⏱️
افغانستان کا زرعی بحران: 60 سیکنڈ میں پوری خبر
+
افغانستان کا زرعی بحران: 60 سیکنڈ میں پوری خبر
80 فیصد افغان آبادی کا انحصار اور خوراک کی شدید قلت
1 کروڑ 38 لاکھ افراد غذائی دباؤ کا شکارلاکھوں پناہ گزینوں کی واپسی کا دباؤ
ایران اور پاکستان سے 59 لاکھ باشندے وطن لوٹ چکے ہیں جبکہ دسمبر 2026 تک مزید 27 لاکھ کی آمد متوقع ہے، جن کے لیے خشک سالی زدہ معیشت میں روزگار تلاش کرنا سب سے بڑی آزمائش ہے۔
روزگار کی فراہمی میں وسیع خلیج
اقوام متحدہ کے پاس اندراج کرانے والے 1 لاکھ 66 ہزار بے روزگار افغانوں میں سے فروری 2026 تک بمشکل 7 ہزار کو کام مل سکا، جس سے بحران کی شدت عیاں ہوتی ہے۔
یورپی یونین اور ایف اے او کا تجربہ
50 لاکھ یورو کے نئے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت 4 زرعی خدماتی مراکز، 2 ہزار ایکڑ جنگلات و چراگاہوں کی بحالی اور 250 نرسریوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور کم پانی والی فصلیں
قندھار میں ڈرپ اریگیشن کے ذریعے 60 فیصد پانی کی بچت اور ہرات میں 2500 ایکڑ پر پستے کے باغات روایتی کاشت کے مقابلے میں بقا کا نیا متبادل بن رہے ہیں۔
افغانستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بارش کم ہو رہی ہے یا کنوؤں کا پانی نیچے جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
بلکہ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے لاکھوں افغان باشندے آخر روزگار کہاں سے حاصل کریں گے؟
حیران کن طور پر اس سوال کا ایک ممکنہ جواب اسی خشک زمین میں چھپا ہے، جسے خود پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
آمدن کے لیے زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ ایف اے او کے مطابق 2026 میں تقریباً ایک کروڑ 38 لاکھ افراد کو شدید غذائی مشکلات کا سامنا رہا۔
لاکھوں افغانوں کی وطن واپسی نے خشک سالی کے شکار ملک میں زراعت کو بقا کا واحد راستہ بنا دیا ہے، جہاں جدید آبپاشی اور متبادل باغات روزگار کی نئی امید جگا رہے ہیں۔
افغانستان کی اسی فیصد آبادی خوراک اور آمدنی کے لیے زمین پر منحصر ہے، جبکہ ایک کروڑ سے زائد افراد غذائی تنگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
پڑوسی ملکوں سے تقریباً ساٹھ لاکھ افغان واپس لوٹ چکے ہیں، جنہیں فوری روزگار اور معاشی بحالی کے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
ڈرپ اریگیشن اور گرین ہاؤس ٹیکنالوجی کے ذریعے روایتی کاشت کے مقابلے میں ساٹھ فیصد تک قیمتی زیرزمین پانی بچایا جا سکتا ہے۔
ہرات سمیت خشک خطوں میں پستے کے باغات کو ترجیح دی جا رہی ہے جو کم پانی میں پروان چڑھ کر مستحکم آمدن کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
دوسری طرف افغانستان پر وطن واپسی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 سے مئی 2026 تک تقریباً 59 لاکھ افغان ایران اور پاکستان سے واپس آ چکے تھے، جبکہ اپریل سے دسمبر 2026 کے دوران مزید تقریباً 27 لاکھ افراد کی واپسی کا اندازہ لگایا گیا۔
اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے 52 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کا منصوبہ بھی بنایا۔
💧
پانی ختم ہوا تو کیا ہوگا؟ اصل خطرہ یہاں ہے
◆
پانی ختم ہوا تو کیا ہوگا؟ اصل خطرہ یہاں ہے
زیر زمین ایکویفرز کا تیزی سے خالی ہونا
افغانستان میں بارشوں کی قلت اور برف باری میں کمی نے قدرتی چشموں کو خشک کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد بے تحاشا گہرے کنوؤں کی کھدائی نے زیر زمین پانی کے ذخائر کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہو سکتی ہے۔
شمسی ٹیوب ویلوں کا بے دریغ استعمال
ناقابلِ واپسی نقصانغزنی کے زرعی ماہرین کے مطابق سولر پمپس بجلی کے بل کے بغیر سارا دن زیر زمین پانی کھینچتے ہیں، جس سے واٹر ٹیبل سالانہ کئی میٹر نیچے گر رہا ہے اور روایتی کاریز نظام دم توڑ رہا ہے۔
واٹر ہارویسٹنگ اور ڈرپ اریگیشن
ناگزیر حکمتِ عملیچھوٹے ڈیمز اور پانی ذخیرہ کرنے والے تالابوں کے بغیر بقا ممکن نہیں۔ قندھار کے زرعی گرین ہاؤسز نے ثابت کیا کہ جدید فوارہ اور قطرہ آبپاشی روایتی طریقوں کے مقابلے میں 60 فیصد پانی بچاتی ہے۔
ماحولیاتی انتباہ کا نچوڑ:
اگر زیر زمین پانی ختم ہوا تو پناہ گزینوں کی واپسی کا بحران ایک نئی اور ناقابلِ قابو اندرونی نقل مکانی میں تبدیل ہو جائے گا، جہاں زرخیز وادیاں بنجر ریگستان کا روپ دھار لیں گی۔
50 لاکھ یورو کا نیا تجربہ
اسی پس منظر میں یورپی یونین اور ایف اے او نے 50 لاکھ یورو کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد کسانوں، زرعی کاروباروں اور منڈی کو ایک ہی زنجیر میں جوڑنا ہے۔
منصوبے کے تحت 4 زرعی خدماتی مراکز قائم ہوں گے، تقریباً 2 ہزار ایکڑ تباہ شدہ جنگلات اور چراگاہیں بحال کی جائیں گی اور خواتین و مقامی برادریوں کے زیر انتظام 250 نرسریوں کی مدد کی جائے گی۔
UNHCR thanks the Government of Japan for the USD 2 million contribution supporting Afghan refugee returnees. This funding will help provide vital protection and assistance to families returning. We value Japan’s continued partnership and solidarity with the Afghan people. https://t.co/JWXTyyieef
— UNHCR Afghanistan (@UNHCRAfg) December 26, 2025
واپس آنے والے افغان، بے گھر خاندان، خواتین اور نوجوان اس منصوبے کے خاص ہدف ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس میں دیے گئے اعدادوشمار اس مسئلے کی شدت مزید واضح کرتے ہیں۔
روزگار کے خواہش مند ہنر مند اور غیر ہنر مند واپس آنے والوں میں ایک لاکھ 66 ہزار سے زیادہ افراد کا اندراج ہوا، مگر فروری 2026 تک تقریباً صرف 7 ہزار کو ملازمت مل سکی تھی۔ 6 ہزار 141 افراد کو فنی تربیت بھی دی گئی۔
💼
لاکھوں افغان واپس، مگر روزگار کہاں سے آئے گا؟
▼
لاکھوں افغان واپس، مگر روزگار کہاں سے آئے گا؟
1 لاکھ 66 ہزار اندراج کے مقابلے میں صرف 7 ہزار نوکریاں
اقوام متحدہ اور ریلیف اداروں کے پاس رجسٹرڈ ہونے والے ہنر مند اور غیر ہنر مند نوجوانوں کی بھاری اکثریت روزگار کے انتظار میں ہے۔ روایتی زراعت میں گنجائش نہ ہونے کے باعث متبادل ویلیو چینز کو فعال بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
🥜 پستہ اور کم پانی کے باغات
ہرات میں 2,500 ایکڑ پر لگائے گئے پستے کے باغات کی طرح خشک سالی کو برداشت کرنے والی نقد آور فصلیں کاشت کاروں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ رکھ کر منافع فراہم کر سکتی ہیں۔
📦 زرعی پروسیسنگ اور کولڈ چین
پھلوں کی چھانٹی، ڈرائینگ، پیکنگ، کولڈ اسٹوریج اور ٹرانسپورٹیشن وہ شعبے ہیں جہاں ایران و پاکستان سے صنعتی تجربہ لے کر لوٹنے والے ہنر مند افغان فوری کھپ سکتے ہیں۔
🥛 لائیو اسٹاک، ڈیری اور پولٹری
کھیتوں پر مکمل انحصار کے بجائے مویشی پالنا، گوشت و دودھ کی پیداوار اور پولٹری فارمنگ دیہی خاندانوں کو مستقل یومیہ آمدن دے کر غذائی قلت کا فوری سدباب کر سکتی ہے۔
🌱 کمیونٹی نرسریاں اور فیلڈ سینٹرز
ایف اے او کے تحت خواتین اور نوجوانوں کے زیر انتظام 250 نرسریوں اور 4 زرعی خدماتی مراکز سے بیج، کھاد اور تکنیکی رہنمائی کے ذریعے مائیکرو کاروبار پنپ رہے ہیں۔
اصل بحران پانی کا ہے
روزگار کا یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ افغانستان میں خشک سالی، کم ہوتی برف باری، زیرزمین پانی پر دباؤ اور مہنگی زرعی اشیا کسانوں کی مشکلات بڑھا رہی ہیں۔
غزنی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بے قابو گہرے کنویں، حتیٰ کہ شمسی توانائی سے چلنے والے پمپ بھی، زیرزمین پانی کو تیزی سے ختم کر سکتے ہیں۔
اسی لیے چھوٹے ڈیم، پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور بہتر آبپاشی زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی امید بھی دکھا رہی ہے۔ قندھار میں ایف اے او کے ایک منصوبے میں گرین ہاؤس اور ڈرپ اریگیشن کے استعمال سے روایتی کھلی کاشت کے مقابلے میں پانی کا استعمال 60 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کہانی میں کیا چھپا ہے؟
◆
پاکستان کے لیے اس کہانی میں کیا چھپا ہے؟
سرحد پار استحکام: پناہ گزینوں کی واپسی کا پائیدار حل
افغانستان کی زراعت کا سنبھل جانا صرف کابل کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی سرحدی، معاشی اور سماجی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر واپس جانے والے خاندانوں کو اپنے کھیتوں سے روزگار نہ ملا تو ریورس مائیگریشن کا بوجھ دوبارہ اسلام آباد پر پڑے گا۔
🌾 گندم اور کھاد کی غیر قانونی ترسیل
افغانستان میں کھاد اور مصدقہ بیج کی شدید قلت (جس کے لیے FAO نے 38.3 ملین ڈالر مانگے ہیں) پاکستانی سرحدی علاقوں سے یوریا اور گندم کی اسمگلنگ کے دباؤ کو مسلسل بڑھاتی ہے۔
🔄 دوبارہ پاکستان رخ کرنے کا خدشہ
اگر خشک سالی اور پانی کے بحران کے باعث دیہی معیشت تباہ ہوئی تو واپس بھیجے گئے لاکھوں افغان غیر قانونی راستوں سے مزدوری کے لیے دوبارہ پاکستان داخل ہونے پر مجبور ہوں گے۔
🍇 باہمی زرعی تجارت اور ٹرانزٹ
افغان تازہ پھلوں، میوہ جات اور کپاس کی پیداوار مستحکم ہونے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحدی منڈیوں میں قانونی تجارت اور مال برداری کو نئی وسعت مل سکتی ہے۔
🤝 مشترکہ آبی و موسمیاتی چیلنجز
دریائے کابل اور مشترکہ واٹر شیڈز پر خشک سالی کا اثر دونوں ملکوں کو متاثر کرتا ہے۔ پانی کا بہتر انتظام خطے میں آبی تنازعات سے بچنے کے لیے ناگزیر بنتا جا رہا ہے۔
پستہ، سبزیاں اور نئی زرعی معیشت
پانی کی کمی نے کاشت کاروں کے لیے فصلوں کا انتخاب بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔
ہرات میں تقریباً 2,500 ایکڑ پر پستے کے باغات قائم ہو چکے ہیں۔ پستہ نسبتاً کم پانی مانگتا ہے، اسی لیے خشک اور نیم خشک علاقوں میں کسانوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
Food security in #Afghanistan remains alarming, with over 36% of people being food insecure. @FAO & partners are supporting farmers, reaching over 10 million last year with essential resources. @FAO’s Director of Resource Mobilization, Alexander Jones interview⬇️ #AgricultureCan pic.twitter.com/WWvJdD3ACo
— FAO Asia Pacific (@FAOAsiaPacific) March 15, 2024
اسی طرح زراعت کے شعبے میں روزگار صرف ہل چلانے تک محدود نہیں ہے۔
مویشی پالنا، ڈیری، پولٹری، خوراک کی پروسیسنگ، پیکنگ، کولڈ اسٹوریج، نقل و حمل اور مارکیٹنگ بھی ہزاروں افراد کے لیے کام پیدا کر سکتے ہیں۔
یہی وہ شعبے ہیں جہاں ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے ہنر مند افغان اپنا تجربہ استعمال کر سکتے ہیں۔
🌾
اگلے چند سال افغانستان کی زراعت کا رخ بدل سکتے ہیں
▼
اگلے چند سال افغانستان کی زراعت کا رخ بدل سکتے ہیں
منظرنامہ 1: جدید کاشت اور کم پانی والی فصلیں
پستے کے باغات، گرین ہاؤسز اور ڈرپ اریگیشن کے کامیاب ماڈلز پھیل جائیں، جس سے پناہ گزینوں کے لیے فوڈ پروسیسنگ اور پیکنگ میں ہزاروں پائیدار ملازمتیں پیدا ہوں۔
منظرنامہ 2: فنڈنگ کمی اور محدود بحالی
بین الاقوامی امداد مطلوبہ 52 کروڑ ڈالر تک نہ پہنچ سکے، جس سے کھاد اور تصدیق شدہ بیج نہ ملنے پر گندم کی پیداوار گر جائے اور معیشت وقتی ریلیف پر زندہ رہے۔
منظرنامہ 3: شدید خشک سالی اور بنجر پن
بے قابو سولر ٹیوب ویلز سے زیر زمین پانی کے ذخائر ختم ہو جائیں، جس کے نتیجے میں زرعی اراضی ناکارہ ہو جائے اور لاکھوں خاندان دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہوں۔
حتمی تجزیاتی نچوڑ: افغانستان کے سامنے ایک فیصلہ کن دور ہے۔ اگر پانی کی بچت، نئی زرعی ٹیکنالوجی اور منڈی تک رسائی کی زنجیر جڑ گئی تو خشک زمین وطن واپس آنے والوں کے لیے معاشی خود کفالت کا نیا دروازہ کھول دے گی۔
امید موجود، مگر وقت کم
ایسے حالات میں ایک اور خطرہ کھاد کی بڑھتی قیمت بھی ہے۔
ایف اے او نے 2027 کی گندم کی فصل بچانے کے لیے 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کی فوری امداد مانگی ہے تاکہ 6 لاکھ زرعی خاندانوں کو کھاد اور تصدیق شدہ بیج دیے جا سکیں۔
یعنی افغانستان کے سامنے ایک عجیب مگر فیصلہ کن منظر ہے کہ لاکھوں نئے ہاتھ کام چاہتے ہیں، لاکھوں خاندان کھیتوں پر منحصر ہیں، مگر پانی اور سرمایہ محدود ہے۔
اگر پانی کا بہتر انتظام، جدید کاشت، چھوٹے کاروبار اور منڈی تک رسائی ایک ساتھ بہتر ہو جائیں تو زراعت صرف خوراک نہیں، بلکہ وطن واپس آنے والے لاکھوں افغانوں کے لیے نئی زندگی کا دروازہ بھی بن سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ امداد کھیت سے نکل کر مستقل آمدن اور روزگار تک پہنچتی ہے یا نہیں۔