عمرے کے سفر میں احرام پہننے اور نیت کرنے کا وقت بہت اہم ہے۔
پاکستان سے براہ راست جدہ جانے والے زائر کو میقات عبور کرنے سے پہلے حالتِ احرام میں داخل ہونا ہوتا ہے، جبکہ پہلے مدینہ جانے والے زائر مکہ روانگی کے وقت ذوالحلیفہ سے احرام باندھتے ہیں۔
میقات گزر جانے کے خطرے کے مقابلے میں بہتر ہے کہ زائر پوری تیاری پہلے مکمل کرلے۔
جہاز بہت تیزی سے سفر کرتا ہے اور چند منٹ میں میقات کا علاقہ عبور کرسکتا ہے۔
اس لیے احرام پہننے یا وضو وغیرہ کا کام میقات کے اعلان تک مؤخر کرنا مناسب نہیں۔
احرام پہلے پہنیں، ضروری تیاری مکمل رکھیں اور میقات کے قریب نیت کریں۔
اصل اصول یہ ہے کہ عمرے کی نیت رکھنے والا شخص میقات کو حالتِ احرام کے بغیر عبور نہ کرے۔
وزارت حج کے مطابق فضائی، زمینی یا سمندری راستے سے آنے والے زائر کے لیے بھی یہی اصول ہے۔
پاکستان سے آنے والے مرد زائر کے لیے ایک اضافی احرام بیگ میں رکھنا فائدہ مند ہے۔
پہنا ہوا احرام گندا ہوجائے یا کسی وجہ سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہو تو احرام کی چادریں بدلی جاسکتی ہیں۔
چادریں بدلنے سے حالتِ احرام ختم نہیں ہوتی۔اگر آپ کی پرواز پاکستان، جدہ، مکہ ہے تو: گھر یا پاکستانی ایئرپورٹ پر غسل اور تیاری کریں، مرد احرام کی چادریں پہن لیں، جہاز میں سوار ہوں، میقات کے اعلان سے پہلے تیار رہیں، میقات کے قریب نیت کریں، ’لبیک اللهم عمرة‘ کہیں، تلبیہ شروع کردیں۔
اگر سفر پاکستان، مدینہ پھر مکہ ہے تو: پاکستان سے عام لباس میں مدینہ جائیں، مدینہ میں قیام کریں، مکہ روانگی کے وقت ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔