مقبوضہ بیت المقدس محض ایک شہر نہیں، بلکہ فلسطینی شناخت، مذہبی عقیدے اور مشرق وسطیٰ کی سیاست کا ایسا مرکز ہے جس کی حیثیت پر دہائیوں سے اختلاف جاری ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے شروع ہونے والا یہ معاملہ اب مزید ممالک تک پھیل چکا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر چند ریاستیں ایسا کرکے کیا پیغام دینا چاہتی ہیں اور اس فیصلے کے فلسطینیوں کے لیے کیا معنی ہیں؟
ایک فیصلے نے عالمی سیاست کا رخ کیسے بدلا؟
امریکہ نے دسمبر 2017ء میں فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس کو
اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور 14 مئی 2018 کو اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے منتقل کردیا۔
یہ قدم اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر اٹھایا گیا تھا ، جسے واشنگٹن کی کئی دہائیوں پر محیط پالیسی میں بڑی تبدیلی کے طور پر سمجھا گیا۔
🏛️
بیت المقدس میں سفارت خانے منتقل کرنے والے 10 ممالک
+
مئی 2018 میں واشنگٹن کی جانب سے تل ابیب سے سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد اب تک مجموعی طور پر 10 ریاستوں نے عالمی اتفاقِ رائے کے برعکس اپنے سفارتی مشنز یہاں منتقل کیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی بدل کر شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت مانا اور مئی 2018 میں باضابطہ سفارت خانہ کھولا۔
امریکی اقدام کے محض دو دن بعد لاطینی امریکا کی اس ریاست نے واشنگٹن کی پیروی کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا۔
پہلے 2018 میں منتقلی کے بعد حکومت بدلنے پر فیصلہ واپس لیا، تاہم دسمبر 2024 میں دوبارہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ فعال کر دیا۔
جون 2021 میں دوطرفہ سیکیورٹی اور زرعی تعاون کے بدلے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
مسلم اکثریتی یورپی ریاست نے واشنگٹن معاہدے کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ ہی مقبوضہ بیت المقدس میں مشن قائم کیا۔
بحرالکاہل کے اس ملک نے ستمبر 2023 میں مذہبی وابستگی اور اقتصادی امداد کے پس منظر میں اپنا سفارت خانہ یہاں کھولا۔
اوشینیا کی جزیرہ ریاست نے سال 2025 کے دوران اپنے سفارتی تعلقات کی ترجیحات بدلتے ہوئے تل ابیب سے مشن منتقل کیا۔
بحرالکاہل کی چھوٹی ریاست نے 2026ء میں باضابطہ سفارتی دفتر کو مکمل سفارت خانے کا درجہ دے کر بیت المقدس میں قائم کیا۔
غیر تسلیم شدہ خود مختار خطے نے اسرائیلی سفارتی شناخت حاصل کرنے کے بعد جون 2026ء میں مقبوضہ شہر میں سفارتی مشن کھولا۔
14 اکتوبر 2026 کو نئی حکومت نے غزہ جنگ کے دوران منقطع تعلقات نہ صرف بحال کیے بلکہ سفارت خانہ بھی بیت المقدس منتقل کیا۔
اس فیصلے کے بعد گوئٹے مالا نے بھی مئی 2018 ہی میں اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردیا۔
پھر پیراگوئے نے بھی ایسا کیا، لیکن چند ماہ بعد اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے سفارت خانہ تل ابیب منتقل کردیا۔
دسمبر 2024 میں اس نے دوبارہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ قائم کردیا۔
اس کے بعد ہونڈوراس اور کوسوو نے 2021 میں، پاپوا نیو گنی نے 2023 میں اور فجی نے 2025 میں اپنے سفارت خانے وہاں قائم کرلیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2026 میں ناورو، صومالی لینڈ اور کولمبیا نے بھی یہی قدم اٹھایا، جس کے بعد اس فہرست میں شامل ناموں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔
یروشلم میں سفارت خانے: متنازع منتقلی اور عالمی سفارت
بین الاقوامی قراردادوں اور عوامی مخالفت کے باوجود چند ریاستوں کے غیر معمولی سفارتی اقدامات
مجموعی منتقلی کا عدد 🏛️
10امریکا کے بعد اب تک کولمبیا سمیت دنیا کی کل 10 ریاستوں نے تل ابیب کے بجائے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانے قائم کیے ہیں۔
مسلم اکثریتی ملک کا قدم 📍
2021کوسوو نے یورپی یونین کے باضابطہ تحفظات کو نظرانداز کر کے سفارت خانہ کھولا اور ایسا کرنے والی پہلی مسلم اکثریتی ریاست بنی۔
غیر تسلیم شدہ خطے کا سودا 🤝
1991صومالی لینڈ نے عالمی برادری سے تسلیم شدگی حاصل کرنے کے مقصد کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی شراکت قائم کی۔
عالمی اتفاق اور مخالفت ⚖️
478سلامتی کونسل کی قرارداد 478 کے تحت دنیا کی بھاری اکثریت مقبوضہ شہر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدام کی شدید ناقد ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
مسلم اکثریتی کوسوو اور غیر تسلیم شدہ صومالی لینڈ
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سفارت خانہ منتقل کرنے والوں میں مسلم اکثریتی آبادی رکھنے والا کوسوو بھی شامل ہے۔
اس نے 2021 میں مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا تو یورپی یونین نے اس فیصلے پر افسوس ظاہر کیا، کیونکہ یہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت سے متعلق یورپی مؤقف سے مختلف تھا۔
صومالی لینڈ کا معاملہ اس سے بھی مختلف ہے۔ یہ خطہ 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کے بعد خود کو آزاد ریاست قرار دیتا رہا، لیکن اسے بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
اسرائیل نے دسمبر 2025 میں اسے تسلیم کیا، جس کے بعد جون 2026 میں صومالی لینڈ نے بھی مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولا۔
اس غیر معمولی فیصلے کے بعد عرب اور مسلم حلقوں میں بھی شدید تنقید سامنے آئی۔
🌐
اسرائیل کی حمایت یا عالمی سیاست کا نیا کھیل؟
سفارتی محرکات
• امریکی خوشنودی اور معاشی مراعات: بیشتر لاطینی اور بحرالکاہل کی ریاستوں نے واشنگٹن سے تجارتی امداد، قرضوں اور فوجی معاونت کے حصول کے لیے یہ علامتی فیصلہ کیا۔
• خود مختاری کی شناخت کا سودا: صومالی لینڈ جیسی بین الاقوامی طور پر غیر تسلیم شدہ اکائی نے تل ابیب سے اپنی آزادی تسلیم کروانے کے بدلے سفارت خانہ کھولا۔
• قبضے کو قانونی حیثیت دلانے کی کوشش: تل ابیب ان سفارت خانوں کو بنیاد بنا کر دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس پر اس کا کنٹرول عالمی سطح پر قبول کیا جا رہا ہے۔
• اندرونی سیاست اور تنہائی توڑنا: غزہ جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مخالفت کے دوران نئے سفارت خانوں کے افتتاح کو ملکی ووٹرز کے سامنے سفارتی فتح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
کولمبیا کا فیصلہ اور غزہ جنگ سے جڑا تنازع
اس فہرست میں تازہ ترین اضافہ کولمبیا ہے، جس نے 14 اکتوبر 2026 کو مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولا۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ کولمبیا کے سابق صدر گستاوو پیٹرو نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مئی 2024 میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔
بحضور وزيري الخارجيتين الإسرائيلية والكولومبية.. لحظة افتتاح السفارة الكولومبية في القدس المحتلة بعد وصول الرئيس الجديد أبيلاردو دي لا إسبريلا الموالي للاحتلال إلى السلطة #فيديو https://t.co/1i29LSbZGy
— الجزيرة فلسطين (@AJA_Palestine) October 14, 2026
تاہم نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریلا کی حکومت نے اسرائیل سے تعلقات بحال کیے اور دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ بھی دوبارہ فعال کردیا۔
اسرائیلی حکام نے سفارت خانے کے افتتاح کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
دوسری جانب فلسطینی حکام نے کولمبیا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قراردادوں اور بیت المقدس کی قانونی حیثیت سے متعلق عالمی اتفاق رائے کے خلاف قرار دیا۔
اسی طرح اُردن نے بھی اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
فلسطینیوں کے لیے اس فیصلے کے کیا معنی ہیں؟
▼
فلسطینی قوم مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا لازمی دارالحکومت مانتی ہے؛ غیر ملکی سفارت خانوں کی منتقلی ان کے تاریخی وجود اور خود ارادیت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کو ایسی سفارتی چالوں سے اخلاقی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔
مقدس شہر کی حتمی حیثیت مذاکرات کے ذریعے طے کیے بغیر ایسے یکطرفہ اقدامات خطے میں انتہا پسندی، مایوسی اور مستقل تنازع کو مزید ہوا دیتے ہیں۔
عالمی اکثریت سفارت خانے تل ابیب میں کیوں رکھتی ہے؟
مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل فلسطین تنازع کے بنیادی اور سب سے حساس معاملات میں شامل ہے۔
اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کیا اور بعد میں اسے اپنے ساتھ ضم کرلیا، لیکن عالمی برادری کی بھاری اکثریت نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 478 اور جنرل اسمبلی کی دسمبر 2017 کی قرارداد بھی مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کے خلاف عالمی مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں۔
اسی وجہ سے بیشتر ممالک اپنے سفارت خانے تل ابیب میں رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شہر کی حتمی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے ہونی چاہیے۔
⚖️
بیت المقدس پر دنیا کیوں دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے؟
◀
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 478 اور جنرل اسمبلی کی دسمبر 2017 کی قرارداد واضح طور پر مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی و تاریخی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ممانعت کرتی ہے۔
یورپی یونین، چین، روس، اسلامی ممالک اور دنیا کی بھاری اکثریت اپنے سفارت خانے تل ابیب میں رکھتی ہے اور ان کا اصرار ہے کہ شہر کا تصفیہ دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دوسری جانب امریکا اور اس کے زیرِ اثر چند چھوٹی ریاستوں نے عالمی قانونی اجماع کو نظرانداز کر کے سفارت خانے منتقل کیے ہیں، جسے دنیا متنازع اور امن کے منافی تصور کرتی ہے۔
کیا اس طرح فلسطین کا مستقبل بدل جائے گا؟
مبصرین کے مطابق سفارت خانہ کسی شہر میں قائم کرنا محض انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ دوسرے ملک کی سیاسی ترجیحات اور سفارتی تعلقات کے بارے میں بھی واضح پیغام بھی دیتا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے میں یہ پیغام خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس شہر کی حیثیت کا تعلق فلسطینی خودمختاری، اسرائیل کے غاصبانہ دعووں اور مستقبل کے امن معاہدے سے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ابھی تک صرف چند ممالک نے یہ قدم اٹھایا ہے، جبکہ عالمی برادری کی اکثریت اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہے۔
اسی لیے سفارت خانوں کی منتقلی کو اسرائیل کی پوزیشن کے حق میں سفارتی حمایت تو سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اسے فلسطینیوں کے مستقبل یا مقبوضہ بیت المقدس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا اسرائیل کی صرف سفارتی حمایت مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ کھول سکتی ہے، یا ان متنازع اقدامات سے مقبوضہ بیت المقدس جیسے حساس معاملے پر اختلافات مزید گہرے ہوں گے؟
اس سوال کا جواب بالآخر اسرائیل فلسطین تنازع کے منصفانہ اور قابل قبول حل سے جڑا ہوا ہے۔