براہ راست نشریات

مسلم اکثریتی سمیت کون سے 10 ممالک اسرائیل کے ساتھ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مقبوضہ بیت المقدس میں غیر ملکی سفارت خانوں کی عمارت اور اسرائیلی پرچم
امریکا نے دسمبر 2017 میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا

مقبوضہ بیت المقدس محض ایک شہر نہیں، بلکہ فلسطینی شناخت، مذہبی عقیدے اور مشرق وسطیٰ کی سیاست کا ایسا مرکز ہے جس کی حیثیت پر دہائیوں سے اختلاف جاری ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے شروع ہونے والا یہ معاملہ اب مزید ممالک تک پھیل چکا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر چند ریاستیں ایسا کرکے کیا پیغام دینا چاہتی ہیں اور اس فیصلے کے فلسطینیوں کے لیے کیا معنی ہیں؟

ایک فیصلے نے عالمی سیاست کا رخ کیسے بدلا؟

امریکہ نے دسمبر 2017ء میں فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس کو 

اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور 14 مئی 2018 کو اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے منتقل کردیا۔

یہ قدم اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر اٹھایا گیا تھا ، جسے واشنگٹن کی کئی دہائیوں پر محیط پالیسی میں بڑی تبدیلی کے طور پر سمجھا گیا۔

🏛️ بیت المقدس میں سفارت خانے منتقل کرنے والے 10 ممالک
+
امریکی فیصلے سے شروع ہونے والا متنازع سلسلہ

مئی 2018 میں واشنگٹن کی جانب سے تل ابیب سے سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد اب تک مجموعی طور پر 10 ریاستوں نے عالمی اتفاقِ رائے کے برعکس اپنے سفارتی مشنز یہاں منتقل کیے ہیں۔

امریکا کا پرچم
1۔ امریکا (2018)

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی بدل کر شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت مانا اور مئی 2018 میں باضابطہ سفارت خانہ کھولا۔

گوئٹے مالا کا پرچم
2۔ گوئٹے مالا (2018)

امریکی اقدام کے محض دو دن بعد لاطینی امریکا کی اس ریاست نے واشنگٹن کی پیروی کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا۔

پیراگوئے کا پرچم
3۔ پیراگوئے (2018 / 2024)

پہلے 2018 میں منتقلی کے بعد حکومت بدلنے پر فیصلہ واپس لیا، تاہم دسمبر 2024 میں دوبارہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ فعال کر دیا۔

ہونڈوراس کا پرچم
4۔ ہونڈوراس (2021)

جون 2021 میں دوطرفہ سیکیورٹی اور زرعی تعاون کے بدلے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

کوسوو کا پرچم
5۔ کوسوو (2021)

مسلم اکثریتی یورپی ریاست نے واشنگٹن معاہدے کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ ہی مقبوضہ بیت المقدس میں مشن قائم کیا۔

پاپوا نیو گنی کا پرچم
6۔ پاپوا نیو گنی (2023)

بحرالکاہل کے اس ملک نے ستمبر 2023 میں مذہبی وابستگی اور اقتصادی امداد کے پس منظر میں اپنا سفارت خانہ یہاں کھولا۔

فجی کا پرچم
7۔ فجی (2025)

اوشینیا کی جزیرہ ریاست نے سال 2025 کے دوران اپنے سفارتی تعلقات کی ترجیحات بدلتے ہوئے تل ابیب سے مشن منتقل کیا۔

ناورو کا پرچم
8۔ ناورو (2026)

بحرالکاہل کی چھوٹی ریاست نے 2026ء میں باضابطہ سفارتی دفتر کو مکمل سفارت خانے کا درجہ دے کر بیت المقدس میں قائم کیا۔

9۔ صومالی لینڈ (2026)

غیر تسلیم شدہ خود مختار خطے نے اسرائیلی سفارتی شناخت حاصل کرنے کے بعد جون 2026ء میں مقبوضہ شہر میں سفارتی مشن کھولا۔

کولمبیا کا پرچم
10۔ کولمبیا (2026)

14 اکتوبر 2026 کو نئی حکومت نے غزہ جنگ کے دوران منقطع تعلقات نہ صرف بحال کیے بلکہ سفارت خانہ بھی بیت المقدس منتقل کیا۔

اس فیصلے کے بعد گوئٹے مالا نے بھی مئی 2018 ہی میں اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردیا۔

پھر پیراگوئے نے بھی ایسا کیا، لیکن چند ماہ بعد اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے سفارت خانہ تل ابیب منتقل کردیا۔

دسمبر 2024 میں اس نے دوبارہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ قائم کردیا۔

اس کے بعد ہونڈوراس اور کوسوو نے 2021 میں، پاپوا نیو گنی نے 2023 میں اور فجی نے 2025 میں اپنے سفارت خانے وہاں قائم کرلیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2026 میں ناورو، صومالی لینڈ اور کولمبیا نے بھی یہی قدم اٹھایا، جس کے بعد اس فہرست میں شامل ناموں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔

لوگو

یروشلم میں سفارت خانے: متنازع منتقلی اور عالمی سفارت

بین الاقوامی قراردادوں اور عوامی مخالفت کے باوجود چند ریاستوں کے غیر معمولی سفارتی اقدامات

عالمی برادری کی اکثریت اور اقوام متحدہ کے مؤقف کے برعکس چند ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانے منتقل کر کے یکطرفہ پیش رفت کی۔

مجموعی منتقلی کا عدد 🏛️

10

امریکا کے بعد اب تک کولمبیا سمیت دنیا کی کل 10 ریاستوں نے تل ابیب کے بجائے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانے قائم کیے ہیں۔

مسلم اکثریتی ملک کا قدم 📍

2021

کوسوو نے یورپی یونین کے باضابطہ تحفظات کو نظرانداز کر کے سفارت خانہ کھولا اور ایسا کرنے والی پہلی مسلم اکثریتی ریاست بنی۔

غیر تسلیم شدہ خطے کا سودا 🤝

1991

صومالی لینڈ نے عالمی برادری سے تسلیم شدگی حاصل کرنے کے مقصد کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی شراکت قائم کی۔

عالمی اتفاق اور مخالفت ⚖️

478

سلامتی کونسل کی قرارداد 478 کے تحت دنیا کی بھاری اکثریت مقبوضہ شہر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدام کی شدید ناقد ہے۔

اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم

مسلم اکثریتی کوسوو اور غیر تسلیم شدہ صومالی لینڈ

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سفارت خانہ منتقل کرنے والوں میں مسلم اکثریتی آبادی رکھنے والا کوسوو بھی شامل ہے۔

اس نے 2021 میں مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا تو یورپی یونین نے اس فیصلے پر افسوس ظاہر کیا، کیونکہ یہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت سے متعلق یورپی مؤقف سے مختلف تھا۔ 

صومالی لینڈ کا معاملہ اس سے بھی مختلف ہے۔ یہ خطہ 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کے بعد خود کو آزاد ریاست قرار دیتا رہا، لیکن اسے بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

اسرائیل نے دسمبر 2025 میں اسے تسلیم کیا، جس کے بعد جون 2026 میں صومالی لینڈ نے بھی مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولا۔

اس غیر معمولی فیصلے کے بعد عرب اور مسلم حلقوں میں بھی شدید تنقید سامنے آئی۔

🌐 اسرائیل کی حمایت یا عالمی سیاست کا نیا کھیل؟
سفارتی محرکات
🎯
چھوٹی ریاستوں کے عملی مفادات

• امریکی خوشنودی اور معاشی مراعات: بیشتر لاطینی اور بحرالکاہل کی ریاستوں نے واشنگٹن سے تجارتی امداد، قرضوں اور فوجی معاونت کے حصول کے لیے یہ علامتی فیصلہ کیا۔

• خود مختاری کی شناخت کا سودا: صومالی لینڈ جیسی بین الاقوامی طور پر غیر تسلیم شدہ اکائی نے تل ابیب سے اپنی آزادی تسلیم کروانے کے بدلے سفارت خانہ کھولا۔

🏛️
اسرائیل کا اسٹریٹجک بیانیہ

• قبضے کو قانونی حیثیت دلانے کی کوشش: تل ابیب ان سفارت خانوں کو بنیاد بنا کر دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس پر اس کا کنٹرول عالمی سطح پر قبول کیا جا رہا ہے۔

• اندرونی سیاست اور تنہائی توڑنا: غزہ جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مخالفت کے دوران نئے سفارت خانوں کے افتتاح کو ملکی ووٹرز کے سامنے سفارتی فتح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

کولمبیا کا فیصلہ اور غزہ جنگ سے جڑا تنازع

اس فہرست میں تازہ ترین اضافہ کولمبیا ہے، جس نے 14 اکتوبر 2026 کو مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولا۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ کولمبیا کے سابق صدر گستاوو پیٹرو نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مئی 2024 میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔

تاہم نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریلا کی حکومت نے اسرائیل سے تعلقات بحال کیے اور دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ بھی دوبارہ فعال کردیا۔

اسرائیلی حکام نے سفارت خانے کے افتتاح کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔

دوسری جانب فلسطینی حکام نے کولمبیا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قراردادوں اور بیت المقدس کی قانونی حیثیت سے متعلق عالمی اتفاق رائے کے خلاف قرار دیا۔

اسی طرح اُردن نے بھی اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 

فلسطین کا پرچم فلسطینیوں کے لیے اس فیصلے کے کیا معنی ہیں؟
▼
1
تاریخی شناخت اور قومی حق پر براہِ راست ضرب

فلسطینی قوم مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا لازمی دارالحکومت مانتی ہے؛ غیر ملکی سفارت خانوں کی منتقلی ان کے تاریخی وجود اور خود ارادیت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

2
یکطرفہ قبضے کی بین الاقوامی توثیق کا خدشہ

1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کو ایسی سفارتی چالوں سے اخلاقی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔

3
دو ریاستی حل اور پائیدار امن کے امکانات کا خاتمہ

مقدس شہر کی حتمی حیثیت مذاکرات کے ذریعے طے کیے بغیر ایسے یکطرفہ اقدامات خطے میں انتہا پسندی، مایوسی اور مستقل تنازع کو مزید ہوا دیتے ہیں۔

عالمی اکثریت سفارت خانے تل ابیب میں کیوں رکھتی ہے؟

مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل فلسطین تنازع کے بنیادی اور سب سے حساس معاملات میں شامل ہے۔

اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کیا اور بعد میں اسے اپنے ساتھ ضم کرلیا، لیکن عالمی برادری کی بھاری اکثریت نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 478 اور جنرل اسمبلی کی دسمبر 2017 کی قرارداد بھی مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کے خلاف عالمی مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں۔ 

اسی وجہ سے بیشتر ممالک اپنے سفارت خانے تل ابیب میں رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شہر کی حتمی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے ہونی چاہیے۔

⚖️ بیت المقدس پر دنیا کیوں دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے؟
◀
بین الاقوامی قانون بمقابلہ یکطرفہ سفارتی اقدامات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 478 اور جنرل اسمبلی کی دسمبر 2017 کی قرارداد واضح طور پر مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی و تاریخی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ممانعت کرتی ہے۔

عالمی اکثریت کا تل ابیب میں قیام

یورپی یونین، چین، روس، اسلامی ممالک اور دنیا کی بھاری اکثریت اپنے سفارت خانے تل ابیب میں رکھتی ہے اور ان کا اصرار ہے کہ شہر کا تصفیہ دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

10 ممالک کی اقلیتی صف بندی

دوسری جانب امریکا اور اس کے زیرِ اثر چند چھوٹی ریاستوں نے عالمی قانونی اجماع کو نظرانداز کر کے سفارت خانے منتقل کیے ہیں، جسے دنیا متنازع اور امن کے منافی تصور کرتی ہے۔

کیا اس طرح فلسطین کا مستقبل بدل جائے گا؟

مبصرین کے مطابق سفارت خانہ کسی شہر میں قائم کرنا محض انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ دوسرے ملک کی سیاسی ترجیحات اور سفارتی تعلقات کے بارے میں بھی واضح پیغام بھی دیتا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے میں یہ پیغام خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس شہر کی حیثیت کا تعلق فلسطینی خودمختاری، اسرائیل کے غاصبانہ دعووں اور مستقبل کے امن معاہدے سے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ابھی تک صرف چند ممالک نے یہ قدم اٹھایا ہے، جبکہ عالمی برادری کی اکثریت اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہے۔

←
اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

اسی لیے سفارت خانوں کی منتقلی کو اسرائیل کی پوزیشن کے حق میں سفارتی حمایت تو سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اسے فلسطینیوں کے مستقبل یا مقبوضہ بیت المقدس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اصل سوال یہی ہے کہ کیا اسرائیل کی صرف سفارتی حمایت مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ کھول سکتی ہے، یا ان متنازع اقدامات سے مقبوضہ بیت المقدس جیسے حساس معاملے پر اختلافات مزید گہرے ہوں گے؟

اس سوال کا جواب بالآخر اسرائیل فلسطین تنازع کے منصفانہ اور قابل قبول حل سے جڑا ہوا ہے۔

📚 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES 🗺️ بیت المقدس میں سفارت خانے، کولمبیا کا تازہ فیصلہ اور فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد 4 بنیادی ذرائع
📰 تازہ خبر اور بین الاقوامی رپورٹنگ
🌐 روئٹرز — کولمبیا کا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل 14 اکتوبر 2026 کی رپورٹ، جس میں کولمبیا کے سفارت خانے کے افتتاح، اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی بحالی اور نئے صدر کی پالیسی تبدیلی کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ تازہ بین الاقوامی خبر رپورٹ کھولیں ↗ 📺 الجزیرہ — فلسطینی ردعمل اور بیت المقدس کی متنازع حیثیت کولمبیا کے سفارت خانے کے افتتاح، فلسطینی اتھارٹی اور اردن کے ردعمل، اسرائیل کے دعوے اور مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف پر تازہ رپورٹ۔ تازہ خبر اور فلسطینی مؤقف رپورٹ کھولیں ↗
🏛️ سرکاری مؤقف اور بنیادی دستاویز
🇮🇱 اسرائیلی وزارت خارجہ — سفارت خانے کے افتتاح کا اعلامیہ 14 اکتوبر 2026 کا سرکاری اعلامیہ، جس میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر اور کولمبیا کے وزیر خارجہ کے بیانات اور اسے بیت المقدس میں دسواں سفارت خانہ قرار دینے کا مؤقف شامل ہے۔ اصل سرکاری ماخذ اعلامیہ کھولیں ↗ 🇺🇳 اقوام متحدہ — سلامتی کونسل کی قرارداد 478 20 اگست 1980 کی اصل قرارداد، جس میں بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے والے اسرائیلی اقدامات کو غیر مؤثر قرار دیا گیا اور رکن ممالک سے شہر میں قائم سفارتی مشن واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ بنیادی قانونی دستاویز قرارداد پڑھیں ↗
📝 ادارتی نوٹ: اس ویجیٹ میں تازہ واقعات کے لیے روئٹرز اور الجزیرہ، اسرائیلی حکومت کے مؤقف کے لیے سرکاری اعلامیہ اور بیت المقدس کی قانونی و سفارتی حیثیت کے لیے اقوام متحدہ کی اصل قرارداد شامل کی گئی ہے۔ سرکاری اعلامیہ متعلقہ حکومت کا مؤقف ہے، غیر جانب دار قانونی تشریح نہیں۔ by: overseaspost.net