مصنوعی ذہانت نے رومانس فراڈ کو زیادہ تیز، منظم اور قابلِ یقین بنا دیا ہے۔
فراڈیئے جعلی چہروں، نقل شدہ آوازوں، جذباتی پیغامات اور فرضی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز کے ذریعے متاثرین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔
بعض فراڈ مراکز میں کام کرنے والے افراد خود بھی انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کا شکار ہوتے ہیں۔
جس خاتون کے نام سے سفیر بات کرتا تھا، وہ موجود ہی نہیں تھی۔
وہ ’ایلا‘ نامی 28 سالہ سنگاپوری خاتون بن کر ایک شفٹ میں 100 سے زیادہ افراد سے گفتگو کرتا۔
بھارت میں اسے تھائی لینڈ کی ملازمت کا جھانسہ ملا، مگر میانمار کے فراڈ مرکز پہنچا دیا گیا، جہاں دھمکی دے کر اسے دھوکا دہی پر مجبور کیا گیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس اور فرنٹ لائن کی تحقیق کے مطابق ایک ماہ میں سفیر کے اکاؤنٹس نے کم از کم 17 ملکوں کے تقریباً 50 ہزار افراد کو نشانہ بنایا۔
اس کی کہانی بتاتی ہے کہ رومانس فراڈ اب انفرادی جرم نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور منظم افرادی قوت سے چلنے والی صنعت ہے۔
مزید پڑھیں
اسلام آباد کا مشتبہ نیٹ ورک
13 اگست 2026 کو پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، نے اسلام آباد میں 114 غیر ملکیوں کی گرفتاری کا اعلان کیا:
111 چینی اور 3 ویت نامی شہری۔
ایجنسی کے مطابق ملزمان ایک رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنی سے مبینہ سائبر
رومانس اور جنسی بلیک میلنگ کا نیٹ ورک چلا رہے تھے۔
افراد کو تعلقات اور ویڈیو کالز میں پھنساکر مواد مالی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تحقیقات جاری ہیں، لہٰذا گرفتار افراد ملزم ہیں، مجرم ثابت نہیں ہوئے۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی ثابت نہیں، تاہم مقدمہ اس جرم کی سرحد پار نوعیت دکھاتا ہے۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTرومانس فراڈ — اہم نکات⌄
- ✓میانمار کے ایک فراڈ مرکز سے ایک ماہ میں کم از کم 17 ملکوں کے تقریباً 50 ہزار افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
- ✓’’ایلا‘‘ نامی جعلی خاتون بننے والا کارکن ایک شفٹ میں 100 سے زیادہ افراد سے گفتگو کرتا تھا۔
- ✓اسلام آباد کے مبینہ رومانس اور بلیک میلنگ نیٹ ورک سے متعلق 114 غیر ملکی گرفتار کیے گئے۔
- !مصنوعی ذہانت جعلی چہرے، نقل شدہ آوازیں، جذباتی پیغامات اور فرضی دستاویزات بنا سکتی ہے۔
- $امریکا میں 2025 کے دوران اعتماد اور رومانس فراڈ کا رپورٹ شدہ نقصان 929 ملین ڈالر رہا۔
- !اسلام آباد کے مخصوص نیٹ ورک میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ابھی ثابت نہیں ہوا۔
مصنوعی ذہانت نے کیا بدلا؟
پرانے فراڈ میں خراب زبان، چوری شدہ تصاویر اور تضادات شک پیدا کرتے تھے۔
اب مصنوعی ذہانت فرضی چہرے بنا، متاثرہ شخص کی زبان میں جواب دے اور گفتگو اس کے ردِعمل کے مطابق بدل سکتی ہے۔
آواز کی نقل، تبدیل شدہ ویڈیو اور جعلی دستاویزات بنانا بھی آسان ہوگیا ہے۔
امریکی ایف بی آئی کے انٹرنیٹ کرائم کمپلینٹ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ جنریٹو اے آئی بڑی تعداد میں جعلی پروفائلز، قابلِ یقین پیغامات، فوری ترجمے اور فرضی سرمایہ کاری پلیٹ فارم بنانے میں فراڈیوں کی مدد کر رہی ہے۔
محبت سے سرمایہ کاری تک
فراڈیا ابتدا میں رقم نہیں مانگتا۔
پیغامات، ہمدردی اور ملاقات کے وعدوں سے اعتماد بناتا ہے، پھر کرپٹو کرنسی یا کامیاب سرمایہ کاری سے منافع کی کہانی سناتا ہے۔
ہدف کو نامعلوم پلیٹ فارم پر معمولی رقم لگانے کو کہا جاتا ہے۔
بعض پلیٹ فارم پہلے چھوٹا منافع نکلوانے دیتے ہیں۔
بڑی رقم آنے پر اکاؤنٹ منجمد کرکے ٹیکس یا نئی فیس مانگی جاتی ہے۔
آخرکار تعلق، ویب سائٹ اور رقم غائب ہو جاتے ہیں۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXرومانس فراڈ: فیکٹ باکس⌄
- ممکنہ اہداف
- ایک ماہ میں تقریباً 50 ہزار
- معلوم دائرہ
- کم از کم 17 ممالک
- ایک شفٹ کی گفتگوئیں
- 100 سے زیادہ افراد
- اسلام آباد میں گرفتاریاں
- 114 غیر ملکی
- امریکی رومانس فراڈ نقصان
- 929 ملین ڈالر
- اے آئی کا ذکر رکھنے والی شکایات
- 22 ہزار سے زیادہ
- پاکستان میں 2024 کی سائبر شکایات
- ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ؛ مالی فراڈ کا حصہ 47 فیصد
نقصان اور جرم کے دو چہرے
آئی سی تھری کی 2025 رپورٹ کے مطابق امریکا میں اعتماد اور رومانس فراڈ سے رپورٹ شدہ نقصان 929 ملین ڈالر تھا۔
مصنوعی ذہانت کا ذکر رکھنے والی 22 ہزار سے زیادہ شکایات میں نقصان 893 ملین ڈالر سے بڑھ گیا۔
پاکستان میں 2024 کے دوران ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ سائبر شکایات موصول ہوئیں، جن میں مالی فراڈ 47 فیصد کے ساتھ سب سے بڑی قسم تھا۔
اسکرین کے پیچھے شخص ہمیشہ آزاد مجرم نہیں۔
انٹرپول کے مطابق مارچ 2025 تک 66 ملکوں کے شہریوں کو فراڈ مراکز میں اسمگل کیے جانے کے شواہد ملے۔
کئی افراد جعلی ملازمت سے پھنسائے اور دھوکا دہی پر مجبور کیے جاتے ہیں۔
یوں ایک شخص جمع پونجی کھوتا ہے، دوسرا جبری مشقت سہتا ہے۔
تاہم بعض کارکن دانستہ شریک بھی ہوتے ہیں۔
◎OVERSEAS POST | EXPAT GUIDEتارکین وطن خاص ہدف کیوں؟⌄
فراڈیے تارکین وطن کی مالی اور جذباتی صورتِ حال کو اعتماد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں:
تارکین وطن کیوں نشانہ بنتے ہیں؟
تارکین وطن مستقل آمدن رکھتے، ڈیجیٹل ترسیلات کرتے اور خاندان سے دور رہتے ہیں۔
تنہائی یا شادی کی خواہش انہیں آن لائن تعلق کی طرف لے جا سکتی ہے۔
فراڈیے مشترک زبان، قومیت یا خلیجی رہائش کا دعویٰ کرکے اعتماد بڑھاتے ہیں۔
تعلیم یافتہ افراد بھی پھنس سکتے ہیں، کیونکہ یہ کئی ہفتوں کی نفسیاتی حکمت عملی ہے۔
تحفظ اور رپورٹنگ
تصویر کو ریورس امیج سرچ سے جانچیں، براہِ راست ویڈیو کال کریں اور شناخت کی آزادانہ تصدیق کریں۔
فوری محبت، ملاقات سے انکار، خفیہ سرمایہ کاری، کرپٹو ادائیگی اور نئی فیس خطرے کی علامات ہیں۔
صرف آن لائن ملنے والے شخص کو رقم، شناختی دستاویز، بینک معلومات یا تصدیقی کوڈ نہ دیں۔
✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟⌄
مصدقہ معلومات
- سفیر محمد کو جعلی ملازمت کے بعد میانمار کے فراڈ مرکز پہنچایا گیا تھا۔
- اس کے اکاؤنٹس نے ایک ماہ میں تقریباً 50 ہزار افراد کو نشانہ بنایا۔
- اسلام آباد میں 111 چینی اور تین ویت نامی شہری گرفتار ہوئے۔
- اے آئی جعلی پروفائلز، ترجمے اور پیغامات بڑے پیمانے پر تیار کر سکتی ہے۔
تاحال غیر ثابت یا غیر واضح
- اسلام آباد کے مخصوص نیٹ ورک میں اے آئی کا استعمال ثابت نہیں ہوا۔
- گرفتار افراد عدالت سے مجرم قرار نہیں دیے گئے؛ تحقیقات جاری ہیں۔
- ہر فراڈ مرکز کا کارکن انسانی اسمگلنگ کا شکار نہیں ہوتا۔
- عالمی مالی نقصان اصل نقصان سے کم رپورٹ ہوسکتا ہے، کیونکہ کئی متاثرین شکایت نہیں کرتے۔
ادارتی احتیاط: زیرِ تفتیش افراد کو “ملزم” یا “مشتبہ” لکھیں، مجرم نہیں۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق دعویٰ صرف وہاں کریں جہاں ثبوت یا معتبر ذریعہ موجود ہو۔
فراڈ ہو جائے تو فوراً بینک سے منتقلی روکنے کی درخواست کریں، اور پیغامات، نمبرز، رسیدیں اور ڈیجیٹل والٹ پتے محفوظ کریں۔
پاکستان میں این سی سی آئی اے پورٹل یا ہیلپ لائن 1799 پر شکایت کی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب میں مالی فراڈ ابشر، جبکہ بلیک میلنگ، نقالی اور رازداری کی خلاف ورزی ’کلنا امن‘ کے ذریعے رپورٹ کی جا سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت آج چہرہ، آواز اور پوری محبت کی کہانی بنا سکتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ سامنے والا کتنا حقیقی دکھائی دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس کی شناخت آزاد ذرائع سے ثابت کی جا سکتی ہے؟
↗OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع⌄
رپورٹ میں زیرِ تفتیش افراد کو ملزم کہا گیا ہے؛ اسلام آباد کیس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ثابت نہیں ہوا۔