا دعویٰ کردیا۔
اس بچے کا نام ’آریہ‘ بتایا گیا اور جان کو اس کی تصاویر بھی بھیجی گئیں۔
Woman faked two births and received £30,000 in support from alleged father of non-existent children, judge rules https://t.co/lhzYTN0UrQ
— Daily Mail (@DailyMail) October 5, 2026
اس دوران جان بچوں کی ضروریات کے لیے رقم بھیجتا رہا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق تقریباً 2 سال میں اس نے جین کو 30 ہزار پاؤنڈ، یعنی اس وقت کے حساب سے تقریباً 38 ہزار ڈالر ادا کیے۔
پھر ایک روز جین نے ایسا دعویٰ کیا جس نے جان کو ہلا کر رکھ دیا۔
اُس نے بتایا کہ دونوں بچے مجموعی طور پر صرف 500 پاؤنڈ میں فروخت کردیے گئے ہیں۔
30 ہزار پاؤنڈ کا معمہ: محبت، انتقام یا مالی فراڈ؟
◀
30 ہزار پاؤنڈ کا معمہ: محبت، انتقام یا مالی فراڈ؟
💸 والد کا زاویہ: محبت اور ذمے داری
⚖️ عدالتی نتیجہ: مالی فائدہ بمقابلہ انتقام
بچوں کی تلاش نے پورا راز کھول دیا
اکتوبر 2024 میں جان نے عدالت سے بچوں کا پتا لگانے اور بطور والد اپنے حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی۔
تب عدالت میں جین نے بالکل مختلف کہانی سنائی۔ اس نے اعتراف کیا کہ حمل اور بچوں کی پیدائش کے دعوے جھوٹے تھے۔
خاتون نے کہا کہ اس نے مبینہ بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لیے ایسا کیا۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سن یاس(یعنی ماہواری مستقل بند ہونے) کے مرحلے میں تھی اور حاملہ ہو ہی نہیں سکتی تھی۔
خاتون کے دعوے کے بعد عدالت نے طبی ریکارڈ، پولیس کی معلومات، موبائل فون، تصاویر اور مالی لین دین کی جانچ کی، لیکن دونوں بچوں کی پیدائش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
⚠️
کیا آپ بھی ایسے دھوکے کا شکار ہوسکتے ہیں؟ 5 خطرے کی نشانیاں
+
کیا آپ بھی ایسے دھوکے کا شکار ہوسکتے ہیں؟ 5 خطرے کی نشانیاں
ڈاکٹر اور اسپتال کے معائنے سے مسلسل گریز
اگر پارٹنر الٹراساؤنڈ یا چیک اپ کے وقت ساتھ جانے سے روکے اور مستند میڈیکل رپورٹس دکھانے کے بجائے صرف تصاویر پر انحصار کرے۔
روبرو ملاقات اور ویڈیو کالز پر مکمل قدغن
بچے کی پیدائش کے بعد ویڈیو کال کے بجائے صرف ریکارڈ شدہ آڈیو یا پرانی تصاویر بھیجنا اور براہِ راست دیکھنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا۔
نازک ترین موڑ پر قانونی یا خاندانی تنازعات کا ڈراما
متوقع ڈیلیوری کے قریب اچانک سنگین الزامات لگانا، تعلق توڑنا یا پولیس کا سہارا لینا تاکہ دوسری طرف کا فریق تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہ رہے۔
قانونی اور سوشل ورکرز کی فرضی پابندیاں
حکومتی بہبود، چائلڈ پروٹیکشن یا رشتے داروں کی نگرانی کا جھوٹا سہارا لے کر باپ کو قانونی حقوق اور بچوں کی شکل دیکھنے سے دور رکھنا۔
جذباتی بلیک میلنگ اور مسلسل مالی مطالبات
بچے کی محبت اور شفقت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلسل نقد رقوم مانگنا لیکن ملاقات کی ہر کوشش کو جذباتی ڈرامے کی نذر کر دینا۔
بچے کے رونے کی آواز اور بینک ریکارڈ
تحقیقات میں ایک حیران کن بات یہ بھی سامنے آئی کہ جس روز جین نے پہلی بچی کو جنم دینے کا دعویٰ کیا، بینک ریکارڈ کے مطابق وہ جلد کو سانولا کرنے والے ٹیننگ سیلون گئی تھی۔
اسی طرح جان کی والدہ کو بھیجی گئی بچے کے رونے کی آواز بھی حقیقی نہیں تھی۔ جین نے اعتراف کیا کہ اس نے پس منظر میں یوٹیوب کی ویڈیو چلائی تھی اور یہی تفصیل اس کہانی کے جھوٹے ہونے کا اہم ثبوت بن گئی۔
Woman told her partner she had sold their two children when she had never given birth https://t.co/zBjtWiSA6e
— Metro (@MetroUK) October 3, 2026
انتقام، پیسہ یا نفسیاتی مسئلہ؟
برطانوی ہائی کورٹ کی جج جسٹس جڈ نے 26 فروری 2026 کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بچوں کے موجود نہ ہونے کے شواہد کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
جج نے اسے مسلسل اور پیچیدہ دھوکے کی مہم قرار دیا، جس سے جان، اس کی والدہ اور دوست متاثر ہوئے۔
Woman exposed for faking TWO births to rob 'father' of £30,000 in child support https://t.co/gbZJ5mdvdv
— GB News (@GBNEWS) October 5, 2026
تاہم عدالت نے خاتون کے اصل مقصد کا حتمی تعین نہیں کیا۔ مالی فائدہ ایک ممکنہ وجہ قرار پایا، جبکہ خاتون کے پیچیدہ ذہنی صحت کے مسائل بھی اس کے رویے سے متعلق ہوسکتے تھے۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ ایک تلخ سوال چھوڑ گیا ہے کہ جس شخص نے برسوں بچوں کی تصویروں سے محبت کی، ان کے لیے رقم بھیجی اور ملاقات کے خواب دیکھے، وہ اس حقیقت کو کیسے قبول کرے کہ جن بچوں کا وہ باپ سمجھتا تھا، وہ کبھی دنیا میں آئے ہی نہیں؟