🌾
گندم موجود ہے، پھر روٹی مہنگی کیوں ہو رہی ہے؟
بحران کی جڑ
اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کے مطابق 2026 میں عالمی پیداوار 810 ملین ٹن سے زائد رہنے کی توقع ہے، یعنی گندم گوداموں میں بھری پڑی ہے۔ اصل بحران اسے بندرگاہ سے بحری جہاز اور پھر خریدار ملک کی منڈی تک محفوظ اور سستے داموں پہنچانے کا ہے۔
بحیرۂ اسود میں ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث تجارتی جہاز رانی شدید غیر یقینی ہو چکی ہے، جس سے روایتی سستے بحری روٹس مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
خطرناک سمندری زونز سے گزرنے والے کارگو بحری جہازوں کے انشورنس پریمیم اور ایندھن کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ گندم کی لینڈنگ لاگت بڑھا دیتا ہے۔
ڈینیوب، بالٹک اور آرکٹک پورٹس جنوبی بحیرۂ اسود کا فوری متبادل نہیں بن سکتیں۔ طویل قطاروں اور تاخیر نے کارگو کی لاگت میں کروڑوں ڈالر کا اضافہ کر دیا ہے۔
جب عالمی منڈی میں فی ٹن چند ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے تو مقامی کرنسیوں کی گراوٹ کے باعث خریدار ملکوں کے آٹے اور نان بائی کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
دنیا میں گندم کی کمی نہیں۔ فصل بھی اچھی ہے، گودام بھی بھرے ہیں، بڑے پیداواری ممالک کے پاس لاکھوں ٹن اناج موجود ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی منڈی میں گندم مہنگی ہورہی ہے اور کئی ملکوں کو اپنی روٹی کی قیمت قابو میں رکھنے کی فکر لاحق ہے۔
مزید پڑھیں
مسئلہ دراصل گندم پیدا کرنے کا نہیں، بلکہ اسے بندرگاہ سے جہاز اور پھر خریدار ملک تک پہنچانے کا ہے۔
گندم موجود، راستہ مشکل
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق 2026 میں عالمی گندم پیداوار 810 ملین ٹن سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، جبکہ امریکی محکمۂ زراعت کا اندازہ اس سے بھی زیادہ ہے۔
یعنی دنیا کسی فوری عالمی قلت کی طرف نہیں جارہی، لیکن ایک مسئلہ اس نکتے کو نمایاں کرتا ہے۔
عالمی گندم بحران: پیداوار وافر، ترسیل ناممکن
فصلوں کی ریکارڈ دستیابی کے باوجود بحری راستوں کی بندش، جنگی خطرات اور مہنگی مال برداری کا سنگین اثر۔
موجودہ بحران گندم کی قلت کا نہیں بلکہ ترسیل کے بند راستوں کا ہے، جہاں بحیرۂ اسود کی کشیدگی اور بڑھتی مال برداری نے غریب و ترقی پذیر ممالک کے لیے آٹا مہنگا کر دیا ہے۔
🌾 ریکارڈ عالمی پیداوار
دنیا بھر میں گندم کی فصلیں بھرپور ہیں اور مجموعی پیداواری سطح مستحکم ہے، بحران کی جڑ قلت نہیں بلکہ منڈیوں تک ترسیل ہے۔
🚢 بندرگاہوں پر بحری قطاریں
بحیرۂ اسود میں خطرات کے باعث متبادل ڈینیوب راستے پر درجنوں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں جس سے سامان برداری سست اور مہنگی ہوچکی ہے۔
💸 مصر پر اضافی درآمدی بوجھ
فی ٹن کرائے اور انشورنس میں معمولی اضافے نے درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک کے بجٹ پر اربوں روپے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
🇵🇰 پاکستان کی متوقع پیداوار
مقامی سطح پر فصل بہترین ہونے کے باوجود عالمی منڈی میں قیمتیں اور ڈالر کی شرح بڑھنے سے ملکی آٹے پر مہنگائی کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
حقیقی پریشانی بحیرۂ اسود میں ہے، جہاں روس اور یوکرین عالمی گندم تجارت کے انتہائی اہم کھلاڑی ہیں۔ جنگ، ڈرون حملوں اور بندرگاہوں پر خطرات نے جہاز رانی، انشورنس اور مال برداری مہنگی کردی ہے۔
روس، بحیرۂ اسود میں مشکلات کے بعد گندم کو بالٹک اور آرکٹک بندرگاہوں کی طرف منتقل کررہا ہے۔
کھاد اور کوئلہ سنبھالنے والے بعض ٹرمینلز کو بھی اناج کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، مگر یہ نظام جنوبی بندرگاہوں کا فوری متبادل نہیں بن سکتا۔
⚡
بحیرۂ اسود کا بحران آپ کی روٹی تک کیسے پہنچتا ہے؟
روس اور یوکرین عالمی گندم برآمد کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ بحیرۂ اسود میں جہازوں اور سائلو ٹرمینلز پر حملوں نے عام کمرشل کارگو کی آزادانہ آمدورفت بند کر دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یوکرین کے ڈینیوب روٹ پر 80 بحری جہاز قطار میں پھنس گئے۔ روس کو کوئلے کے ٹرمینلز سے گندم بھیجنی پڑ رہی ہے، جس سے وقت اور لوڈنگ کی لاگت بڑھ گئی ہے۔
بحری انشورنس کمپنیاں خطرے والے جہازوں سے بھاری پریمیم وصول کرتی ہیں۔ جہاز کا فی ٹن کرایہ بڑھتے ہی عالمی ٹریڈرز گندم کی قیمت بڑھا دیتے ہیں۔
مہنگی درآمد شدہ گندم جیسے ہی کراچی، ڈھاکا، قاہرہ یا خرطوم پہنچتی ہے، ملز آٹے کی قیمت بڑھاتی ہیں اور ہزاروں کلومیٹر دور لڑی جانے والی جنگ کا بوجھ عام شہری کی روٹی پر پڑتا ہے۔
یوکرین کی گندم، بندرگاہوں تک مشکل سفر
یوکرین میں صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ اس کی بڑی بندرگاہوں پر خطرات بڑھنے کے بعد دریائے ڈینیوب کے راستے گندم نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
Both Iran and Russia apply the same tactics.
— Defense of Ukraine (@DefenceU) April 4, 2026
Russia wanted to create a global food crisis. Iran wants to do the same with energy.
Ukraine has experience with launching the Grain Corridor in the Black Sea.
We stand ready to help. pic.twitter.com/bIkDH5MMGN
اگست کے آخر میں رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ڈینیوب کی بندرگاہوں تک پہنچنے کے لیے تقریباً 80 جہاز قطار میں تھے۔ محدود راستے، فضائی حملوں کے انتباہ اور بندرگاہی گنجائش نے متبادل نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اس صورت حال کا نتیجہ بہت سادہ ہے کہ گندم موجود ہے، لیکن اسے وہاں سے نکالنا مہنگا اور سست ہوگیا ہے۔
پاکستان کے لیے خطرہ کہاں ہے، آٹا کتنا متاثر ہوسکتا ہے؟
امریکی محکمہ زراعت (USDA) کے مطابق پاکستان میں 2026-27 میں 29.6 ملین ٹن گندم کی شاندار پیداوار متوقع ہے، تاہم تزویراتی ذخائر برقرار رکھنے کے لیے 1.4 ملین ٹن تک درآمد درکار ہو سکتی ہے جو عالمی اتار چڑھاؤ کی زد میں آئے گی۔
پاکستان دیگر درآمدی ممالک (جیسے مصر یا انڈونیشیا) کے مقابلے میں خوش قسمت ہے کیونکہ اس کی 95 فیصد سے زائد ضروریات مقامی کسان پورا کرتے ہیں، جس سے فوری قحط کا کوئی خطرہ نہیں۔
عالمی منڈی میں گندم اور سمندری کرایے مہنگے ہونے سے امپورٹ بل پر دباؤ بڑھے گا۔ مقامی ذخیرہ اندوز عالمی مہنگائی کو جواز بنا کر مارکیٹ میں آٹے کی مصنوعی قلت اور قیمتیں بڑھا سکتے ہیں۔
مصر سے انڈونیشیا تک، کس کی جیب پر زیادہ دباؤ؟
بحران کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑتا ہے جو اپنی خوراک کے لیے درآمدی گندم پر انحصار کرتے ہیں۔
مصر، انڈونیشیا، الجزائر، بنگلہ دیش، نائجیریا، ترکیہ، یمن اور سوڈان ان اہم منڈیوں میں شامل ہیں جہاں چند ڈالر فی ٹن کا اضافہ بھی مجموعی درآمدی بل میں کروڑوں ڈالر بڑھا سکتا ہے۔
مثلاً مصر کی متوقع درآمد تقریباً 12 ملین ٹن ہے۔ اگر فی ٹن صرف 50 ڈالر اضافی دینے پڑیں تو مجموعی بوجھ تقریباً 600 ملین ڈالر بڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح انڈونیشیا کے لیے 35 ڈالر فی ٹن کا فرق بھی 437 ملین ڈالر سے زیادہ بنتا ہے۔
🌍
دنیا کے کن ممالک پر مہنگی گندم کا سب سے زیادہ بوجھ؟
متاثرہ معیشتیں
دنیا کا سب سے بڑا گندم خریدار ملک سالانہ 12 ملین ٹن درآمد کرتا ہے۔ اگر قیمت میں صرف 50 ڈالر فی ٹن اضافہ ہو تو ملکی خزانے پر 60 کروڑ ڈالر کا بھاری بوجھ پڑتا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں نوڈلز اور بیکری پراڈکٹس کے لیے گندم کا بڑا صارف ہے۔ قیمت میں 35 ڈالر فی ٹن کا معمولی فرق بھی 437 ملین ڈالر سے زائد نیا درآمدی بل کھڑا کر دیتا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق سوڈان میں 19.5 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یہاں گندم مہنگی ہونے کا مطلب معاشی خسارہ نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی فاقہ کشی ہے۔
وہ گنجان آباد ممالک جو اپنی گندم کی مانگ کے لیے غیر ملکی منڈیوں پر تکیہ کرتے ہیں۔ جہازوں کے کرایوں میں معمولی تیزی بھی ان ممالک میں نچلے طبقات کے بجٹ کو ہلا دیتی ہے۔
کہیں قیمت کا مسئلہ، کہیں بھوک کا
اقتصادی ماہرین کے مطابق غریب اور جنگ زدہ ملکوں میں مہنگی گندم صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتی۔
ایف اے او اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے اپنی رپورٹس میں سوڈان اور یمن کو 2026 کے انتہائی تشویش ناک ’ہنگر ہاٹ اسپاٹس‘ میں شامل کیا ہے۔
51 countries are united today in our support for Ukraine at the UN General Assembly.
— Kaja Kallas (@kajakallas) September 23, 2026
Since March 2025, Ukraine has agreed to a full, immediate and unconditional ceasefire. We call on Russia to finally do the same.
Ukraine wants peace. We want peace. Russia must stop its… pic.twitter.com/kEIOAl51Oi
سوڈان میں تقریباً 19.5 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرچکے ہیں، جبکہ یمن میں بھی لاکھوں افراد خوراک کے سنگین بحران سے دوچار ہیں۔
ایسے ممالک میں جہاز کا کرایہ یا آٹے کی قیمت بڑھنا براہِ راست لوگوں کے کھانے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
🔭
آگے کیا ہوگا، گندم سستی ہوگی یا بحران مزید بڑھے گا؟
جب تک روس اور یوکرین کے بحری راستوں پر ڈرون حملے اور جنگی خطرات برقرار ہیں، گندم کی بین الاقوامی قیمتوں میں فوری کمی کا کوئی امکان نہیں؛ جہاز رانی کی لاگت بلند ہی رہے گی۔
متبادل منڈیوں سے خریداری بڑھنے سے وہاں کے ٹرمینلز پر بھی مانگ اور کرایے بڑھیں گے، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سستی بلیک سی گندم کے عادی ممالک کو مہنگی ٹرانسپورٹ کے ساتھ اناج خریدنا پڑے گا۔
اگر اقوامِ متحدہ یا بین الاقوامی سفارت کاری کے ذریعے محفوظ تجارتی کوریڈور دوبارہ مکمل بحال ہو جائیں تو گوداموں میں جمع لاکھوں ٹن اناج مارکیٹ میں آ کر قیمتوں کو فوراً نیچے لا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس صورت حال کے اثرات
پاکستان خود دنیا کے بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن مقامی فصل اچھی ہونے کے باوجود عالمی قیمتیں پاکستان سے غیر متعلق نہیں ہیں۔
امریکی محکمۂ زراعت کے اسلام آباد دفتر نے 2026-27 میں پاکستان کی گندم پیداوار تقریباً 29.6 ملین ٹن اور ممکنہ درآمدات 1.4 ملین ٹن رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔
اس لیے اگر عالمی گندم، جہاز رانی، ڈالر یا انشورنس مہنگی ہوتی ہے تو اس کا اثر درآمدی فیصلوں، سرکاری ذخائر اور بالآخر آٹے کی مقامی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے۔
اصل خطرہ قلت نہیں، مہنگی رسائی ہے
موجودہ عالمی گندم بحران کو ایک جملے میں سمجھنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے پاس گندم ہے، مگر ہر ملک اسے آسانی اور پرانی قیمت پر حاصل نہیں کرسکتا۔
روس اور یوکرین کے راستے جتنے غیر محفوظ ہوں گے، خریدار اتنا ہی آسٹریلیا، کینیڈا، ارجنٹائن اور یورپ کی طرف جائیں گے۔ وہاں طلب بڑھے گی تو قیمت، جہاز اور بندرگاہ، تینوں پر دباؤ بڑھے گا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہزاروں کلومیٹر دور ہونے والی جنگ، کراچی، لاہور، ڈھاکا، قاہرہ یا خرطوم میں روٹی کی قیمت سے جُڑ جاتی ہے۔