براہ راست نشریات

فجر الیمن آپریشن: ذو باب پر قبضہ، باب المندب میں حوثیوں کا گھیراؤ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Yemen Bab al-Mandab Offensive

یمن میں ’فجر الیمن‘ آپریشن کے آغاز کے ساتھ باب المندب کا محاذ تیزی سے گرم ہوگیا ہے۔
حکومتی فورسز نے ذو باب پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے اور فوجی ذرائع کے مطابق فورسز اب المخا کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
اس پیش رفت کو یمن کی جنگ میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن پورے باب المندب پر مکمل حکومتی کنٹرول کا دعویٰ ابھی احتیاط سے لینے کی ضرورت ہے۔

یمن کی طویل جنگ ایک بار پھر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ 

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل اور انتہائی اہم آبی گزرگاہ باب المندب کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے ذو باب پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ فوجی ذرائع کے مطابق حکومتی فورسز اب شمال کی جانب المخا کی سمت پیش قدمی کر رہی ہیں۔

⚔️ فجر الیمن — نیا آپریشن کیا ہے؟

یمنی حکومت نے اس کارروائی کو محض ایک مقامی جنگ کے بجائے ریاستی عملداری بحال کرنے کی وسیع مہم قرار دیا ہے۔

اعلان کردہ اہداف میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی واپسی، سرکاری اداروں کی بحالی اور بالآخر صنعاء تک پیش قدمی شامل ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ’فجر الیمن‘ کے نام سے وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

حکومت کے مطابق اس مہم کا مقصد صرف چند علاقوں کو واپس لینا نہیں بلکہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ریاستی عملداری بحال کرنا اور بالآخر دارالحکومت صنعاء سمیت سرکاری اداروں کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں لانا ہے۔

مزید پڑھیں

ذو باب میں کیا ہوا؟

تازہ اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے باب المندب کے قریب ذو باب کے محاذ پر کئی سمتوں سے پیش قدمی کی۔ اس کارروائی میں یمنی فوج کے ساتھ العمالقہ اور درع الوطن فورسز بھی شریک ہیں، جنہیں مجموعی طور پر یہاں یمنی حکومتی فورسز کہا جاسکتا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید لڑائی کے بعد حکومتی فورسز نے 

ذو باب کے اہم علاقوں پر کنٹرول قائم کیا اور حوثیوں کی بعض دفاعی پوزیشنیں توڑ دیں۔

رائٹرز کو بھی فوجی ذرائع نے بتایا کہ حکومتی فورسز نے باب المندب کے علاقے میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف حملہ شروع کیا۔ 

📍 ذو باب میں کیا ہوا؟

حکومتی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد ذو باب کے اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق بعض دفاعی پوزیشنیں توڑی گئیں اور حوثیوں کی رسد کے راستوں پر دباؤ بڑھایا گیا۔

علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

دیگر اطلاعات کے مطابق لڑائی کے دوران فضائی مدد بھی فراہم کی گئی، جس کے بعد زمینی فورسز نے اپنی پیش قدمی تیز کردی۔

حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ذو باب کے بعض حصوں میں حوثیوں کی رسد کے راستے کاٹ دیے گئے ہیں اور علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

باب المندب پر مکمل کنٹرول؟

موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا باب المندب مکمل طور پر حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آگیا ہے؟

بعض یمنی فوجی ذرائع نے باب المندب کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کیے ہیں، تاہم دستیاب آزاد اطلاعات کی بنیاد پر ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پوری آبنائے باب المندب اور اس سے منسلک تمام ساحلی اور جزیراتی مقامات مکمل اور محفوظ طور پر حکومتی فورسز کے قبضے میں آچکے ہیں۔

🌊 باب المندب پر مکمل کنٹرول؟

ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا۔

ذو باب اور باب المندب کے اطراف حکومتی فورسز کی بڑی پیش رفت کی اطلاعات موجود ہیں، لیکن پوری آبنائے اور اس سے منسلک تمام ساحلی و جزیراتی مقامات پر مکمل اور محفوظ کنٹرول کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔

البتہ یہ واضح ہے کہ ذو باب اور اس کے اطراف حکومتی فورسز نے نمایاں پیش رفت کی ہے اور باب المندب کے قریب حوثیوں کی پوزیشن پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

فوجی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض حوثی جنگجو محاصرے میں آگئے جبکہ کچھ عناصر نے کشتیوں کے ذریعے علاقے سے نکلنے کی کوشش کی۔ 

حوثیوں کی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور محصور جنگجوؤں کی تعداد سے متعلق مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، لیکن ان کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔

اب المخا کی جانب پیش قدمی

ذو باب میں پیش رفت کے بعد توجہ اب المخا کی جانب منتقل ہوگئی ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق یمنی حکومتی فورسز شمال کی طرف بڑھ رہی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ساحلی شاہراہوں اور اہم فوجی مقامات پر حوثیوں کی رسد محدود کی جائے۔

🚩 اگلا ہدف — المخا؟

ذو باب کے بعد فوجی توجہ شمال کی جانب المخا پر مرکوز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اگر حکومتی فورسز ساحلی راستوں اور اہم فوجی مقامات پر اپنی پوزیشن مضبوط کرتی ہیں تو بحیرہ احمر کے محاذ پر طاقت کا توازن نمایاں طور پر بدل سکتا ہے۔

اگر حکومتی فورسز ذو باب میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کے ساتھ المخا کی سمت مزید پیش قدمی کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو بحیرہ احمر کے ساحلی محاذ پر طاقت کا توازن نمایاں طور پر تبدیل ہوسکتا ہے۔

تاہم کسی علاقے پر قبضہ کرنا اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنا دو مختلف مراحل ہیں۔ حوثی ماضی میں بھی جوابی حملوں، ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے رہے ہیں، اس لیے آنے والے دن یہ طے کرنے میں اہم ہوں گے کہ موجودہ پیش رفت مستقل تبدیلی میں بدلتی ہے یا لڑائی دوبارہ شدید ہوجاتی ہے۔

’’فجر الیمن‘‘ کا ہدف کیا ہے؟

باب المندب کی لڑائی کو الگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ یہ ’فجر الیمن‘ نامی بڑی فوجی مہم کے آغاز کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

رشاد العلیمی کے مطابق آپریشن کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی اور حوثیوں کے قبضے کا خاتمہ ہے۔ 

🚢 باب المندب دنیا کے لیے کیوں اہم؟

باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔

ایشیا سے نہر سویز کے ذریعے یورپ جانے والی بڑی بحری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔

یہاں عدم استحکام بڑھنے سے شپنگ، انشورنس، ایندھن اور عالمی سپلائی چین کی لاگت متاثر ہوسکتی ہے۔

سرکاری بیانات میں دارالحکومت صنعاء کی واپسی کو بھی مہم کے بڑے اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔

اس سے اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے مرحلے میں لڑائی صرف باب المندب یا تعز کے ساحلی علاقوں تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ دوسرے محاذ بھی متحرک ہوسکتے ہیں۔

یمنی حکومت کی فورسز نے حوثی صفوں میں موجود افراد سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل بھی کی ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ لڑائی چھوڑ کر ریاستی نظام کی طرف واپس آئیں گے، ان کے لیے راستہ موجود ہے۔

باب المندب دنیا کے لیے کیوں اہم ہے؟

باب المندب یمن کی جنگ میں صرف ایک فوجی مقام نہیں بلکہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس سمندری راستہ ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے اور اسی راستے سے گزرنے والے جہاز آگے نہر سویز کے ذریعے یورپ پہنچتے ہیں۔

اسی لیے یہاں ہونے والی لڑائی کا اثر صرف یمن تک محدود نہیں رہتا۔

⚠️ حوثیوں کے لیے خطرہ کہاں ہے؟

ذو باب میں حکومتی پیش رفت سے حوثیوں کی بعض ساحلی پوزیشنوں اور رسد پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

فوجی ذرائع نے بعض جنگجوؤں کے محاصرے اور علاقے سے نکلنے کی کوششوں کے دعوے بھی کیے ہیں، تاہم ان تفصیلات کی مکمل آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

اگر باب المندب میں بحری جہازوں کے لیے خطرات بڑھیں تو شپنگ کمپنیوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے سفر کا وقت، ایندھن کا خرچ، انشورنس اور سامان کی نقل و حمل کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔

تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے بھی یہ راستہ انتہائی اہم ہے، اس لیے باب المندب میں طاقت کے توازن میں کوئی بڑی تبدیلی عالمی منڈیوں کی توجہ فوراً اپنی جانب کھینچ سکتی ہے۔

اصل امتحان اب شروع ہوگا

ذو باب پر کنٹرول کا اعلان یمنی حکومتی فورسز کے لیے اہم فوجی کامیابی ہے، لیکن موجودہ جنگ کا حتمی رخ ابھی واضح نہیں۔

سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ فورسز حاصل کیے گئے علاقوں کو اپنے قبضے میں رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں یا نہیں۔ 

دوسرا اہم سوال یہ ہوگا کہ المخا کی جانب پیش قدمی کتنی تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور حوثیوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔

🔎 کیا تصدیق ہوئی، کیا نہیں؟

تصدیق شدہ: فجر الیمن آپریشن کا سرکاری اعلان، ذو باب کے محاذ پر شدید لڑائی اور حکومتی فورسز کی نمایاں پیش رفت۔

ابھی غیر حتمی: پورے باب المندب پر مکمل کنٹرول، محصور حوثی جنگجوؤں کی تعداد اور فریقین کے نقصانات سے متعلق تمام اعداد و شمار۔

فی الحال تصدیق شدہ تصویر یہ ہے کہ ’فجر الیمن‘ شروع ہوچکا ہے، ذو باب کے محاذ پر حکومتی فورسز نے بڑی پیش رفت کی ہے اور باب المندب کے اطراف لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

لیکن پورے باب المندب پر مکمل اور ناقابلِ واپسی کنٹرول کا دعویٰ ابھی احتیاط سے لینے کی ضرورت ہے۔

آنے والے چند دن واضح کریں گے کہ ذو باب کی یہ پیش رفت صرف ایک اہم فوجی کامیابی ہے یا یمن کی جنگ میں واقعی اس بڑے موڑ کا آغاز، جس کا ہدف بالآخر صنعاء تک پہنچنا ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

یمنی خبر رساں ادارہ سبأ — 5 اکتوبر 2026
یمنی مسلح افواج کی جانب سے باب المندب اور ذو باب ایئرپورٹ پر کنٹرول، فوجی کارروائی اور حوثی عناصر کے محاصرے سے متعلق سرکاری اعلان۔
اصل خبر کھولیں


Reuters — 4 اکتوبر 2026
یمنی حکومت کی وسیع فوجی مہم، رشاد العلیمی کے اعلان اور باب المندب کی جنگ کے پس منظر پر بین الاقوامی رپورٹ۔
اصل رپورٹ کھولیں


العربیہ — 5 اکتوبر 2026
ذو باب پر حکومتی فورسز کے کنٹرول اور المخا کی جانب پیش قدمی سے متعلق تازہ فوجی ذرائع کی تفصیلات۔
اصل خبر کھولیں


الجزیرہ — 5 اکتوبر 2026
ذو باب اور باب المندب کی فوجی و جغرافیائی اہمیت، حکومتی پیش رفت اور حوثیوں کی جانب سے اس پیش رفت کی تردید پر تفصیلی جائزہ۔
تفصیلی جائزہ کھولیں


Anadolu Agency — 5 اکتوبر 2026
ذو باب اور باب المندب کے اطراف حکومتی فورسز کی کارروائی، اہم مقامات اور رسد کے راستوں سے متعلق رپورٹ۔
اصل رپورٹ کھولیں