نیند میں چلنا ایک ایسا طبی اضطراب ہے جو بظاہر کسی فلمی منظر کی طرح لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ سائنسی عمل ہے۔
مزید پڑھیں
اس حالت میں انسان گہری نیند کے باوجود بیداری جیسی حرکات کرتا ہے، جس سے نہ صرف وہ خود بھی لاعلم رہتا ہے بلکہ بعد میں اسے کچھ یاد نہیں رہتا۔
منفرد انسانی تجربہ
تحقیق کے مطابق یہ کیفیت 1.5 فیصد بالغوں اور تقریباً 5 فیصد بچوں کو متاثر کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چیز جانوروں میں نہیں پائی جاتی۔ دیگر جاندار نیند میں صرف اعضا ہلا سکتے ہیں، لیکن چلنا اور رکاوٹیں عبور کرنا صرف انسانی خاصہ ہے۔
دماغی نظام کا انوکھا تعطل
ٹورانٹو یونیورسٹی کے ماہرِ ارتقائی بشریات ڈیوڈ سیمسن کے مطابق یہ عمل نیند کے گہرے مرحلے میں ’علیحدگی‘ کی کیفیت ہے۔
اس دوران دماغ کے حرکی حصے فعال ہو جاتے ہیں، جبکہ شعور، فیصلہ سازی اور یادداشت والے حصے گہری نیند میں رہتے ہیں، جس سے پیچیدہ جسمانی حرکات ممکن ہوتی ہیں۔
نیند میں چلنے کی سائنس: انسان بمقابلہ جانور
دماغی نظام کا انوکھا تعطل اور ارتقائی تحفظ کے حیران کن حقائق
• سیڑھیوں کے آغاز پر حفاظتی گیٹ یا رکاوٹ لگائیں۔
• تیز دھار آلات اور خطرناک اشیا کو پہنچ سے دور رکھیں۔
• نیند کا شیڈول درست رکھیں اور روزمرہ کے ذہنی دباؤ میں کمی لائیں۔
by: overseaspost.net
علامات اور وضاحت
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ مسئلہ عام طور پر رات کے ابتدائی حصوں میں ہوتا ہے۔
اس دوران مریض کی آنکھیں کھلی ہو سکتی ہیں، چہرہ بے تاثر رہتا ہے اور وہ ارد گرد کے ماحول سے رابطہ نہیں کر پاتا، تاہم وہ گھر میں ٹہلنے یا کپڑے پہننے جیسے کام کر سکتا ہے۔
حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر
اس کیفیت کا علاج اکثر ضروری نہیں ہوتا، تاہم حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ گھر کے دروازے اور کھڑکیوں کو محفوظ بنائیں، سیڑھیوں پر گیٹ لگائیں اور تیز دھار آلات کو پہنچ سے دور رکھیں۔
نیند کا معمول درست رکھنا اور ذہنی دباؤ میں کمی لانا بھی انتہائی مفید ہے۔
ارتقائی پہلو اور جینیاتی عوامل
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر بندر جیسے جانور نیند میں چلتے تو وہ درختوں سے گر کر ہلاک ہو جاتے۔ انسان اس لیے محفوظ رہے کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد گروہی تحفظ میں سوتے تھے۔
مزید یہ کہ بیماری موروثی بھی ہوتی ہے۔ والدین کے متاثر ہونے سے بچوں میں اس کے امکانات 61 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
نیند میں چلنا ایک ایسی بائیولوجیکل عمل ہے جس کا تعلق جینیات اور ارتقائی تحفظ سے جڑا ہے۔
اگرچہ یہ ایک خطرناک کیفیت ہو سکتی ہے، لیکن مناسب احتیاطی تدابیر اور نیند کے نظم و ضبط سے اس کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور مریض کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔