براہ راست نشریات

کینسر کی کمزوری نشانے پر.. دوا نے ٹیومر کا دفاعی نظام مفلوج کردیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Cancer Treatment

سائنس دان کینسر کے خلاف ایک نئی حکمت عملی آزما رہے ہیں جس میں ٹیومر کو براہِ راست تباہ کرنے کے بجائے اس کے اندر موجود حفاظتی نظام کو کمزور کیا جاتا ہے۔
Nature Communications میں شائع تحقیق کے مطابق تجرباتی دوا RSO-021 مائٹوکانڈریا میں موجود PRX3 پروٹین کو نشانہ بناتی ہے، جو کینسر کے خلیوں کو آکسیڈیٹو دباؤ سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

کینسر کے علاج سے متعلق ایک نئی سائنسی تحقیق نے ایک مختلف راستے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ 

اس طریقے میں ٹیومر پر روایتی انداز میں براہ راست حملہ کرنے کے بجائے اس نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کینسر کے خلیوں کو اندرونی کیمیائی دباؤ سے بچاتا ہے۔

جریدے Nature Communications میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے Peroxiredoxin 3 یا PRX3 نامی ایک پروٹین پر توجہ مرکوز کی۔ 

یہ پروٹین خلیے کے اس حصے، یعنی مائٹوکانڈریا میں پایا جاتا ہے، جو توانائی پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات
  • تجرباتی دوا RSO-021 کینسر کے خلیوں میں موجود حفاظتی پروٹین PRX3 کو نشانہ بناتی ہے۔
  • PRX3 مائٹوکانڈریا میں آکسیڈیٹو دباؤ کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس پر بعض کینسر خلیے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
  • فیز ون آزمائش میں 90 ملی گرام خوراک پر 9 قابلِ جائزہ مریضوں میں سے 6 میں 12 ہفتوں بعد بیماری قابو میں رہی۔
  • 67 فیصد کا مطلب شفا نہیں؛ ایک مریض میں جزوی ردعمل اور پانچ میں بیماری مستحکم رہی۔
  • زیادہ خوراکوں پر سوزش اور سانس میں دشواری جیسے زیادہ سنگین مضر اثرات سامنے آئے۔
  • تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے؛ بڑے فیز ٹو اور فیز تھری ٹرائلز کے بغیر حتمی افادیت ثابت نہیں۔
overseaspost.net

PRX3 کا کام خلیے کو نقصان دہ آکسیڈیٹو مادوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ 

عام خلیوں کے لیے بھی یہ نظام اہم ہے، لیکن تیزی سے بڑھنے والے کینسر کے خلیے اس پر کہیں زیادہ انحصار کرسکتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر توانائی پیدا کرنے اور مسلسل تقسیم ہونے کے عمل کے دوران آکسیڈیٹو دباؤ پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے۔

یہیں سے سائنس دانوں نے ایک اہم سوال اٹھایا: اگر کینسر کے خلیے کا یہی حفاظتی نظام بند کردیا جائے تو کیا وہ اپنے ہی اندر پیدا ہونے والے دباؤ کا مقابلہ کرسکے گا؟

مزید پڑھیں

ٹیومر کے دفاع کو ہی کمزوری بنانا

کینسر کے خلیے تیزی سے بڑھتے اور تقسیم ہوتے ہیں۔ 

اس عمل کے دوران توانائی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے اور ساتھ ہی ایسے کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں جو زیادہ مقدار میں خلیے کے لیے نقصان دہ بن سکتے ہیں۔

اگر ان مادوں کی سطح حد سے بڑھ جائے تو پروٹین، چکنائی اور ڈی این 

اے کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور بالآخر خلیہ مر سکتا ہے۔

اسی لیے کینسر کے خلیے اپنے اندر طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ نظام برقرار رکھتے ہیں۔ 

PRX3 ان میں سے ایک اہم دفاعی عنصر ہے جو مائٹوکانڈریا کے اندر ہائیڈروجن پرآکسائیڈ جیسے مادوں کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
تجرباتی دوا
RSO-021
بنیادی ہدف
PRX3
دوا کی بنیاد
Thiostrepton
کلینیکل مرحلہ
Phase I
نمایاں خوراک
90 ملی گرام، ہفتہ وار
بنیادی کینسر
پلورل میسوتھیلیوما
اہم نتیجہ
12 ہفتوں بعد 9 قابلِ جائزہ مریضوں میں سے 6 میں بیماری پر قابو
اہم احتیاط
یہ شفا کی شرح نہیں بلکہ disease control rate ہے
overseaspost.net

محققین نے اس پروٹین کو Thiostrepton نامی مادے کے ذریعے نشانہ بنایا۔ 

اسی مادے سے تیار کی گئی تجرباتی دوا کو RSO-021 کا نام دیا گیا ہے۔

لیبارٹری تجربات میں جب جینیاتی تکنیک CRISPR کے ذریعے PRX3 کو غیر فعال کیا گیا تو کینسر کے خلیوں کی افزائش متاثر ہوئی، مائٹوکانڈریا کی کارکردگی کم ہوئی اور خلیوں کے اندر آکسیڈیٹو دباؤ بڑھ گیا۔

انسانوں پر ابتدائی تجربہ

تحقیق کا اہم مرحلہ اس وقت آیا جب دوا کو انسانوں پر فیز ون کلینیکل ٹرائل میں آزمایا گیا۔

اس ابتدائی تجربے میں 15 مریض شامل تھے۔ 

ان میں زیادہ تر کو پلورل میسوتھیلیوما نامی کینسر تھا، جو پھیپھڑوں کے گرد موجود جھلی کو متاثر کرتا ہے اور اکثر ایسبیسٹوس کی نمائش سے منسلک ہوتا ہے۔

مریضوں میں بیماری پہلے سے موجود علاج کے باوجود آگے بڑھ چکی تھی۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ تحقیق کیوں اہم ہے؟

اس تحقیق کا اصل وزن کسی ایک دوا سے زیادہ اس نئی حکمت عملی میں ہے کہ کینسر کے خلیے کی اپنی دفاعی ڈھال کو کمزور کیا جائے۔

نیا حیاتیاتی ہدف
کینسر کے آکسیڈیٹو دفاع کو براہِ راست نشانہ بنانا
مائٹوکانڈریا پر توجہ
خلیے کی توانائی اور اندرونی دباؤ کے نظام پر حملہ
کمزور مقام
کینسر کی تیز نشوونما خود اس کے اندر زیادہ کیمیائی دباؤ پیدا کرتی ہے
مستقبل کی سمت
PRX3 کے ساتھ مزاحمتی راستوں کو بھی بیک وقت نشانہ بنایا جاسکتا ہے
اصل تصور: اگر حفاظتی نظام بند ہو جائے تو کینسر کا خلیہ اپنے ہی پیدا کردہ آکسیڈیٹو دباؤ سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے۔
overseaspost.net

دوا کو رگ کے ذریعے پورے جسم میں پھیلانے کے بجائے ہفتے میں ایک بار براہ راست پھیپھڑوں کے گرد موجود خلاء میں دیا گیا۔ 

اس طریقے کا مقصد یہ تھا کہ دوا کی زیادہ مقدار براہ راست ٹیومر کے قریب پہنچے جبکہ باقی جسم پر اس کے اثرات محدود رہیں۔

67 فیصد کا مطلب کیا ہے؟

مطالعے میں سب سے زیادہ توجہ 90 ملی گرام کی خوراک پر ملنے والے نتائج نے حاصل کی۔

اس خوراک پر علاج حاصل کرنے والے اور قابلِ جائزہ نو مریضوں میں سے 6 میں 12 ہفتوں بعد بیماری قابو میں رہی۔ یہ شرح تقریباً 67 فیصد بنتی ہے۔

لیکن اس عدد کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ 67 فیصد مریض کینسر سے صحت یاب ہوگئے۔

✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا ثابت ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟

مصدقہ معلومات

  • PRX3 کو نشانہ بنانے سے تجربہ گاہ میں میسوتھیلیوما خلیوں کی افزائش متاثر ہوئی۔
  • RSO-021 کو انسانوں میں فیز ون آزمائش میں استعمال کیا جاچکا ہے۔
  • 90 ملی گرام خوراک پر 12 ہفتوں بعد 6/9 قابلِ جائزہ مریضوں میں بیماری قابو میں رہی۔
  • ایک مریض میں جزوی ٹیومر کمی ریکارڈ ہوئی۔

ابھی ثابت نہیں

  • یہ ثابت نہیں کہ دوا مجموعی بقا کو بڑھاتی ہے۔
  • یہ کینسر کا حتمی علاج نہیں۔
  • نتائج تمام اقسام کے کینسر پر لاگو نہیں کیے جاسکتے۔
  • بڑے تقابلی ٹرائلز کے بغیر موجودہ علاج سے برتری ثابت نہیں۔
ادارتی احتیاط: “67 فیصد مریض صحت یاب” لکھنا غلط ہوگا؛ درست تعبیر “67 فیصد قابلِ جائزہ مریضوں میں بیماری 12 ہفتوں بعد قابو میں رہی” ہے۔
overseaspost.net

ان 6 مریضوں میں صرف ایک میں ٹیومر واضح طور پر سکڑا، جسے جزوی ردعمل قرار دیا گیا، جبکہ پانچ مریضوں میں بیماری ایک مدت تک مزید آگے نہیں بڑھی۔

جس مریض میں ٹیومر سکڑا، اس میں کمی تقریباً 60.7 فیصد تک ریکارڈ کی گئی اور یہ اثر کئی ہفتوں تک برقرار رہا۔

مجموعی طور پر ان مریضوں میں بیماری کے مزید بڑھنے کے بغیر درمیانی مدت تقریباً 18 ہفتے رہی۔

مضر اثرات بھی سامنے آئے

ابتدائی نتائج کے مطابق 90 ملی گرام کی خوراک عمومی طور پر قابلِ برداشت رہی، تاہم زیادہ خوراکوں پر زیادہ سنگین اثرات سامنے آئے۔

1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

کینسر کے خلیے تیزی سے بڑھتے ہیں اور اس دوران اپنے اندر زیادہ آکسیڈیٹو دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے وہ PRX3 جیسے حفاظتی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔

تجرباتی دوا RSO-021 اسی حفاظتی پروٹین کو نشانہ بناتی ہے، تاکہ کینسر کا خلیہ اپنے ہی اندر پیدا ہونے والے دباؤ کے سامنے زیادہ کمزور پڑ جائے۔

فیز ون آزمائش میں 90 ملی گرام خوراک پر 9 قابلِ جائزہ مریضوں میں سے 6 میں 12 ہفتوں بعد بیماری قابو میں رہی، لیکن اسے ابھی علاج یا شفا ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

overseaspost.net

120 اور 180 ملی گرام کی خوراکوں پر بعض مریضوں میں شدید سوزش اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل دیکھے گئے۔

دیگر عام مضر اثرات میں تھکن، بخار، خون کی کمی، کھانسی اور بلڈ پریشر میں کمی شامل تھی۔ زیادہ تر اثرات ہلکی یا درمیانی نوعیت کے تھے۔

کینسر مزاحمت بھی پیدا کرسکتا ہے

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کینسر کے خلیے PRX3 پر حملے کے باوجود متبادل دفاعی راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔

محققین نے SLC7A11 نامی ایک اور پروٹین کی نشاندہی کی جو بعض حالات میں کینسر کے خلیوں کو اس علاج کے خلاف مزاحمت میں مدد دے سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | HOW IT WORKSدوا کیسے کام کرنے کی کوشش کرتی ہے؟
  • 1کینسر کی تیز رفتار نشوونما مائٹوکانڈریا میں زیادہ آکسیڈیٹو دباؤ پیدا کرتی ہے۔
  • 2PRX3 اس دباؤ کو کم کرنے والے اہم اینٹی آکسیڈنٹ دفاع کا حصہ ہے۔
  • 3RSO-021 کا مقصد PRX3 کی فعالیت کو روک کر حفاظتی ڈھال کمزور کرنا ہے۔
  • 4دفاع کم ہونے پر آکسیڈیٹو نقصان بڑھ سکتا ہے اور کینسر کے خلیے کی بقا مشکل ہوسکتی ہے۔
  • 5محققین نے SLC7A11 کو ایک ممکنہ مزاحمتی راستے کے طور پر بھی شناخت کیا ہے۔
overseaspost.net

اسی لیے سائنس دان مستقبل میں PRX3 اور SLC7A11 دونوں کو بیک وقت نشانہ بنانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ 

تاہم یہ خیال ابھی ابتدائی تحقیق تک محدود ہے۔

کیا یہ کینسر کا نیا علاج ہے؟

اس تحقیق کو کینسر کا حتمی علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

یہ ایک چھوٹے پیمانے کی فیز ون آزمائش تھی، جس کا بنیادی مقصد دوا کی حفاظت، مناسب خوراک اور جسم کے ردعمل کا جائزہ لینا ہوتا ہے، نہ کہ یہ ثابت کرنا کہ دوا موجودہ علاج سے بہتر ہے۔

OVERSEAS POST | TRIAL DATAکلینیکل آزمائش کے نمایاں اعداد
فیز ون میں شامل مریض
15
میسوتھیلیوما کے مریض
12
قابلِ جائزہ مریض
9
12 ہفتوں بعد بیماری قابو میں
6 مریض (67%)
جزوی ردعمل
1 مریض
بیماری مستحکم
5 مریض
زیادہ سے زیادہ رپورٹ شدہ ٹیومر کمی
تقریباً 60.7%
بیماری بڑھے بغیر درمیانی مدت
تقریباً 18 ہفتے
زیادہ خوراکوں، خصوصاً 120 اور 180 ملی گرام، پر شدید سوزش اور سانس میں دشواری جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔
overseaspost.net

اس کے علاوہ انسانی نتائج زیادہ تر ایک مخصوص قسم کے کینسر، یعنی پلورل میسوتھیلیوما سے متعلق ہیں۔ اس لیے انہیں تمام اقسام کے کینسر پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

تاہم تحقیق کی اہمیت اس تصور میں ہے کہ کینسر کے خلیے کو باہر سے زیادہ نقصان پہنچانے کے بجائے اس کے اندر موجود حفاظتی ڈھال کو توڑا جائے، تاکہ وہ اپنے ہی پیدا کردہ کیمیائی دباؤ سے کمزور ہو جائے۔

اگر آئندہ بڑے کلینیکل ٹرائلز میں بھی یہ طریقہ مؤثر ثابت ہوا تو PRX3 کو نشانہ بنانا کینسر کے علاج میں ایک نئی حکمت عملی بن سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے