براہ راست نشریات

صرف 8 گھنٹے سونا کافی نہیں.. تحقیق نے نیند کا نیا راز کھول دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Deep Sleep

95 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی ایک بڑی تحقیق میں معلوم ہوا کہ صحت کے لیے صرف نیند کے گھنٹے اہم نہیں بلکہ نیند کا معیار اور اس کے مختلف مراحل بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں REM اور گہری نیند کو کئی بیماریوں کے نسبتاً کم خطرے سے منسلک پایا گیا، جبکہ 5 گھنٹے سے کم نیند اور بے قاعدہ سونے کے اوقات زیادہ طبی خطرات سے وابستہ تھے۔

کئی برسوں سے نیند کے بارے میں طبی مشورے تقریباً ایک ہی سوال کے گرد گھومتے رہے ہیں: آپ روزانہ کتنے گھنٹے سوتے ہیں؟ 

مگر ایک وسیع تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ صرف نیند کا دورانیہ پوری تصویر پیش نہیں کرتا، بلکہ یہ بھی اہم ہوسکتا ہے کہ ان گھنٹوں کے دوران دماغ اور جسم نیند کے کن مراحل سے گزرتے ہیں۔

سائنسی جریدے PLOS Medicine میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 95 ہزار 559 افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ 

یہ معلومات برطانیہ کے UK Biobank سے حاصل کی گئی تھیں، اور مقصد یہ جاننا تھا کہ حقیقی زندگی میں نیند کے مختلف انداز مستقبل میں بیماریوں کے خطرے سے کس طرح منسلک ہوتے ہیں۔

◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTنیند کی تحقیق — اہم نکات ⌄
  • ✓تحقیق میں 95,559 افراد کے کلائی پر پہنے گئے ایکسلرومیٹر ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
  • ✓شرکا کی درمیانی فالو اَپ مدت تقریباً 8.9 سال تھی۔
  • ✓نیند کے انداز اور 1,049 طبی نتائج کے درمیان تعلق جانچا گیا۔
  • ✓مجموعی طور پر 156 اہم شماریاتی تعلقات سامنے آئے۔
  • ✓زیادہ REM اور گہری نیند کئی بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک پائی گئی۔
  • ✓انتہائی کم نیند، بے قاعدگی اور نیند کے بعد زیادہ دیر بیدار رہنا زیادہ خطرات سے منسلک تھا۔
overseaspost.net

محققین نے شرکا سے محض یہ نہیں پوچھا کہ وہ کتنے گھنٹے سوتے ہیں، بلکہ 7 دن مسلسل کلائی پر پہننے والے موشن سینسرز سے حاصل شدہ ڈیٹا بھی استعمال کیا۔

اس کے بعد ایک الگورتھم کے ذریعے نیند کے مختلف مراحل کا اندازہ لگایا گیا، جن میں REM نیند، گہری نیند، ہلکی نیند، مجموعی دورانیہ، نیند میں بے قاعدگی اور رات کے دوران بار بار بیدار ہونا شامل تھا۔

مزید پڑھیں

ایک ہزار سے زیادہ بیماریوں کا جائزہ

محققین نے شرکا کی اوسطاً تقریباً 8.9 سال تک نگرانی کی اور ان کے نیند کے انداز کا 1,049 مختلف بیماریوں اور طبی مسائل کے ساتھ تعلق جانچنے کی کوشش کی۔

تحقیق میں نیند کے مختلف عوامل اور مستقبل میں بیماری لاحق ہونے کے درمیان مجموعی طور پر 156 اہم شماریاتی تعلقات سامنے آئے۔

سب سے زیادہ توجہ REM نیند نے حاصل کی۔ 

یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں آنکھوں کی حرکت تیز ہوجاتی ہے اور عام طور پر اسے خواب دیکھنے، یادداشت کو منظم کرنے اور ذہنی معلومات کو پراسیس کرنے سے جوڑا جاتا ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOX95 ہزار افراد کی تحقیق: فیکٹ باکس ⌄
شرکا95,559
فالو اَپ8.9 سال
طبی نتائج1,049
اہم تعلقات156
کم خطرے کا عمومی دائرہ6–8 گھنٹے
انتہائی کم نیند5 گھنٹے سے کم
تحقیق کی نوعیتUK Biobank کی مشاہداتی cohort study — وجہ اور نتیجہ ثابت نہیں کرتی
overseaspost.net

تحقیق کے مطابق REM نیند میں تقریباً 47.6 منٹ کے اضافے کا تعلق 12 مختلف طبی زمروں میں آنے والی 83 بیماریوں کے کم خطرے سے پایا گیا۔

ان میں دل کی کمزوری، دل کی بے قاعدہ دھڑکن یعنی Atrial Fibrillation، دل کی شریانوں سے متعلق بعض بیماریاں، اعصابی مسائل اور ڈیمنشیا جیسی حالتیں شامل تھیں۔

مثلاً زیادہ REM نیند کا تعلق دل کی کمزوری کے نسبتاً کم خطرے سے پایا گیا، جبکہ ڈیمنشیا اور پارکنسن بیماری کے ساتھ بھی قابل ذکر تعلق سامنے آیا۔

تاہم ان نتائج کی تشریح احتیاط سے کرنا ضروری ہے۔ 

تحقیق یہ نہیں کہتی کہ صرف REM نیند بڑھانے سے یہ بیماریاں روکی جاسکتی ہیں۔ محققین نے صرف دونوں عوامل کے درمیان شماریاتی تعلق دریافت کیا ہے۔

گہری نیند کی اپنی اہمیت

محققین نے گہری نیند کے حوالے سے بھی اہم نتائج دیکھے۔

زیادہ گہری نیند کا تعلق 5 طبی زمروں میں آنے والی 7 بیماریوں کے کم خطرے سے پایا گیا۔

ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس، شدید ڈپریشن، Sleep Apnea یعنی نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری اور پارکنسن شامل تھے۔

R OVERSEAS POST | SLEEP SCIENCEREM نیند کیوں اہم نظر آئی؟ ⌄

REM یعنی Rapid Eye Movement نیند عام طور پر خواب، یادداشت اور معلومات کی پروسیسنگ سے جوڑی جاتی ہے۔

83بیماریوں کے کم خطرے کے ساتھ زیادہ REM نیند کا تعلق رپورٹ ہوا۔

اہم: یہ صرف شماریاتی تعلق ہے۔ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ REM نیند کو بڑھانے سے یہ بیماریاں لازماً روکی جاسکتی ہیں۔

overseaspost.net

یہ نتائج اس خیال کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ نیند کوئی ایک جیسی مسلسل حالت نہیں، بلکہ رات کے دوران انسان بار بار مختلف مراحل میں داخل ہوتا ہے اور ہر مرحلہ جسم اور دماغ میں مختلف حیاتیاتی اور اعصابی کام انجام دیتا ہے۔

اسی لیے ممکن ہے کہ دو افراد روزانہ یکساں، مثلاً سات گھنٹے، سوتے ہوں لیکن دونوں کی نیند کا معیار اور گہری نیند یا REM میں گزارا گیا وقت بہت مختلف ہو۔

پھر نیند کے گھنٹوں کی کتنی اہمیت ہے؟

تحقیق نے نیند کے مجموعی دورانیے کی اہمیت کو کم نہیں کیا۔

جب محققین نے نیند کے گھنٹوں اور 86 بیماریوں کے درمیان تعلق دیکھا تو معلوم ہوا کہ بیشتر بیماریوں کے لیے نسبتاً کم خطرہ عمومی طور پر 6 سے 8 گھنٹے کی نیند کے درمیان موجود تھا۔

ان 69 طبی حالتوں میں، جن میں نیند کے دورانیے اور بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق سیدھی لکیر کی صورت میں نہیں تھا، کم ترین خطرہ زیادہ تر چھ سے آٹھ گھنٹوں کے درمیان دیکھا گیا۔

Z OVERSEAS POST | DEEP SLEEPگہری نیند کا صحت سے تعلق ⌄

تحقیق میں زیادہ گہری نیند بھی متعدد بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک دیکھی گئی۔

7بیماریوں کے ساتھ گہری نیند کا کم خطرے والا تعلق سامنے آیا۔
  • ٹائپ ٹو ذیابیطس
  • شدید ڈپریشن
  • Sleep Apnea
  • پارکنسن

ہر شخص کی نیند کی ساخت مختلف ہوسکتی ہے؛ یہ نتائج طبی تشخیص یا انفرادی علاج کا متبادل نہیں۔

overseaspost.net

اس کے برعکس انتہائی کم نیند، یعنی روزانہ 5 گھنٹے سے کم سونا، صحت کے مسائل کے ساتھ سب سے زیادہ منسلک تھا۔

جب چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند کے ساتھ موازنہ کیا گیا تو 41 اہم منفی تعلقات میں سے 37 کا تعلق کم نیند سے سامنے آیا۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تحقیق اس خیال کی حمایت نہیں کرتی کہ انسان بہت کم وقت سو کر صرف زیادہ گہری یا REM نیند حاصل کرکے نیند کی کمی کی تلافی کرسکتا ہے۔

بار بار جاگنا اور بے قاعدہ نیند بھی اہم

محققین نے صرف نیند کے مراحل اور دورانیے کا ہی جائزہ نہیں لیا۔

رات کو نیند آنے کے بعد زیادہ دیر تک جاگتے رہنے کا تعلق 6 بیماریوں کے زیادہ خطرے سے پایا گیا، جبکہ نیند کے اوقات میں زیادہ بے قاعدگی تین طبی مسائل کے زیادہ خطرے سے منسلک ہوئی۔

6–8 OVERSEAS POST | KEY NUMBER6 سے 8 گھنٹے — اہم دائرہ ⌄
6–8 گھنٹے

نیند کے دورانیے اور 86 طبی حالتوں کے درمیان غیر خطی تعلق سامنے آیا، اور ان میں سے 69 میں کم ترین خطرے کا دورانیہ زیادہ تر 6 سے 8 گھنٹے کے اندر تھا۔

یہ ہر فرد کے لیے نسخہ نہیں؛ عمر، بیماری، حمل، ادویات اور دیگر عوامل نیند کی ضرورت بدل سکتے ہیں۔

overseaspost.net

بے قاعدہ نیند کے ساتھ سامنے آنے والے تعلقات میں بے چینی، Anxiety Disorders اور شدید ڈپریشن بھی شامل تھے۔

یہ نتیجہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے: 

صرف 7 گھنٹے سونا شاید کافی نہ ہو اگر کسی شخص کے سونے اور جاگنے کے اوقات روزانہ بہت زیادہ تبدیل ہوتے رہیں یا رات کے دوران نیند بار بار ٹوٹتی ہو۔

مگر تحقیق وجہ اور نتیجہ ثابت نہیں کرتی

یہ اس تحقیق کو سمجھنے کا سب سے اہم نکتہ ہے۔

یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، کوئی طبی تجربہ نہیں۔ اس لیے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ REM نیند کم ہونے سے بیماری براہ راست پیدا ہوتی ہے یا گہری نیند بڑھانے سے بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔

! OVERSEAS POST | WARNINGپانچ گھنٹے سے کم نیند کیوں تشویش ناک؟ ⌄

تحقیق میں 5 گھنٹے سے کم نیند لینے والوں میں منفی طبی تعلقات سب سے زیادہ وسیع تھے۔

37/41اہم منفی تعلقات انتہائی کم نیند والے گروپ میں سامنے آئے، جب اسے 6–8 گھنٹے کے گروپ سے موازنہ کیا گیا۔

کم نیند بعض اوقات بیماری کی وجہ کے بجائے پہلے سے موجود یا شروع ہونے والی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

overseaspost.net

ایسے دوسرے عوامل بھی ہوسکتے ہیں جو بیک وقت نیند اور صحت دونوں کو متاثر کرتے ہوں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی بیماری تشخیص ہونے سے کافی پہلے ہی جسم میں شروع ہوچکی ہو اور اپنی واضح علامات ظاہر کرنے سے پہلے انسان کی نیند کو متاثر کرنا شروع کردے۔

محققین نے ان امکانات کے اثرات کم کرنے کے لیے اضافی تجزیے بھی کئے، اور بہت سے تعلقات پھر بھی برقرار رہے، لیکن اس سے تحقیق کی بنیادی حدود ختم نہیں ہوتیں اور شماریاتی تعلق کو براہ راست وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تحقیق کے شرکا UK Biobank سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں بڑی تعداد درمیانی اور بڑی عمر کے بالغ افراد کی تھی، اس لیے نتائج کو ہر عمر اور ہر آبادی پر بعینہٖ لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

عام آدمی کے لیے اس تحقیق کا مطلب کیا ہے؟

اس تحقیق کا عملی پیغام یہ نہیں کہ لوگ مصنوعی طریقوں سے نیند کے کسی خاص مرحلے کو بڑھانے کی کوشش شروع کردیں، اور نہ ہی اسمارٹ واچ میں دکھائی جانے والی ہر نیند کی ریڈنگ کو طبی تشخیص سمجھا جائے۔

↺ OVERSEAS POST | REGULARITYنیند کی بے قاعدگی بھی اہم ہے ⌄

صرف دورانیہ نہیں، روزانہ سونے جاگنے کے وقت میں بڑی تبدیلیاں بھی صحت کی تصویر کا حصہ ہوسکتی ہیں۔

بے قاعدہ نیند3 بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک
نیند کے بعد بیداری6 بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک

تحقیق میں Anxiety Disorders اور شدید ڈپریشن سمیت بعض ذہنی صحت کے مسائل کے ساتھ بھی تعلقات سامنے آئے۔

overseaspost.net

اس کے بجائے تحقیق تین بنیادی چیزوں کی طرف توجہ دلاتی ہے: مناسب دورانیے کی نیند، باقاعدہ اوقات اور رات کے دوران نیند میں خلل کو کم سے کم رکھنا۔

اسمارٹ واچ اور فٹنس بینڈ نیند کے مراحل کے بارے میں ایک عمومی اندازہ دے سکتے ہیں، لیکن اگر کسی شخص کو شدید خراٹے آتے ہوں، نیند میں سانس رکنے کی شکایت ہو، طویل عرصے سے بے خوابی ہو یا دن کے وقت غیر معمولی غنودگی محسوس ہوتی ہو تو یہ آلات طبی معائنے یا باقاعدہ Sleep Study کا متبادل نہیں ہیں۔

تحقیق کا مرکزی پیغام سادہ مگر اہم ہے: 

ہماری صحت شاید صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ ہم کتنی دیر بستر پر رہتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ ان گھنٹوں کے دوران ہمارا دماغ اور جسم کس معیار کی نیند سے گزرتا ہے۔

↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
overseaspost.net