ایک نئی تحقیق میں تقریباً 7,500 افراد کے غذائی معمولات اور حیاتیاتی عمر سے متعلق نشانات کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ کسی ایک مخصوص ڈائٹ کے بجائے مجموعی طور پر صحت مند خوراک—خصوصاً سبزیاں، پھل، دالیں، مکمل اناج، گری دار میوے اور کم پراسیس شدہ غذائیں—جسمانی بڑھاپے کے نسبتاً سست عمل سے وابستہ ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس لیے یہ ثابت نہیں کرتی کہ صرف غذا بدلنے سے بڑھاپا لازماً سست ہو جائے گا۔
عمر بڑھنا ایک فطری عمل ہے، مگر سائنس دان طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہماری روزمرہ خوراک جسم کے اندر بڑھاپے کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ایک نئی تحقیق نے اسی سوال کا جائزہ لیتے ہوئے 10 مختلف صحت مند غذائی نظاموں کا موازنہ کیا ہے، اور نتیجہ یہ سامنے آیا کہ کسی ایک مخصوص ڈائٹ کے بجائے مجموعی طور پر بہتر غذائی معیار حیاتیاتی بڑھاپے کے نسبتاً سست اشاریوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
1. نئی تحقیق نے 10 مختلف صحت مند غذائی نظاموں کا جائزہ لیا۔
2. نتیجہ یہ نکلا کہ کسی ایک مخصوص ڈائٹ کے بجائے مجموعی غذائی معیار زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔
3. سبزیاں، پھل، دالیں، مکمل اناج، گری دار میوے اور کم پراسیس شدہ خوراک اکثر نظاموں میں مشترک تھیں۔
4. بہتر خوراک حیاتیاتی بڑھاپے کے نسبتاً سست اشاریوں سے منسلک پائی گئی، مگر وجہ اور نتیجہ ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔
تحقیق میں تقریباً 7,500 مرد و خواتین کے غذائی معمولات اور خون کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ پہلے جرمنی کے رائن لینڈ علاقے سے تعلق رکھنے والے 6,470 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، پھر نتائج کو پوٹسڈیم میں ہونے والی ایک الگ تحقیق کے 1,034 شرکا کے ڈیٹا سے موازنہ کرکے جانچا گیا۔
مزید پڑھیں
حیاتیاتی عمر کیا ہوتی ہے؟
یہاں محققین نے کیلنڈر کے مطابق عمر یعنی یہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کی عمر 40، 50 یا 60 سال ہے، بلکہ حیاتیاتی عمر پر توجہ دی۔
اس سے مراد جسم کے اندر ہونے والی ایسی تبدیلیاں ہیں جو یہ ظاہر کر سکتی ہیں کہ خلیات اور جسمانی نظام معمول سے زیادہ تیزی یا نسبتاً آہستگی سے عمر رسیدہ ہو رہے ہیں۔
اس مقصد کے لیے سائنس دانوں نے ڈی این اے پر موجود مخصوص کیمیائی نشانات کا جائزہ لیا۔
ایسے نشانات، جنہیں DNA methylation سے متعلق پیمائشوں میں استعمال کیا جاتا ہے، عمر کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور بعض سائنسی طریقوں میں انہیں جسمانی بڑھاپے کی رفتار کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
🥗 10 ڈائٹس میں مشترک راز کیا نکلا؟
بحیرۂ روم، DASH، MIND، نارڈک اور پودوں پر مبنی غذائی نظام مختلف نام رکھتے ہیں، لیکن ان میں ایک بنیادی مماثلت ہے:
زیادہ قدرتی غذائیں، زیادہ پودوں سے حاصل ہونے والی خوراک، اور کم انتہائی پراسیس شدہ چیزیں۔
یعنی اصل توجہ کسی ایک مشہور ڈائٹ کے نام پر نہیں بلکہ روزمرہ خوراک کے مجموعی معیار پر ہے۔
کن غذائی نظاموں کا جائزہ لیا گیا؟
تحقیق میں مجموعی طور پر دس غذائی نمونوں کا موازنہ کیا گیا۔
ان میں بحیرۂ روم کی غذا، شمالی یا نارڈک ڈائٹ، DASH ڈائٹ، MIND ڈائٹ اور پودوں پر زیادہ انحصار کرنے والے غذائی نظام شامل تھے۔
محققین نے یہ دیکھا کہ ہر شریک کی روزمرہ خوراک ان مختلف غذائی نظاموں کی سفارشات سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ بہت کم افراد ایسے تھے جن کی خوراک بیک وقت تمام دس غذائی معیاروں پر پوری اترتی تھی۔
اس کے باوجود، بہتر غذائی معیار رکھنے والے افراد میں مجموعی طور پر حیاتیاتی بڑھاپے کے نسبتاً سست اشاریے دیکھے گئے۔
ان تمام ڈائٹس میں مشترک چیز کیا ہے؟
اگرچہ ان غذائی نظاموں کی تفصیلات مختلف ہیں، لیکن ان میں کئی بنیادی باتیں مشترک ہیں۔ عموماً یہ غذائیں سبزیوں، پھلوں، مکمل اناج، دالوں، گری دار میووں، بیجوں اور نسبتاً کم پراسیس شدہ خوراک پر زور دیتی ہیں۔
🧬 حیاتیاتی عمر کیا ہوتی ہے؟
کیلنڈر کی عمر یہ بتاتی ہے کہ آپ کتنے سال کے ہیں، مگر حیاتیاتی عمر جسم کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کی تصویر پیش کرتی ہے۔
محققین ایسے حیاتیاتی نشانات کا جائزہ لیتے ہیں جو خلیات اور جسمانی نظاموں میں عمر بڑھنے کی رفتار سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
اسی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے کہ دو یکساں عمر کے افراد میں جسمانی بڑھاپے کی رفتار مختلف تو نہیں۔
محققین کے مطابق مختلف غذائی نمونوں سے منسلک حیاتیاتی اثرات میں بھی نمایاں مماثلت دیکھی گئی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ مختلف ڈائٹس سے وابستہ 70 فیصد سے زیادہ حیاتیاتی عمل ایک دوسرے سے مشترک تھے۔
ان عملوں میں جسم کا توانائی استعمال کرنے کا طریقہ، خلیات کے درمیان رابطہ اور مختلف خلیاتی افعال شامل تھے۔
یہی وجہ ہے کہ محققین کا خیال ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر شخص ایک ہی نام والی ڈائٹ اپنائے۔
خوراک ثقافت، ذائقے، دستیابی اور بجٹ کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، بشرطیکہ مجموعی غذائی معیار اچھا ہو۔
DASH اور MIND ڈائٹ میں کیا فرق سامنے آیا؟
تحقیق میں بعض غذائی نظاموں کے ساتھ مخصوص حیاتیاتی علامات کا تعلق بھی سامنے آیا۔ DASH ڈائٹ، جو بنیادی طور پر بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے کے لیے تیار کی گئی تھی، دل اور قلبی صحت سے متعلق بعض حیاتیاتی نشانات سے منسلک پائی گئی۔
🍎 کن غذاؤں پر زیادہ زور؟
تحقیق میں بہتر غذائی نمونوں کے ساتھ بار بار یہ چیزیں سامنے آئیں:
سبزیاں، پھل، دالیں، مکمل اناج، گری دار میوے، بیج، زیتون کا تیل اور دیگر کم پراسیس شدہ غذائیں۔
اس کے برعکس بہت زیادہ میٹھی، نمکین اور انتہائی پراسیس شدہ خوراک کو محدود رکھنا صحت مند غذائی نمونے کی اہم خصوصیت ہے۔
اسی طرح MIND ڈائٹ، جو دماغی صحت اور یادداشت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے، یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے متعلق بعض نشانات کے ساتھ منسلک دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق یہ فرق مستقبل کی تحقیق کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
سگریٹ نوش افراد میں تعلق زیادہ واضح
تحقیق کا ایک دلچسپ نتیجہ یہ بھی تھا کہ صحت مند غذا اور نسبتاً سست حیاتیاتی بڑھاپے کے درمیان تعلق سگریٹ نوش افراد میں زیادہ نمایاں تھا۔ تاہم محققین ابھی اس کی وجہ واضح نہیں کر سکے۔
🫀 DASH اور MIND کیوں اہم ہیں؟
DASH ڈائٹ بنیادی طور پر بلڈ پریشر اور قلبی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے تیار کی گئی۔
MIND ڈائٹ دماغی صحت، یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے متعلق غذائی اصولوں پر زور دیتی ہے۔
نئی تحقیق سے اشارہ ملا کہ مختلف صحت مند ڈائٹس ایک جیسے بنیادی فائدوں کے باوجود کچھ مخصوص جسمانی نظاموں سے الگ انداز میں بھی منسلک ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر خبردار کیا ہے کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اچھی غذا سگریٹ نوشی کے نقصانات کو ختم یا متوازن کر سکتی ہے۔
تمباکو نوشی بذاتِ خود متعدد بیماریوں کا بڑا خطرہ ہے۔
کیا اچھی غذا واقعی بڑھاپا سست کر دیتی ہے؟
یہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔
یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی تھی۔
یعنی محققین نے لوگوں کی پہلے سے موجود غذائی عادات اور ان کے خون میں پائے جانے والے حیاتیاتی نشانات کا موازنہ کیا۔
🍽️ روزمرہ پلیٹ کیسی ہو؟
عملی طور پر ایک سادہ اصول اپنایا جا سکتا ہے:
آدھی پلیٹ: سبزیاں اور سلاد
ایک چوتھائی: مکمل اناج یا دوسری صحت مند کاربوہائیڈریٹ
ایک چوتھائی: مچھلی، دالیں یا مناسب مقدار میں کم چکنائی والا پروٹین
ساتھ میں پھل، گری دار میوے اور پانی کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
اس لیے تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ کسی شخص کی ڈائٹ تبدیل کرنے سے لازماً اس کی حیاتیاتی عمر سست ہو جائے گی۔
وجہ اور نتیجے کا حتمی تعلق ثابت کرنے کے لیے ایسی طویل مدتی تحقیق درکار ہوگی جس میں لوگوں کی خوراک باقاعدہ تبدیل کرکے بعد میں حیاتیاتی نتائج کا موازنہ کیا جائے۔
اصل پیغام
مختلف ثقافتوں اور معاشروں کے لوگ اپنی پسند اور بجٹ کے مطابق صحت مند غذائی طریقہ اپنا سکتے ہیں۔
سبزیاں، پھل، دالیں، مکمل اناج، گری دار میوے اور کم پراسیس شدہ غذا کو ترجیح دینا جبکہ انتہائی پراسیس شدہ، بہت زیادہ میٹھی اور غیر متوازن خوراک کو محدود رکھنا مجموعی غذائی معیار بہتر بنانے کا بنیادی راستہ ہے۔
نئی تحقیق اس خیال کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ہم کیا کھاتے ہیں، اس کا تعلق صرف وزن یا بلڈ پریشر سے نہیں بلکہ جسم کے اندر عمر بڑھنے سے وابستہ حیاتیاتی عمل سے بھی ہو سکتا ہے—اگرچہ یہ ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق ابھی ضروری ہے۔
🔗 اصل ذریعہ اور مزید مطالعہ
Euronews / Nabd:
10 غذائی نظاموں اور حیاتیاتی بڑھاپے کے درمیان تعلق پر خبر۔