واٹس ایپ کی تاریخ میں سب سے بڑی تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں کمپنی ’میٹا‘ نے باضابطہ طور پر ’یوزر نیم‘ کا فیچر متعارف کروا دیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس اقدام سے 3 ارب سے زائد ماہانہ فعال صارفین اب اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر نجی اور کاروباری مواصلات جاری رکھ سکیں گے۔
یوزر نیم فیچر کا مقصد اور اہمیت
اس نئی تبدیلی کا بنیادی مقصد صارفین کو ڈیجیٹل شناخت کے لیے فون نمبر پر انحصار ختم کرنے میں مدد دینا ہے۔
یہ فیچر نہ صرف سیکیورٹی کی نئی سطحیں فراہم کرے گا بلکہ
پروفیشنل اور ذاتی سطح پر رابطوں میں لچک اور آسانی پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی رائے
سائبر سیکیورٹی کے ماہر ڈاکٹر محمد محسن رمضان کے مطابق یہ اقدام کاروباری افراد اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
اس فیچر سے ذاتی ڈیٹا کے لیک ہونے، غیر قانونی مارکیٹنگ اور سم سواپنگ جیسی خطرناک وارداتوں کے سدِ باب میں نمایاں مدد ملے گی اور ڈیٹا محفوظ رہے گا۔
فراڈ اور شناخت کا خطرہ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیچر ممکنہ طور پر جعلسازی کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔
خدشہ ہے کہ ہیکرز مشہور شخصیات یا اداروں کے ناموں سے ملتے جلتے یوزر نیم بنا کر سوشل انجینئرنگ اور شناخت چرانے (Identity Theft) جیسے ہتھکنڈے استعمال کر سکتے ہیں، جس سے صارفین دھوکا کھا سکتے ہیں۔
میٹا کے حفاظتی اقدامات
ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر میٹا نے حفاظتی تدابیر اختیار کی ہیں، جن میں سرکاری اداروں کے نام پہلے سے محفوظ کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ واٹس ایپ نے فیس بک اور انسٹاگرام کے ساتھ ڈیجیٹل شناخت کو مربوط کرنے کا آپشن دیا ہے، جبکہ عوامی سرچ ڈائریکٹری کو محدود رکھا گیا ہے۔
سوشل انجینئرنگ کے چیلنجز
سابقہ حکومتی عہدیدار میجر جنرل (ر) طارق عطیہ کا کہنا ہے کہ تکنیکی حفاظتی فیچرز کے باوجود ’سوشل انجینئرنگ‘ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
ہیکرز اب بھی صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے صرف تکنیکی فیچرز پر بھروسہ کرنا کافی نہیں ہوگا۔
واٹس ایپ کا تاریخی اقدام: یوزر نیم فیچر
فون نمبر ظاہر کیے بغیر نجی اور کاروباری چیٹ ممکن، مگر نئے چیلنجز کا سامنا
by: overseaspost.net
آگاہی ، بہترین دفاع
ٹیک ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتی۔ واٹس ایپ کی نئی اپ ڈیٹ تحفظ تو فراہم کرتی ہے، لیکن حقیقی سیکیورٹی کا انحصار صارف کے شعور پر ہے۔
لہٰذا کسی بھی نامعلوم شخص سے ڈیٹا شیئر کرنے سے قبل تصدیقی عمل کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔