🛡️
اگر OTP چوری ہو جائے تو کیا ہوگا؟
+
اگر OTP چوری ہو جائے تو کیا ہوگا؟
او ٹی پی چوری ہونے کے باوجود ہیکر لاگ ان نہیں ہو سکے گا
ماضی میں ایس ایم ایس کے ذریعے آنے والا 6 ہندسوں کا کوڈ یا OTP حاصل کر لینا اکاؤنٹ پر قبضے کے لیے کافی ہوتا تھا۔ لیکن واٹس ایپ کے نئے نظام میں مکمل حروف، اعداد اور علامات پر مشتمل الفانیومیرک پاس ورڈ دوسری ناگزیر رکاوٹ بن جائے گا، جس کے بغیر اکاؤنٹ نئے آلے پر نہیں کھل سکے گا۔
🔒 6 ہندسوں کا اندازہ لگانا اب ماضی کی بات
محدود اعداد پر مشتمل پرانا پن کوڈ خودکار ٹولز سے کریک ہونا ممکن تھا، مگر اب پیچیدہ اور طویل پاس ورڈ ہیکرز کے بروٹ فورس حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دے گا۔
📲 اصل ڈیوائس پر فوری الرٹ کی ترسیل
اگر کوئی غلط پاس ورڈ کے ساتھ لاگ ان کی کوشش کرے گا تو آپ کے موجودہ فون پر سیکیورٹی الرٹ اور تصدیقی ونڈو ظاہر ہو جائے گی، جس سے آپ فوری طور پر لاگ ان منسوخ کر سکیں گے۔
🔑 پاس کیز (Passkeys) کا محفوظ متبادل
اگر ہیکر آپ کو باتوں میں الجھا کر او ٹی پی حاصل بھی کر لے، تب بھی وہ آپ کے فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی کی بائیو میٹرک تصدیق حاصل نہیں کر سکتا، جس سے رسائی ناممکن رہے گی۔
⚠️ فوری حفاظتی تدبیر
کبھی بھی کسی کال یا میسج پر موصولہ کوڈ شیئر نہ کریں۔ اگر کوڈ چوری کا شک ہو تو فوراً واٹس ایپ سیٹنگز میں جا کر ٹو اسٹیپ پاس ورڈ تبدیل کریں تاکہ سیشنز لاگ آؤٹ ہو جائیں۔
واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کا خوف اب صرف کسی مشکوک لنک تک محدود نہیں رہا۔
فراڈ کرنے والے کبھی OTP مانگتے ہیں، کبھی جعلی کال کے ذریعے اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی صارف کو ایسی چال میں پھنساتے ہیں کہ اکاؤنٹ ان کے کنٹرول میں چلا جائے۔
مزید پڑھیں
اب واٹس ایپ نے اسی خطرے کے مقابلے کے لیے اپنی سیکیورٹی کی کئی تہیں مزید مضبوط کردی ہیں۔
6 ہندسوں کا PIN اب کافی نہیں
سب سے بڑی تبدیلی ٹو اسٹیپ ویری فکیشن میں آرہی ہے۔ اب تک واٹس ایپ اضافی سیکیورٹی کے لیے 6 ہندسوں کا PIN استعمال کرتا تھا، مگر کمپنی اسے مکمل پاس ورڈ میں بدل رہی ہے۔
صارف طویل پاس ورڈ میں حروف، اعداد اور خصوصی علامات شامل کرسکے گا۔
واٹس ایپ نے او ٹی پی چوری اور نامعلوم کالز کے ذریعے ہونے والے دھوکے سے نمٹنے کے لیے مکمل پاس ورڈ اور موبائل کے اندر خودکار حفاظتی نظام متعارف کرایا ہے۔
روایتی چھ ہندسوں کے سادہ پن کوڈ کی جگہ اب حروف اور علامات پر مشتمل طویل پاس ورڈ لے گا تاکہ تصدیقی کوڈ چوری ہونے پر بھی اکاؤنٹ محفوظ رہے۔
ایک ارب سے زائد افراد فنگر پرنٹ اور چہرے کی شناخت سے اکاؤنٹ کھول رہے ہیں جبکہ اب ایک ہی اکاؤنٹ پر بیک وقت متعدد پاس کیز جوڑی جا سکتی ہیں۔
کسی بھی انجان کال پر اب نمبر کا ملکی اندراج اور باہمی گروپس کی تفصیلات اسکرین پر ظاہر ہوں گی تاکہ صارف جلد بازی میں فراڈ کا نشانہ نہ بنے۔
مشکوک پیغامات کی جانچ موبائل کے اندر موجود مشین لرننگ کرے گی، جس میں صارف کا نجی مواد کسی بیرونی سرور یا کلاؤڈ پر بھیجے بغیر الرٹ جاری ہوگا۔
اس کا اصل فائدہ اس وقت سامنے آتا ہے جب کسی فراڈیے کے ہاتھ آپ کا ایک مرتبہ استعمال ہونے والا تصدیقی کوڈ یا OTP لگ جائے۔
مضبوط اضافی پاس ورڈ اکاؤنٹ پر قبضہ مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ واٹس ایپ بھی صارفین کو آسان یا اندازہ لگائے جانے والے پاس ورڈ سے بچنے کا مشورہ دیتا ہے۔
⚙️
واٹس ایپ کی نئی سکیورٹی میں کیا بدلا؟
▼
واٹس ایپ کی نئی سکیورٹی میں کیا بدلا؟
6 ہندسوں کے پن کی جگہ مکمل پاس ورڈ
اب روایتی پن کے بجائے حروف، ہندسوں اور خصوصی علامات پر مشتمل مضبوط پاس ورڈ بنایا جا سکے گا، جس سے اندازہ لگا کر یا رینڈم ٹرائلز کے ذریعے اکاؤنٹ ہیک کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
ایک سے زیادہ Passkeys کا دائرہ
ایک ارب سے زائد صارفین کے لیے اب اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں ڈیوائسز پر الگ الگ پاس کیز رجسٹر کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جس سے پاس ورڈ یاد رکھے بغیر فنگر پرنٹ سے لاگ ان ممکن ہوگا۔
کنٹری کوڈ اور مشترکہ گروپس کی تفصیل
کال اسکرین پر اب نمبر کے ساتھ رجسٹرڈ ملک کا نام اور آپ کے ساتھ باہمی گروپس کی معلومات ظاہر ہوں گی، تاکہ فراڈ کال کا بروقت اندازہ ہو سکے اور 'Silence Unknown Callers' سے اسے روکا جا سکے۔
Scam Alert فیچر اور لوکل سیکیورٹی
مشتبہ پیغامات کی جانچ اب فون کے اندر موجود مشین لرننگ ماڈل خود کرے گا بغیر کوئی میسج کمپنی یا میٹا کے سرورز کو بھیجے، اور خطرہ محسوس ہونے پر صارف کو فوری وارننگ دے گا۔
فنگر پرنٹ ہی بن جائے گا آپ کی چابی
واٹس ایپ کے مطابق ایک ارب سے زیادہ افراد اب Passkeys استعمال کر رہے ہیں۔ اس نظام میں روایتی کوڈ یاد رکھنے کے بجائے فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت یا فون کا اسکرین لاک اکاؤنٹ کی شناخت ثابت کرتا ہے۔
نئی بات یہ ہے کہ اب ایک ہی اکاؤنٹ کے ساتھ ایک سے زیادہ Passkeys بھی شامل کی جاسکتی ہیں، جو خاص طور پر ان افراد کے لیے کارآمد ہے جو اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں استعمال کرتے ہیں۔
اسے Settings، پھر Account اور Passkeys میں جا کر سیٹ کیا جاسکتا ہے۔
پاکستانی صارفین کو سب سے زیادہ فائدہ کہاں ہوگا؟
+
پاکستانی صارفین کو سب سے زیادہ فائدہ کہاں ہوگا؟
بینکنگ اور جعلی انعامات کے نام پر ہونے والے دھوکے کا توڑ
پاکستان میں واٹس ایپ پر بینظیر انکم سپورٹ، جعلی لاٹری، ملازمت کے جھانسے اور بینکنگ نمائندہ بن کر او ٹی پی مانگنے کا نیٹ ورک سب سے زیادہ سرگرم ہے۔ نئے فیچرز مقامی صارفین کے لیے حفاظتی ڈھال ثابت ہوں گے۔
جعلی کنٹری کوڈز کے فراڈ کا خاتمہ
فراڈیے اکثر افریقی یا دور دراز ممالک کے ورچوئل نمبرز خرید کر کال کرتے ہیں۔ اسکرین پر رجسٹرڈ ملک کا نام اور مشترکہ گروپ کی تفصیل دیکھ کر پاکستانی صارفین فوری طور پر محتاط ہو سکیں گے۔
کوڈز کے جھنجھٹ کے بغیر فنگر پرنٹ لاگ ان
کم پڑھے لکھے یا بزرگ صارفین کو او ٹی پی اور پن یاد رکھنے کی پریشانی نہیں ہوگی۔ ان کا انگوٹھا یا چہرہ ہی اکاؤنٹ کی چابی بن جائے گا جسے کوئی فون پر دھوکے سے نہیں مانگ سکتا۔
Scam Alert سے جعلی اسکیموں کی نشاندہی
نامعلوم نمبر سے انعامی رقم یا جلدی فیصلہ کرنے والے پیغامات پر فون کا اپنا AI سسٹم فوری طور پر انتباہی بینر دکھائے گا، جس سے عام صارف غلطی کرنے سے پہلے ہی خبردار ہو جائے گا۔
نامعلوم کالز کو خودکار خاموش کرنا
سیٹنگز میں 'Silence Unknown Callers' آن کرنے سے غیر متعلقہ گھنٹیوں اور تنگ کرنے والی فیک کالز کی خودکار روک تھام ہو سکے گی، جس سے واٹس ایپ کا استعمال پرسکون رہے گا۔
نامعلوم کال آئے تو پہلے یہ معلومات دیکھیں
اینڈرائیڈ پر نامعلوم واٹس ایپ کال اب پہلے سے زیادہ معلومات کے ساتھ دکھائی جائے گی۔
صارف جان سکے گا کہ نمبر کسی دوسرے ملک میں رجسٹرڈ ہے یا نہیں اور کال کرنے والے کے ساتھ کوئی مشترکہ واٹس ایپ گروپ موجود ہے یا نہیں۔
یہ چھوٹی سی تبدیلی اہم ہوسکتی ہے، کیونکہ فراڈ کرنے والے اکثر جلدی، خوف یا لالچ پیدا کرکے فوری فیصلہ کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔
صارف چاہے تو Privacy سیٹنگز میں Silence Unknown Callers بھی فعال کرسکتا ہے۔
🚫
فراڈ کرنے والوں کے لیے اب کیا مشکل ہوگیا؟
➤
فراڈ کرنے والوں کے لیے اب کیا مشکل ہوگیا؟
صرف باتوں میں الجھا کر OTP چھیننا اب بے کار
ماضی میں فون کال پر دباؤ ڈال کر 6 ہندسوں کا ون ٹائم پاس ورڈ مانگ لیا جاتا تھا۔ اب نئے سسٹم میں مضبوط ثانوی پاس ورڈ درکار ہوگا جو صارف کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا، جس سے چوری شدہ او ٹی پی بیکار ہو جائے گا۔
فرضی اور غیر ملکی نمبرز کا جھوٹ پکڑا گیا
حملہ آور اکثر نامعلوم غیر ملکی سمز یا انٹرنیٹ جنریٹڈ نمبرز سے کال کر کے بینک افسر بنتے تھے۔ اسکرین پر ملک کا واضح نام اور مشترکہ روابط کا عدم وجود دیکھ کر اب فراڈیے کی شناخت کھل جائے گی۔
مشکوک الفاظ اور فریب کاری پر AI کی پیشگی نظر
واٹس ایپ کا 'Scam Alert' ماڈل پیغامات کی زبان اور ہتھکنڈوں کی خودکار جانچ کرتا ہے۔ فراڈیے کی جعلی لالچ اور خوف دلانے والی چیٹس پر فوری انتباہ آنے سے شکار کا جال میں پھنسنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔
فراڈ پکڑنے کے لیے فون کے اندر AI
واٹس ایپ ایک اور دلچسپ نظام Scam Alert بھی محدود بیٹا میں آزما رہا ہے۔
یہ فون پر ہی چلنے والا مشین لرننگ ماڈل ہے جو نامعلوم نمبروں سے آنے والے پیغامات میں فراڈ کے ممکنہ انداز تلاش کرتا ہے، تاکہ صارف کو زیادہ سے زیادہ تحفظ حاصل ہو۔
اہم بات یہ ہے کہ جانچ کے لیے پیغام کا متن فون سے باہر نہیں جاتا اور نہ ہی مشکوک پیغام خودکار طور پر واٹس ایپ یا میٹا کو بھیجا جاتا ہے۔
🔑
کیا Passkeys پاس ورڈ کا متبادل بن جائیں گی؟
◀
کیا Passkeys پاس ورڈ کا متبادل بن جائیں گی؟
روایتی پاس ورڈز: بھولنے اور فشنگ کا بوجھ
پاس ورڈز کو یاد رکھنا مشکل ہے، لوگ اکثر آسان پن کوڈز رکھتے ہیں جو ہیک ہو جاتے ہیں، یا پھر فیک ویب سائٹس پر درج کر کے فشنگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیک کمپنیاں اس 60 سال پرانے نظام سے جان چھڑانا چاہتی ہیں۔
پاس کیز: بائیو میٹرک سیکیورٹی کا مستقبل
واٹس ایپ پر 1 ارب سے زیادہ افراد پاس کیز اپنا چکے ہیں۔ اس میں پاس ورڈ سرور پر محفوظ ہی نہیں ہوتا بلکہ آپ کے فون کا فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا اسکرین لاک سائن ان کا کام کرتا ہے، جسے انٹرنیٹ پر چوری کرنا ممکن نہیں۔
حتمی تکنیکی تجزیہ: اب ایک ہی اکاؤنٹ میں اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کی پاس کیز شامل کرنے کی سہولت کے بعد پاس ورڈز بتدریج متروک ہو جائیں گے اور پاس کیز ہی تمام میسجنگ و بینکنگ ایپس کا مستقل عالمی معیار بنیں گی۔
خطرہ محسوس ہو تو صارف کو وارننگ ملتی ہے، جس کے بعد وہ چیٹ بلاک، رپورٹ یا جاری رکھنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
اس طرح واٹس ایپ اب صرف اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن پر انحصار نہیں کررہا، بلکہ مضبوط پاس ورڈ، Passkeys، Device Verification، نامعلوم کالر کی معلومات اور فون کے اندر فراڈ شناخت کرنے والا AI مل کر ایک ایسی سیکیورٹی دیوار بنا رہے ہیں جس کا مقصد اکاؤنٹ چوری ہونے سے پہلے ہی حملہ آور کا راستہ مشکل بنانا ہے۔