سعودی عرب میں بٹ کوائن کو سرکاری طور پر تسلیم شدہ کرنسی کا درجہ حاصل نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بٹ کوائن سے منسلک ہر سرمایہ کاری ممنوع ہے۔
سعودی لائسنس یافتہ سرمایہ کاری ادارے عالمی منڈیوں اور ایسے مالیاتی فنڈز تک رسائی فراہم کرسکتے ہیں جو بٹ کوائن کی قیمت سے منسلک ہوں۔
اسی لیے براہِ راست بٹ کوائن خریدنے، لائسنس یافتہ فنڈز کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے اور IBIT جیسے فنڈ میں سرمایہ لگانے کے درمیان قانونی اور مالیاتی فرق سمجھنا ضروری ہے۔
فاریکس اور کرپٹو کے حوالے سے گزشتہ روز شائع ہونے والی رپورٹ پر ایک قاری کی طرف سے اہم سوال کیا گیا ہے:
آپ نے بتایا تھا کہ بٹ کوائن سعودی عرب میں منظور شدہ کرنسی نہیں۔
لیکن دوسری طرف سعودی عرب میں لائسنس یافتہ سرمایہ کاری ادارے ایسے والٹ پیش کررہے ہیں جن میں بٹ کوائن شامل ہے، جبکہ بعض لائسنس یافتہ تجارتی پلیٹ فارمز کے ذریعے بٹ کوائن سے منسلک امریکی فنڈز، مثلاً IBIT، میں بھی سرمایہ کاری ممکن ہے۔
اگر ایسا ہے تو دونوں باتیں ایک ساتھ کیسے درست ہوسکتی ہیں؟
جواب
اس سوال کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ایک بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے:
کسی چیز کا سعودی عرب میں سرکاری کرنسی نہ ہونا، اور اس سے منسلک ہر قسم کی سرمایہ کاری کا غیر قانونی ہونا ایک ہی بات نہیں۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSبٹ کوائن اور سعودی سرمایہ کاری — اہم نکات ⌄
- ✓بٹ کوائن سعودی عرب کی سرکاری کرنسی نہیں، مگر اس سے منسلک ہر سرمایہ کاری غیر قانونی نہیں ہوتی۔
- ✓سعودی لائسنس یافتہ ادارے بعض اوقات عالمی منڈیوں اور بٹ کوائن سے منسلک فنڈز تک رسائی دیتے ہیں۔
- ✓IBIT جیسے فنڈ میں سرمایہ کاری براہِ راست بٹ کوائن خریدنے سے مختلف ہے۔
- ✓اصل فرق اس بات میں ہے کہ سرمایہ کاری کس ذریعے، کس مالیاتی آلے اور کس لائسنس یافتہ ادارے کے ذریعے ہورہی ہے۔
بٹ کوائن سعودی ریال کی طرح مملکت کی سرکاری یا منظور شدہ کرنسی نہیں۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ بٹ کوائن کی قیمت سے منسلک ہر مالیاتی آلہ یا ہر سرمایہ کاری والٹ یا فنڈ لازماً غیر قانونی ہے۔
2018 میں سعودی موقف کیا تھا؟
2018 میں سعودی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کی سربراہی میں قائم سرکاری کمیٹی نے بٹ کوائن سمیت مجازی کرنسیوں سے خبردار کیا تھا۔
اس وقت کہا گیا تھا کہ ایسی کرنسیاں مملکت میں منظور شدہ نہیں اور ان میں سرمایہ کاری سعودی مالیاتی نگرانی اور تحفظ کے دائرے سے باہر تھی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: اصل فرق کیا ہے؟ ⌄
یہ بیان اس وقت کی صورتِ حال بیان کرتا تھا، جب سعودی مالیاتی بازار میں بٹ کوائن سے منسلک منظم سرمایہ کاری کے ذرائع موجود نہیں تھے یا عام سرمایہ کاروں تک اس شکل میں نہیں پہنچے تھے۔
بعد میں عالمی منڈیوں میں ایسے مالیاتی ذرائع سامنے آئے جن کے ذریعے بٹ کوائن کو براہِ راست خریدے بغیر اس کی قیمت سے منسلک سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔
IBIT کیا ہے؟
IBIT ایک امریکی بازار میں درج بٹ کوائن سے منسلک سرمایہ کاری فنڈ ہے، جسے بلیک راک چلاتا ہے۔
اس فنڈ میں سرمایہ لگانے والا شخص براہِ راست بٹ کوائن خرید کر اپنے ڈیجیٹل بٹوے میں نہیں رکھتا۔
وہ ایک ایسی مالیاتی سکیورٹی کے حصص خریدتا ہے جس کی قیمت بٹ کوائن کی قدر سے منسلک ہوتی ہے۔
2018 OVERSEAS POST | CONTEXT2018 میں سعودی موقف کیا تھا؟ ⌄
2018 میں سعودی سرکاری کمیٹی نے بٹ کوائن سمیت مجازی کرنسیوں سے متعلق سخت تنبیہ جاری کی تھی۔
- ✓اس وقت یہ کرنسیاں مملکت میں منظور شدہ نہیں تھیں۔
- ✓اس وقت ان میں سرمایہ کاری مقامی مالیاتی نگرانی اور تحفظ سے باہر تھی۔
- ✓یہ بیان اس دور کی ضابطہ جاتی صورتِ حال بیان کرتا تھا۔
یہی اہم فرق ہے۔
براہِ راست بٹ کوائن خریدنا اور بٹ کوائن سے منسلک کسی بازار میں درج فنڈ میں سرمایہ کاری کرنا قانونی اور مالیاتی اعتبار سے ایک ہی چیز نہیں۔
سعودی لائسنس یافتہ ادارے یہ سہولت کیسے دیتے ہیں؟
سعودی عرب میں کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی سے لائسنس یافتہ بعض سرمایہ کاری ادارے اپنے صارفین کو عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی دیتے ہیں۔
ان عالمی منڈیوں میں حصص کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے سرمایہ کاری فنڈز بھی موجود ہوتے ہیں۔
₿ OVERSEAS POST | EXPLAINERIBIT کیا ہے؟ ⌄
IBIT بلیک راک کا بٹ کوائن سے منسلک امریکی سرمایہ کاری فنڈ ہے۔
- ✓فنڈ کی قدر بٹ کوائن کی قیمت سے منسلک رہتی ہے۔
- ✓یہ براہِ راست بٹ کوائن خریدنے سے مختلف قانونی و مالیاتی صورت ہے۔
اگر کوئی سعودی لائسنس یافتہ ادارہ اپنے اجازت یافتہ دائرۂ کار کے اندر سرمایہ کار کو امریکی بازار میں درج ایسے فنڈ تک رسائی دیتا ہے جو بٹ کوائن سے منسلک ہے، تو یہ صورت براہِ راست کسی غیر ملکی کرپٹو پلیٹ فارم سے بٹ کوائن خریدنے سے مختلف ہے۔
اسی طرح بعض سعودی لائسنس یافتہ سرمایہ کاری محفظوں میں بٹ کوائن یا اس سے منسلک مالیاتی آلے کا محدود حصہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔
کیا اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب نے بٹ کوائن منظور کرلیا؟
نہیں۔
یہ نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں ہوگا۔
سعودی عرب میں بٹ کوائن اب بھی سرکاری کرنسی نہیں۔
نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر کرپٹو پلیٹ فارم مملکت میں اجازت یافتہ ہوگیا ہے۔
اصل فرق یہ ہے کہ آج بٹ کوائن سے مالی فائدہ یا نقصان حاصل کرنے کے کئی مختلف راستے موجود ہیں، اور ہر راستے کی قانونی حیثیت الگ ہوسکتی ہے۔
3 OVERSEAS POST | GUIDEبٹ کوائن میں سرمایہ کاری کے تین مختلف راستے ⌄
براہِ راست: کسی کرپٹو پلیٹ فارم پر بٹ کوائن خریدنا۔
لائسنس یافتہ محفظہ: ایسے سعودی سرمایہ کاری محفظے میں رقم لگانا جس میں بٹ کوائن یا اس سے منسلک آلہ شامل ہو۔
عالمی فنڈ: سعودی لائسنس یافتہ بروکر کے ذریعے IBIT جیسے امریکی فنڈ کے حصص خریدنا۔
تین صورتیں الگ الگ سمجھیں
پہلی صورت:
کوئی شخص براہِ راست کسی بیرون ملک کرپٹو پلیٹ فارم پر بٹ کوائن خریدتا ہے۔
دوسری صورت:
کوئی شخص کسی سعودی لائسنس یافتہ سرمایہ کاری محفظے میں رقم لگاتا ہے، اور اس والٹ میں بٹ کوائن یا اس سے منسلک مالیاتی آلہ شامل ہوتا ہے۔
تیسری صورت: کوئی شخص سعودی لائسنس یافتہ بروکر کے ذریعے امریکی بازار میں درج IBIT جیسے بٹ کوائن فنڈ کے حصص خریدتا ہے۔
⚖ OVERSEAS POST | REGULATIONسعودی لائسنس یافتہ ادارے یہ سہولت کیسے دیتے ہیں؟ ⌄
- ✓بعض سعودی لائسنس یافتہ ادارے صارفین کو عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی دیتے ہیں۔
- ✓ان منڈیوں میں حصص کے ساتھ ساتھ بازار میں خرید و فروخت ہونے والے فنڈز بھی شامل ہوتے ہیں۔
- ✓اس طرح بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی آلے تک رسائی، براہِ راست کرپٹو پلیٹ فارم پر خریداری سے الگ ہوتی ہے۔
ان تینوں کو صرف اس لیے ایک جیسا نہیں کہا جاسکتا کہ ان سب کا تعلق بٹ کوائن سے ہے۔
پہلی صورت میں سرمایہ کار براہِ راست کرپٹو اثاثے سے معاملہ کررہا ہے، جبکہ دوسری اور تیسری صورت میں درمیان میں ایک لائسنس یافتہ سرمایہ کاری ادارہ یا باقاعدہ مالیاتی سکیورٹی موجود ہوتی ہے۔
تو کیا پرانے سرکاری انتباہ اور آج کی صورتِ حال میں تضاد ہے؟
ضروری نہیں۔
2018 میں سرکاری انتباہ کا بنیادی مقصد شہریوں اور مقیم افراد کو ایسی مجازی کرنسیوں سے خبردار کرنا تھا جو اس وقت مقامی مالیاتی نگرانی سے باہر تھیں۔
بعد میں عالمی مالیاتی منڈیوں نے بٹ کوائن سے منسلک ایسے سرمایہ کاری فنڈز متعارف کرائے جو باقاعدہ اسٹاک مارکیٹ میں خریدے اور فروخت کئے جاتے ہیں۔
⇄ OVERSEAS POST | COMPARISONبراہِ راست بٹ کوائن اور فنڈ میں کیا فرق ہے؟ ⌄
اس لیے اصل تبدیلی یہ نہیں کہ بٹ کوائن سعودی عرب کی منظور شدہ کرنسی بن گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ بٹ کوائن سے مالی وابستگی حاصل کرنے کے نئے اور زیادہ منظم سرمایہ کاری ذرائع سامنے آگئے ہیں۔
مختصر جواب
قاری کے سوال کا خلاصہ یہ ہے:
بٹ کوائن کا سعودی عرب میں سرکاری کرنسی نہ ہونا، اس سے منسلک ہر سرمایہ کاری کے غیر قانونی ہونے کے برابر نہیں۔
سعودی لائسنس یافتہ سرمایہ کاری ادارے اپنے مجاز دائرۂ کار میں عالمی منڈیوں میں درج بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی فنڈز تک رسائی دے سکتے ہیں، اور بعض سرمایہ کاری والٹ میں بٹ کوائن سے متعلق حصہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔
لیکن اس سے نہ بٹ کوائن سعودی ریال کی طرح سرکاری کرنسی بن جاتا ہے، نہ ہر کرپٹو پلیٹ فارم سعودی عرب میں لائسنس یافتہ ہوجاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہونا چاہئے کہ سرمایہ کاری کس ذریعے، کس مالیاتی آلے اور کس لائسنس یافتہ ادارے کے ذریعے کی جارہی ہے۔