پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب تحریک طالبان پاکستان ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے پاکستان میں حملے کرتی ہے، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
ستمبر 2026 کی پاکستانی فضائی کارروائیوں اور بعد کی سرحدی جھڑپوں نے بحران کو نئی سطح تک پہنچا دیا۔
چین، سعودی عرب، ترکی اور قطر سمیت مختلف ممالک کشیدگی کم کرانے کی کوششوں سے منسلک رہے ہیں، لیکن بنیادی اختلاف بدستور برقرار ہے۔
افغان طالبان کے اگست 2021 میں کابل پر دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے وقت پاکستان میں یہ توقع موجود تھی کہ نئی افغان حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے، سرحدی کشیدگی کم ہوگی اور پاکستان مخالف مسلح گروہوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنا مشکل ہوجائے گا۔
5 سال بعد صورت حال تقریباً الٹ چکی ہے۔
ستمبر 2026 میں پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد فضائی کارروائیاں کیں، افغان طالبان نے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا، دونوں ملکوں کی فورسز سرحد پر آمنے سامنے آئیں اور سفارتی کوششوں کے باوجود بنیادی تنازع حل نہ ہوسکا۔
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کا بنیادی تنازع تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مسئلے سے جڑا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
ستمبر 2026 کی پاکستانی فضائی کارروائیوں اور سرحدی جھڑپوں نے کشیدگی کو ایک نئی سطح تک پہنچا دیا۔
اصل مسئلہ اب صرف سرحد نہیں بلکہ باہمی اعتماد کا بحران ہے۔
آج اصل سوال یہ ہے کہ کبھی قریب سمجھے جانے والے دونوں فریق اس مقام تک کیسے پہنچے جہاں فوجی طاقت سفارت کاری پر غالب آنے لگی ہے؟
ٹی ٹی پی — بحران کا مرکزی نقطہ
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سب سے بڑا اختلاف تحریک طالبان پاکستان، یعنی ٹی ٹی پی ہے۔
اسلام آباد طویل عرصے سے الزام لگاتا آیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہ افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور افغان طالبان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی سلامتی مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔
ستمبر میں پاکستان کے اندر ایک پولیس تنصیب پر مہلک حملے کے بعد صورت حال مزید خراب ہوئی۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان نے اس کے بعد افغانستان میں مسلح گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یہی اختلاف اب دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد کو متاثر کررہا ہے:
پاکستان کابل سے عملی کارروائی چاہتا ہے، جبکہ افغان طالبان پاکستانی الزامات اور ان کی نوعیت سے اتفاق نہیں کرتے۔
📌 اصل تنازع کیا ہے؟
پاکستان کا بنیادی مطالبہ ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف ایسی عملی کارروائی کریں جس کے نتائج قابلِ تصدیق ہوں۔
افغان طالبان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی سلامتی مسائل خود حل کرنے چاہئیں اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے۔
یہی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی اور اب عسکری تناؤ کا مرکزی سبب بن گیا ہے۔
21 ستمبر: کشیدگی کا نیا مرحلہ
21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں 3 اہداف پر فضائی حملے کیے اور کہا کہ کارروائی میں 28 شدت پسند اور خودکش حملہ آور مارے گئے۔
افغان طالبان نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی۔
کابل اور اقوام متحدہ کے افغانستان مشن کے مطابق حملوں میں شہری بھی مارے گئے، جبکہ پاکستان کا کہنا تھا کہ اس نے عسکریت پسند اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ کارروائی تقریباً 3 ماہ کی نسبتاً خاموشی ختم کرنے کا سبب بنی۔
24 ستمبر: 10 مقامات پر نئی کارروائی
صرف 3 دن بعد پاکستان نے افغانستان میں ایک اور بڑی فضائی اور ڈرون کارروائی کی۔
پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق 10 مقامات پر ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جنہیں اسلام آباد نے دہشت گردوں کے ٹھکانے، معاون ڈھانچے اور ڈرون سے متعلق تنصیبات قرار دیا۔
پاکستان نے کہا کہ یہ کارروائی مبینہ افغان ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
⚠️ 21 ستمبر — کشیدگی کا نیا مرحلہ
21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے اندر تین اہداف پر فضائی کارروائی کا اعلان کیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کارروائی میں شدت پسند اور خودکش حملہ آور نشانہ بنے، جبکہ افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کا بھی دعویٰ کیا۔
اس کارروائی نے کئی ماہ کی نسبتاً خاموشی ختم کردی اور تعلقات دوبارہ تیزی سے بگڑنے لگے۔
افغان طالبان نے یہ مؤقف مسترد کردیا۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستانی کارروائیوں میں قندھار، پکتیا اور خوست سمیت افغان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور کابل مناسب جواب دے گا۔
یہاں سے بحران محض ٹی ٹی پی کے معاملے سے نکل کر ریاست بمقابلہ ریاست عسکری کشیدگی کی شکل اختیار کرنے لگا۔
سرحد پر براہِ راست تصادم
فضائی کارروائیوں کے فوراً بعد سرحد پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دونوں طرف سے جانی نقصان کے دعوے ہوئے، تاہم کئی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے پر دونوں فریقوں کے بیانات کو دعووں کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
الجزیرہ کے مطابق حالیہ کشیدگی فروری 2026 کے بعد سب سے شدید دور میں داخل ہوئی، جب دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر جھڑپیں ہوئی تھیں۔
✈️ 24 ستمبر — دس مقامات پر نئی کارروائی
پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق 24 ستمبر کو افغانستان میں دس مقامات پر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
اسلام آباد نے کہا کہ کارروائی میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانے، معاون ڈھانچے اور ڈرون سے متعلق تنصیبات شامل تھیں۔
افغان طالبان نے پاکستانی مؤقف مسترد کرتے ہوئے کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
2021 کی امید کہاں ختم ہوئی؟
افغان طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان میں بعض حلقوں نے توقع کی تھی کہ کابل اور اسلام آباد کے تعلقات بہتر ہوں گے۔
لیکن جلد ہی 3 مسائل نمایاں ہوگئے۔
پہلا، ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں۔
دوسرا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن اور سرحدی باڑ کا اختلاف برقرار رہا۔
تیسرا، افغان طالبان نے واضح کیا کہ کابل اپنی خارجہ اور داخلی پالیسی میں اسلام آباد سے آزاد مؤقف رکھنا چاہتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جس تعلق سے پاکستان کو زیادہ سکیورٹی تعاون کی امید تھی، وہ رفتہ رفتہ عدم اعتماد میں بدل گیا۔
فروری 2026 — اہم موڑ
موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے فروری 2026 اہم ہے۔
اسی عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
بعد میں چین سمیت مختلف ممالک کی کوششوں سے مذاکرات ہوئے اور اپریل میں پاکستان اور افغانستان نے چین میں بات چیت بھی کی۔
🛡️ سرحد پر براہِ راست تصادم
فضائی کارروائیوں کے بعد پاک–افغان سرحد پر بھی فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے جانی نقصان کے دعوے کئے، تاہم کئی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔
یہ مرحلہ اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ تنازع اب صرف مسلح گروہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ریاستی فورسز بھی آمنے سامنے آگئیں۔
لیکن بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا۔
مذاکرات نے لڑائی کو وقتی طور پر روکا، مگر ٹی ٹی پی کے بارے میں پاکستان کے مطالبات اور کابل کے مؤقف کے درمیان فاصلہ برقرار رہا۔
چین اور خلیجی ممالک کیوں پریشان ہیں؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پورے خطے کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔
چین کو اپنے اقتصادی منصوبوں، سنکیانگ کی سلامتی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے تحفظ کی فکر ہے۔
🕰️ 2021 کی امید کہاں ختم ہوئی؟
2021 میں طالبان کی کابل واپسی کے بعد پاکستان میں بہتر تعلقات اور زیادہ سکیورٹی تعاون کی توقع کی گئی تھی۔
لیکن ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں ختم نہ ہوئیں، ڈیورنڈ لائن اور سرحدی باڑ کا اختلاف برقرار رہا، اور کابل نے اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ آزادی دکھائی۔
یوں ابتدائی توقعات بتدریج عدم اعتماد میں بدل گئیں۔
سعودی عرب، ترکی اور قطر بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں سے منسلک رہے ہیں۔
حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد یہ خدشہ بڑھا ہے کہ مسلسل فوجی تصادم ان ثالثی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے مسئلہ زیادہ بڑا کیوں ہے؟
اسلام آباد کے لیے یہ صرف خارجہ پالیسی کا تنازع نہیں بلکہ داخلی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
اگر پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملے جاری رہتے ہیں تو حکومت اور فوج پر سرحد پار کارروائیوں کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
لیکن ہر فضائی حملہ افغان ردعمل کے امکان کو بھی بڑھاتا ہے۔
🔎 ٹی ٹی پی اتنی اہم کیوں ہے؟
ٹی ٹی پی اور افغان طالبان الگ تنظیمیں ہیں، لیکن ان کے درمیان تاریخی، نظریاتی اور ذاتی روابط کا ذکر طویل عرصے سے ہوتا رہا ہے۔
پاکستان سمجھتا ہے کہ یہی روابط کابل کو ٹی ٹی پی کے خلاف سخت کارروائی سے روکتے ہیں۔
افغان طالبان اس مسئلے کو پاکستان کی داخلی سلامتی سے بھی جوڑتے ہیں، اسی لیے دونوں فریقوں کے بیانیے میں بنیادی فرق برقرار ہے۔
یوں ایک خطرناک چکر بن سکتا ہے:
پاکستان میں حملہ ← افغانستان میں پاکستانی کارروائی ← افغان ردعمل ← سرحدی جھڑپ ← نئی فوجی کارروائی
یہی موجودہ بحران کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
پہلا امکان یہ ہے کہ چین، سعودی عرب، ترکی یا قطر کی کوششوں سے دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آجائیں اور عارضی جنگ بندی ہوجائے۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ پاکستان افغانستان میں مبینہ عسکریت پسند اہداف پر محدود کارروائیاں جاری رکھے، جبکہ افغان طالبان سرحدی یا دوسرے فوجی ذرائع سے جواب دیتے رہیں۔
📍 فروری 2026 — اہم موڑ
فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپوں نے تعلقات کو ایک بڑے بحران میں دھکیل دیا تھا۔
بعد میں چین سمیت مختلف ممالک کی کوششوں سے مذاکرات ہوئے اور اپریل میں پاکستان و افغانستان نے چین میں بات چیت کی۔
مذاکرات نے کشیدگی وقتی طور پر کم کی، مگر ٹی ٹی پی سے متعلق بنیادی اختلاف حل نہیں ہوا۔
تیسرا اور زیادہ خطرناک منظرنامہ یہ ہوگا کہ کسی بڑے حملے یا بھاری جانی نقصان کے بعد دونوں ممالک کی باقاعدہ افواج وسیع پیمانے پر آمنے سامنے آجائیں۔
اصل مسئلہ سرحد نہیں، اعتماد ہے
پاکستان اور افغانستان تجارت، مہاجرین، قبائلی روابط اور مشترکہ سلامتی کے مسائل میں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہیں۔
دونوں ممالک طویل دشمنی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
لیکن موجودہ بحران نے واضح کردیا ہے کہ اصل مسئلہ صرف ٹی ٹی پی یا چند سرحدی چوکیوں کا نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔
🌐 چین اور خلیجی ممالک کیوں فکر مند ہیں؟
چین کو پاکستان میں سرمایہ کاری، علاقائی اقتصادی منصوبوں اور مغربی سرحدی سلامتی کے حوالے سے استحکام درکار ہے۔
سعودی عرب، قطر اور ترکی بھی پاکستان–افغانستان کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششوں سے منسلک رہے ہیں۔
اگر فوجی تصادم طویل ہوا تو پورے خطے کی تجارت، سلامتی اور رابطہ منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔
پاکستان یہ یقین چاہتا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
افغان طالبان یہ یقین چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کی سرزمین پر یکطرفہ فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا۔
جب تک دونوں فریق ان دو بنیادی نکات پر قابلِ عمل مفاہمت تک نہیں پہنچتے، وقتی جنگ بندی تو ممکن ہے، مگر بحران بار بار واپس آتا رہے گا۔
2021 میں جس تعلق سے نئی شراکت داری کی امید وابستہ کی گئی تھی، ستمبر 2026 میں وہ جنوبی ایشیا کے ایک سنگین سکیورٹی تنازع میں تبدیل ہوچکا ہے۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
Reuters — 21 September 2026:
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی اور شہری ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ۔
اصل خبر کھولیں
Al Jazeera — 24 September 2026:
دس مقامات پر پاکستانی فضائی و ڈرون کارروائی اور افغان ردعمل کی تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں
Al Jazeera — 2 April 2026:
چین میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں۔
اصل رپورٹ کھولیں